لاہور/اوکاڑہ — پاکستان کی سیاست کا ایک اہم باب بند ہو گیا۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور سینئر سیاستدان میاں منظور احمد وٹو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔ ان کے خاندانی ذرائع نے ان کی وفات کی تصدیق کر دی ہے۔
منظور وٹو، جو کئی دہائیوں تک ملکی سیاست میں متحرک رہے، اپنی منفرد سیاسی بصیرت اور جوڑ توڑ کی سیاست کے لیے مشہور تھے۔ ان کے انتقال پر سیاسی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مختصر سوانح حیات (Life Profile)

میاں منظور احمد وٹو کا تعلق ضلع اوکاڑہ کے علاقے حویلی لکھا سے تھا۔ وہ ایک روایتی زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے اور مقامی سطح سے سیاست کا آغاز کر کے ایوانِ اقتدار کی بلندیوں تک پہنچے۔
سیاسی کیریئر کے اہم موڑ:
سپیکر پنجاب اسمبلی: وہ 1985 سے 1993 تک پنجاب اسمبلی کے سپیکر رہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب: 1993 میں انہوں نے ایک ڈرامائی سیاسی چال کے ذریعے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سنبھالی۔ وہ 1993 سے 1995 اور پھر مختصر مدت کے لیے 1996 میں وزیراعلیٰ رہے۔
وفاقی وزارت: انہوں نے یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے دور حکومت میں وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر اور گلگت بلتستان کے طور پر خدمات انجام دیں۔
پارٹی وابستگی: اپنے کیریئر کے دوران وہ مسلم لیگ (جونیجو)، پاکستان مسلم لیگ (ق)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا حصہ رہے۔
سیاسی میراث
منظور وٹو کو “سیاسی جوڑ توڑ کا ماہر” کہا جاتا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ مشکل حالات میں اپنے لیے راستہ بنایا۔ اوکاڑہ میں ان کا خاندانی اثر و رسوخ بے مثال تھا، اور وہ دیہی سیاست کے نبض شناس سمجھے جاتے تھے۔
ان کے پسماندگان میں بیٹے خرم جہانگیر وٹو، روبینہ شاہین وٹو اور دیگر سوگواران شامل ہیں جو خود بھی سیاست میں سرگرم ہیں۔