چوگوس جزائر تنازع 44

چوگوس جزائر تنازع 2026: ڈونلڈ ٹرمپ کی شدید تنقید اور برطانیہ کا جواب

لندن/واشنگٹن — 21 جنوری 2026 برطانیہ اور ماریشس (Mauritius) کے درمیان چوگوس جزائر کی خودمختاری کی منتقلی کے معاہدے نے ایک نیا موڑ اختیار کر لیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے کو “انتہائی حماقت” قرار دینے کے بعد برطانوی وزیرِ اعظم کیر اسٹارمر نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔

حالیہ تنازع کیا ہے؟

گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں برطانیہ کے اس فیصلے پر شدید تنقید کی جس کے تحت چوگوس جزائر کی خودمختاری ماریشس کو دی جا رہی ہے۔

ٹرمپ کا مؤقف: انہوں نے اسے “کمزوری کی علامت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکی فوجی اڈے (ڈیگو گارسیا) کی سیکیورٹی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے اس معاملے کو گرین لینڈ (Greenland) کی خریداری کی اپنی خواہش سے بھی جوڑا۔

برطانیہ کا جواب (آج): برطانوی وزیرِ اعظم کیر اسٹارمر نے آج ایک بیان میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بدلا ہوا مؤقف محض برطانیہ پر گرین لینڈ کے معاملے میں دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے، لیکن برطانیہ اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

چوگوس جزائر کا معاہدہ

یاد رہے کہ مئی 2025 میں برطانیہ اور ماریشس نے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کی اہم شقیں درج ذیل ہیں:

خودمختاری کی منتقلی: برطانیہ چوگوس جزائر کی مکمل خودمختاری ماریشس کے حوالے کر دے گا۔

ڈیگو گارسیا (Diego Garcia): یہاں موجود اہم ترین یو ایس-یو کے فوجی اڈہ 99 سالہ لیز پر برطانیہ کے پاس رہے گا، جس کے لیے برطانیہ ماریشس کو سالانہ تقریباً 101 ملین پاؤنڈ ادا کرے گا۔

چوگوسی عوام کی واپسی: ماریشس کو اجازت ہوگی کہ وہ ڈیگو گارسیا کے علاوہ دیگر جزائر پر نکالے گئے مقامی لوگوں کو دوبارہ بسا سکے۔

برطانوی پارلیمنٹ میں قانون سازی

آج کل برطانوی پارلیمنٹ میں “ڈیگو گارسیا ملٹری بیس اور برٹش انڈین اوشن ٹیریٹری بل” پر بحث جاری ہے۔ کل (20 جنوری) ہاؤس آف کامنز نے اس بل میں ترامیم پر غور کیا تاکہ اس معاہدے کو قانونی شکل دی جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں