1

قومی پیغام امن کمیٹی کی یکجہتی، تحفظ اور امن کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو سراہتے ہیں قائمقام صدر آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر

ڈیلی دومیل نیوز،قائمقام صدر آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر نے کہا ہے کہ ہم قومی پیغام امن کمیٹی کی یکجہتی، تحفظ اور امن کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں مذہبی و مسلکی ہم آہنگی اپنے نقطہ عروج پر ہے۔ آزاد کشمیر سمیت پاکستان بھر میں ہر قسم کی عفریت کے خاتمے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ انشاء اللہ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی ہر مشکل گھڑی میں بے پناہ مدد کی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی قیادت نے تحریک آزادی کشمیر کے لیے اَن گنت قربانیاں دی ہیں، کشمیری قیادت کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ مملکتِ خداداد پاکستان نے عالمی سطح پر حالیہ ایران جنگ میں متوازن پالیسی اپنائی ہے اورخطے میں قیام امن کے لیے بھرپور کردار ادا کیا ہے، آپریشن بنیان المرصوص کے بعد سفارتی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔قائم مقام صدر ریاست آزاد جموں وکشمیر چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر کے دوران کشمیر یوں نے اَن گنت قربانیاں دی ہیں۔ صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارکل سید عاصم منیر کی قیادت میں ملکی وقار میں اضافہ بے باک اور دلیر لیڈر شپ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 1947 کے بعد تقسیم شدہ خاندانوں کی بے شمار داستانیں آج بھی زندہ ہیں، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے ظلم و ستم کا ایک بدترین سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے کشمیری حریت قیادت کو خاص نشانہ بنایا ہے۔ ہندوستان نے حریت رہنماؤں سید علی گیلانی، اشرف صحرائی اور شیخ عبدالمجید کو جان بوجھ کر شہید کیا، جبکہ حریت رہنما سید شبیر شاہ نے آزادی کی جدوجہد میں 37 سال قید کاٹی۔ آج بھی بھارت نام نہاد ایکٹس کا نفاذ کر کے کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی نیت میں فتور ہے اور وہ فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے ایل او سی پر بھی حالات کو مزید خراب کرنا چاہتا ہے۔ قائم مقام صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ بھارت کی عدالتی تاریخ قابلِ اعتبار نہیں ہے، مقبوضہ کشمیر میں نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر اقلیتیں بھی نالاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو مسئلہ کشمیر سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کشمیری عوام پاکستان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، تقسیم ہندکے وقت کشمیریوں نے غازی ملت کے گھر قیام پاکستان سے قبل الحاقِ پاکستان کی قرارداد منظور کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انشاء اللہ کشمیر ایک دن ضرور آزاد ہوگا۔چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کا ساتھ دیا ہے۔ حکومت پاکستان نے قدرتی آفات، بالخصوص 2005 کے زلزلے میں کشمیریوں کی بھرپور امداد کی۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان فرق واضح ہے۔ آزاد کشمیر میں آئین کے تحت ایک بااختیار حکومت قائم ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط قائم ہے۔انہوں نے پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ میں پاکستان کی امن کے قیام کے لیے مخلصانہ کاوشوں کی دنیا معترف ہے۔انہوں نے قومی پیغام امن کمیٹی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی معاشرے میں ہم آہنگی، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کاوش کے ذریعے مختلف طبقات کے درمیان اعتماد بحال کرنے اور نفرت کے خاتمے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ آزاد کشمیر کو مذہبی و مسلکی ہم آہنگی، اتحاد و یگانگت سے بھرپور خطہ بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔تقریب سے خطاب میں قومی پیغام امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر اور ممتاز عالم دین مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی ملک میں انتہاپسندی کے خاتمے اور قیامِ امن کے لیے بھرپور انداز میں متحرک ہے، کشمیر سے رشتہ کلمہ کی بنیاد پر ہے، کشمیری ہمارے بھائی ہیں، بھارت کو کشمیر میں امن ہضم نہیں ہورہا، حکومت پاکستان آزادکشمیر کی ترقی کے لیے بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی قومی پیغام امن کمیٹی حکومت آزاد کشمیر کے ساتھ مل کر معاشرے میں رواداری محبت اور اتحاد کے پیغام کو عام کرتی رہے گی، صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں سے قائم کی گئی اس کمیٹی کے قیام کا مقصد امن کو ترجیح دیناہے، اس کا مقصد مختلف مکاتبِ فکر کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا مذہبی و مسلکی ہم آہنگی، اتحاد و یگانگت کو فروغ دینا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مذہبی، سماجی اور سیاسی قیادت کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا، پاکستان بھر کی طرح آزاد کشمیر میں مسلکی و مذہبی ہم آہنگی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے، مذہبی ہم آہنگی، بین المذاہب رواداری اور قومی اتحاد کے فروغ کے بغیر پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امن کے لیے کاوشوں کی بدولت دنیا بھرمیں پاکستان کا وقار بڑھا ہے، نوجوان نسل کو شدت پسندی سے دور رکھ کر مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تعلیمی اداروں، مساجد اور معاشرتی پلیٹ فارمز کے ذریعے برداشت، احترام اور بھائی چارے کا پیغام عام کیا جانا چاہیے۔ مولانا طاہر اشرفی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی ملک کے ہر کونے میں امن، محبت اور یگانگت کے فروغ کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی عفریت ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے نظریات کو رد کرتے ہیں، دہشتگردی کے اس ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے ریاستی اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، علماء کرام اور عوام کو مل کر مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ ان قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک میں دیرپا امن کو یقینی بنایا جائے۔کانفرنس کے اختتام پر ملک میں ہم آہنگی، امن، اتحاد اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے اجتماعی کوششیں تیز کرنے، دہشتگردی اور انتہاپسندی کے مکمل خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے، اور پاکستان کو ایک پرامن، مستحکم اور پائیدار ترقی کا حامل ملک بنانے کے لیے اپنے بھرپور کردار نبھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ایوانِ صدرکشمیر ہاؤس اسلام آباد میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس میں دیگر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان میں امن، اتحاد اور ہم آہنگی کے قیام کے لیے تمام طبقات ہم آہنگی کو فروغ دیں گے۔امن کے قیام کے لیے ہمہ وقت جدوجہد جاری رہے گی۔ سپہ سالار اور وزیراعظم نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستانی قوم ایک سیسہ پلائی دیوار کی مانند متحد ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ کو ہر ممکن طور پر یقینی بنایا جائے گا، کشمیر امن و محبت کی بستی ہے۔علمائے کرام نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک سے ہر قسم کی عفریت کا خاتمہ ناگزیر ہے، خصوصاً فتنہ خوارج کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر متحد ہونا ہوگا۔ بھارت اپنی جارحیت اور فتنہ پرستی کے ذریعے خطے کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، تاہم پاکستانی قوم ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، خارجیت جیسے فتنے کے خاتمے کے لیے علماء اور عوام کو یکجا ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ معاشرے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔فتنہ خوارج اور فتنہ الہندوستان کو یکسر مسترد کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ پاک فوج ملک دشمن عناصر کے خلاف بھرپور جدوجہد کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے پاکستان کی قیادت آزاد کشمیر کے مسائل کے حل اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امن، محبت، رواداری اور اخوت کے فروغ کے لیے ہر ممکن کاوشیں جاری رکھی جائیں گی۔اس موقع پر قومی پیغامِ امن کمیٹی کے زیر اہتمام ایوانِ صدر جموں و کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں منعقدہ کانفرنس میں ملک بھر سے مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔اس موقع پر کانفرنس میں قائم مقام صدر آزادکشمیر چوہدری لطیف اکبر بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے، جبکہ اس موقع پر مولانا طاہر اشرفی کوارڈینیٹر نیشنل پیغام امن کمیٹی کے علاوہ مفتی عبدالرحیم، علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری، مفتی محمد یوسف کشمیری، ڈاکٹر محمد آصف خان قادری، ڈاکٹر مفتی عبدالکریم خان، علامہ محمد حسین اکبر، علامہ عارف حسین وحیدی، مولانا زبیر فہیم، راجیش کمہار ہردسانی، مولانا زاہد منصور، پیر نقیب الرحمن، مولانا محمد توقیر عباس، بیش اپ مارشل آزادکشمیر، ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی، سردار رامیش سنگھ آروڑا، مولانا طیب پنج پیری، مفتی عثمان یوسف، عاشق شیخ، ارشد خان، چوہدری عمیر جہانگیری اور دیگر علمائے کرام نے اور مکاتب فکر نے بھی خطاب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں