5

چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر/چیئرمین جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے اٹھارہویں اجلاس کی صدارت مزید جانیئے

ڈیلی دومیل نیوز، چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر/چیئرمین جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے بدھ کے روز سپریم کورٹ کے کانفرنس ہال میں جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے اٹھارہویں اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں سینئرجج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان، چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس سردار لیاقت حسین، سینئر جج ہائی کورٹ جسٹس سید شاہد بہار نے شرکت کی۔ چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر/ چیئرمین جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا کہ جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی ریاستی عدلیہ کا سب سے بڑا فورم ہے جس کا بنیادی مقصد ریاستی عوام کو فراہمی انصاف کے لئے اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے ایک مؤثر فریم ورک اور اس پر عمل درآمدبنانا ہے۔فورم سے کئے جانے والے فیصلے حتمی حیثیت رکھتے ہیں اور ان پر عمل درآمد تمام ریاستی اداروں پر لازم ہے۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ نے یکم جون 2025 تا حال ہونے والے فیصلوں کی مفصل رپورٹ اجلاس میں پیش کی۔ رپورٹ میں یکم جون 2025 تا حال ہائی کورٹ میں مظفرآباد، میرپور، کوٹلی اور راولاکوٹ میں کل 6026 مقدمات کے فیصلے ہوئے جبکہ مفاد عامہ کے کل 48 مقدمات میں اس وقت حکم امتناعی جاری شدہ ہے جن کے فوری فیصلے کئے جا رہے ہیں۔ چیئرمین جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی، سینئر جج سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ میں ججز کی کمی کے با وجود خاطر خواہ تعداد میں مقدمات کے فیصلوں کو سراہا۔اجلاس میں ہائی کورٹ میں طے ہوا کہ زیر سماعت تمام آئینی مقدمات میں بینچ کی سربراہی چیف جسٹس عدالت عالیہ کریں گے۔ دائری کے سال کے حساب سے سب سے پرانے مقدمات کے فیصلے ترجیحی بنیادوں پر کئے جائیں گے۔چیئرمین جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے قومی اہمیت کے منصوبہ جات، مالی اور ٹیکس سے متعلقہ مقدمات کے علاوہ فوری نوعیت کے تمام دیگر ایسے مقدمات جو براہ راست ریاستی نظام اور مفاد عامہ سے متعلق مقدمات میں فوری اور ترجیحی بنیادوں پر فیصلے صادر کرنے اور حکم امتناعی کے اجراء سے ایک مناسب اور کم از کم مدت کے اندر ایسی درخواستوں کو نمٹانے کی ہدایت کی۔ سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان نے اجلاس کی توجہ فوجداری مقدمات میں مجاز عدالت کی جانب سے ملزم کو دی جانے والی حتمی سزا بالا عدالت اپیل میں زیر سماعت مقدمہ کا فیصلہ ہونے سے قبل پوری ہو جانے کی صورت میں ملزم کو رہائی نہ ملنے کی نسبت طریقہ کار وضع کرنے پر اجلاس کی توجہ دلائی۔ سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان نے کہا کہ نابالغ ملزمان کے مقدمات کے سلسلسہ میں قانون میں ڈسٹرکٹ جج کا ذکر ہے جبکہ ایسے نابالغ بچوں کو ضلعی عدالت میں دور درازلے جانے کے بجائے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں پیش کیا جا نے کی گنجائش ہونی چاہئے۔ اجلاس میں سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان کی جانب سے اٹھائے گئے نکات پر تفصیلی غوروخوض کے بعد اجلاس میں متفقہ طور پر طے ہوا کہ اس سلسلہ میں سیکرٹری قانون جیل حکام کو بذریعہ سرکلر/حکم پابند کریں کہ ایسے ملزمان کی رہائی سے متعلق ایک میکنزم بنایا جائے۔ جبکہ نابالغ ملزمان کے مقدمات کے سلسلہ میں متفقہ طور پر اجلاس میں طے ہوا کہ ایسے نابالغ ملزمان کو دور دراز ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں پیش کرنے کے بجائے قریب ترین ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں پیش کرنے کے سلسلہ میں تحت قانون کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اجلاس میں یہ بھی طے ہوا کہ عدلیہ کی آزادی کے تصور کے پیش نظر ایکس کیڈ ر جج صاحبان کی رخصت، مامورگی اور دیگر تمام انتظامی معاملات آبائی محکمہ (عدلیہ) کے پاس رہیں گے۔اجلاس میں یہ بھی طے ہوا کہ برنالہ میں اپریل 2026 کے اواخر میں ایڈیشنل ضلعی فوجداری عدالت کا م شروع کر دے گی اوررواں مالی مسائل کی بنا پر فی الوقت عدالتی عملہ کی فراہمی ممکن نہ ہے تاہم فی الحال پہلے سے موجود عدالتی عملہ کے ساتھ کام چلایا جائے گا۔ رواں ماہ کے اواخر میں برنالہ میں ایڈیشنل ضلعی فوجداری عدالت کا افتتاح ہو گا۔ سیکرٹری قانون نے اجلاس کو بتایا کہ سروس ٹربیونل ایکٹ، ایم ڈی اے ایکٹ، ڈریس کوڈ آیکٹ، انوائرنمنٹل ایکٹ اور دیگر مجوزہ قوانین میں ترامیم کا معاملہ قانون سازی کے مراحل میں ہے۔ اجلاس کے آخر میں چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر (چیئرمین جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی) نے تمام شرکائاجلاس کا شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں