3

🗳️ سلمان اکرم راجہ کا استعفیٰ دینے کا دوبارہ اعلان: پارٹی عہدہ مجھ پر مسلط کیا گیا

اسلام آباد (16 اپریل 2026) – پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ پارٹی کے بانی عمران خان کو اپنا استعفیٰ بھیجنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اس عہدے پر برقرار رہنے کی خواہش نہیں رکھتے۔

اہم انکشافات اور بیانات

سلمان اکرم راجہ کی گفتگو کے چیدہ نکات درج ذیل ہیں:

عہدے سے لاتعلقی: انہوں نے کہا کہ “میں نے خان صاحب کو 10 بار بتایا کہ مجھے یہ عہدہ نہیں چاہیے، لیکن یہ ذمہ داری مجھ پر مسلط کی گئی۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی میں نے بارہا استعفیٰ دینے کی درخواست کی۔”

عمران خان کی بہنوں کا کردار: سلمان اکرم راجہ کے مطابق، جب انہوں نے استعفیٰ دینے کی بات کی تو عمران خان نے اپنی بہنوں (علیمہ خان وغیرہ) کو انہیں روکنے کے لیے بھیجا۔ علیمہ خان نے ان سے درخواست کی کہ وہ عہدہ نہ چھوڑیں کیونکہ خان صاحب نے اس سے پہلے کبھی کسی کے پاس اپنی بہنوں کو سفارش کے لیے نہیں بھیجا۔

علیمہ خان کی تنقید کا جواب: علیمہ خان کی جانب سے پارٹی قیادت پر تنقید (کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر حکمت عملی نہیں بنا رہے) کے جواب میں سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ “وہ سیاسی معاملات اور حکمت عملی کو نہیں سمجھتیں۔”

🛡️ پی ٹی آئی کی نئی سیاسی حکمت عملی

سلمان اکرم راجہ نے پارٹی کے مستقبل کے حوالے سے اہم حکمت عملی بھی واضح کی:

سیاسی اتحاد: انہوں نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس جیسے ناراض اتحادیوں کو دوبارہ ساتھ لانے کی ضرورت پر زور دیا۔

تنظیم سازی بمقابلہ احتجاج: ان کا کہنا تھا کہ اب وقت پارٹی کو متحد اور منظم کرنے کا ہے۔

سڑکوں پر احتجاج سے گریز: انہوں نے ایک بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ “اگر ہم 10 سے 20 ہزار لوگوں کو سڑکوں پر لائیں گے تو ہمیں صرف لاشیں ملیں گی۔” وہ خون خرابے کے بجائے سیاسی حکمت عملی کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں