راجہ فاروق حیدر کا تیرہویں ترمیم کے تحفظ کا اعلان 2

تیرہویں آئینی ترمیم کا تحفظ: راجہ فاروق حیدر کا دو ٹوک اعلان

مظفرآباد: سابق وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے حیدر میموریل ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام تحریک آزادی کشمیر کے عظیم رہنما اور سابق صدر مسلم کانفرنس راجہ حیدر خان کی 60 ویں برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی اہم سیاسی و آئینی موقف اختیار کیا ہے۔

آئینی حیثیت اور تیرہویں ترمیم پر دو ٹوک موقف

راجہ فاروق حیدر خان نے واضح کیا کہ:

کوئی عدالت تیرہویں آئینی ترمیم ختم نہیں کر سکتی، یہ خالصتاً پارلیمنٹ کا کام ہے۔ عدالتوں کو پہلی پیشی پر ہی ایسی درخواستوں کو فارغ کر دینا چاہیے۔

پاکستان کے آئین کی دفعہ 257 میں درج ہے کہ جب کشمیری آزاد ہوں گے تو وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلق کا فیصلہ خود کریں گے۔ آئین کوئی ایسی چیز نہیں جسے کوئی پھاڑ کر پھینک دے۔

تیرہویں ترمیم اب واپس نہیں ہو سکتی اور کشمیر کونسل کا سامراجی نظام دوبارہ لایا جانا ناممکن ہے۔

اگر کوئی آزاد کشمیر کو واپس “رولز آف بزنس” والے دور میں لے جانا چاہتا ہے یا تقسیمِ کشمیر مقصود ہے، تو اسے چھپ کر وار کرنے کے بجائے کھل کر سامنے آکر بات کرنی چاہیے۔

تیرہویں ترمیم کی سزا ہمیں الیکشن میں ملی، لیکن اس کی وجہ سے آج ریاست کی آمدن میں 2 ارب کے قریب اضافہ ہوا ہے۔

اختیارات کی منتقلی اور سیاسی تجربات

سابق وزیراعظم نے اپنے دور اور اختیارات کے حوالے سے کہا:

میرا یہ کہنا درست ثابت ہوا کہ میں آزاد کشمیر کا آخری (بااختیار) وزیراعظم ہوں، میرے بعد آنے والے چار وزرائے اعظم کے پاس کیا اختیار رہا؟

43 سال بعد اختیارات واپس ملے تھے۔ پہلے ایک ڈپٹی سیکرٹری وزیراعظم پر بھاری ہوتا تھا اور ایک چپراسی کی آسامی دینے کا اختیار بھی ریاست کے پاس نہیں تھا، جس پر میں نے میاں نواز شریف سے شکایت کی تھی۔

جب کشمیر لبریشن سیل بنا تو راجیو گاندھی نے پاکستان کے وزیراعظم سے شکایت کی تھی۔ میرے بعد اس کا نام تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی اور اب پورے نظام کو لپیٹنے کی سازش ہو رہی ہے۔

ہمیں دھمکیاں دی گئیں کہ اگر نظام نہ بدلا تو حکومت نہیں رہے گی، لیکن میں نے عمران خان کو واضح کر دیا تھا کہ جو کچھ مقبوضہ کشمیر میں ہوا وہ آزاد کشمیر میں نہیں ہونے دیں گے۔

اسلاف کی جدوجہد اور مہاجرین کا مقام

مہاجرین ہمارا حصہ ہیں؛ چوہدری غلام عباس، میر واعظ مولانا یوسف اور کے ایچ خورشید کی قبروں کے ساتھ دھوکہ نہیں کیا جا سکتا۔

ریاست کے تشخص اور عوامی حقوق کے لیے پہلے بھی لڑا اور آئندہ بھی دستبردار نہیں ہوں گا، چاہے بہت سے لوگ چاہیں کہ میں اگلی اسمبلی میں نہ ہوں۔

اسلاف نے قیامِ پاکستان سے پہلے ہی الحاق کا فیصلہ کیا تھا اور مقبوضہ کشمیر کے عوام آج بھی بھارتی جبر کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ہندوستان سے نفرت کرتے ہیں۔

تقریب کے شرکاء اور مقررین

تقریب سے سابق وزراء اور قائدین کی ایک بڑی تعداد نے خطاب کیا جن میں درج ذیل شامل ہیں: سردار فاروق سکندر، راجہ عبدالقیوم خان، بیرسٹر افتخار گیلانی، منظور قادر ایڈووکیٹ، راجہ طارق بشیر، راجہ ممتاز خان، میر محمد اشرف، شاہد لطیف، امداد علی طارق، انجینئر رفاقت اعوان، منیب چکاروی، راجہ شہزاد منظور، راجہ عبداللہ، حسن دین راشدی، ملک آفتاب، سبیل چغتائی، افضل کاظمی، فرید خان، سید افتخار حسین شاہ، راجہ طاہر مجید، عبدالرزاق خان، شفیع عباسی، ڈاکٹر زاہد، محمد خورشید اختر اور راجہ گلزار۔

دیگر شرکاء: تقریب میں مرتضیٰ گیلانی، ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر، ثاقب مجید، نثارہ عباسی، راجہ ابرار حسین، چوہدری منظور، میئر مظفرآباد سکندر نثار گیلانی اور مریم کشمیری سمیت مسلم لیگی کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔

منظور کردہ قراردادیں

تقریب میں درج ذیل قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں:

عالمی و علاقائی امن: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ایران، لبنان اور فلسطین میں قیامِ امن کے لیے پاکستانی کاوشوں پر خراجِ تحسین۔

کشمیر کاز: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی شدید مذمت اور اقوامِ عالم سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

قیادت پر اعتماد: قائد مسلم لیگ ن محمد نواز شریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار۔

عزمِ نو: تحریکِ تکمیلِ پاکستان کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے عزم کا اعادہ۔

تقریب کے انتظامی امور

علی الصبح مزار راجہ محمد حیدر خان پر دعائیہ تقریب، قرآن خوانی اور پاکستان کی سلامتی و کشمیر کی آزادی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

تقریب میں لوگوں کا اس قدر رش تھا کہ ہال میں جگہ کم پڑ گئی اور درجنوں افراد نے کھڑے ہو کر راجہ فاروق حیدر خان کا خطاب سنا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں