لاہور (13 مئی، 2026): صوبائی دارالحکومت لاہور کے مختلف حصوں میں بدھ کی شام ہونے والی شدید بارش اور غیر معمولی ژالہ باری (اولوں) نے شہر کا نظام درہم برہم کر دیا۔ موسلادھار بارش کے نتیجے میں نشیبی علاقے تالاب کا منظر پیش کرنے لگے جبکہ اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔
بارش کے اہم اعداد و شمار
واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (WASA) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق شہر میں سب سے زیادہ بارش لکشمی چوک میں ریکارڈ کی گئی جہاں بادل 95 ملی میٹر برسے۔ دیگر متاثرہ علاقوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
پانی والا تالاب: 79 ملی میٹر
سگیاں: 53.2 ملی میٹر
گلشنِ راوی: 45.8 ملی میٹر
جیل روڈ: 44 ملی میٹر
اچانک ہونے والی اس بارش سے مال روڈ، فیروز پور روڈ اور گلبرگ جیسے علاقوں میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور کئی گاڑیاں سڑکوں پر پھنس گئیں۔
حکومتی ردِعمل اور ہنگامی اقدامات
شہر میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کی صورتحال کے پیشِ نظر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) نے ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ شہریوں کو درج ذیل ہدایات دی گئی ہیں:
غیر ضروری سفر سے گریز کریں تاکہ ٹریفک اور نکاسیِ آب کے کام میں خلل نہ پڑے۔
بجلی کے کھمبوں اور تاروں سے دور رہیں تاکہ کرنٹ لگنے جیسے حادثات سے بچا جا سکے۔
بچوں کا خاص خیال رکھیں اور گلیوں میں جمع پانی میں جانے سے روکیں۔
ایم ڈی واسا غفران احمد نے بتایا کہ ہنگامی ٹیمیں اور بھاری مشینری فیلڈ میں تعینات کر دی گئی ہے۔ انہوں نے لکشمی چوک کے دورے کے دوران کہا، “تمام ڈسپوزل اسٹیشنز اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ صبح ہونے سے پہلے اہم راستوں کو صاف کر دیا جائے۔”
دیگر اہم قومی خبریں
موسم کے علاوہ ملک کی دیگر اہم پیش رفت یہ ہیں:
لکی مروت دھماکہ: مقامی مارکیٹ میں ہونے والے دھماکے میں افسوسناک طور پر 9 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
پی آئی اے کی نجکاری: حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 25 مئی کو قومی ایئر لائن (PIA) نئے مالکان کے حوالے کر دی جائے گی۔
سکولوں کی چھٹیاں: پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں تین ماہ کی موسمِ گرما کی تعطیلات کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے۔
شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ تازہ ترین موسمی حالات سے باخبر رہیں اور حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔