مظفرآباد(نمائندہ خصوصی) مقبوضہ جموں وکشمیر ”نام نہاد تنظیم نو ایکٹ نفاذ“ کے چارسال مکمل ہوگئے۔یادرہے بھارت سرکارنے 5اگست کومقبوضہ کشمیرکی آئینی حیثیت کے خاتمہ کے بعد31 اکتوبر2019کو ریاست پر”نام نہاد تنظیم نو ایکٹ نافذ“ کردیا تھا۔جسکے تحت مقبوضہ ریاست جموں وکشمیرکو دوانتظامی یونٹس میں تقسیم کرکے براہ راست دہلی مرکزی سے منسلک کردیا گیا۔ آزادکشمیرمیں یوم سیاہ منایاگیا۔مقبوضہ کشمیرکی شناخت ختم کئے جانے کے 4سال مکمل ہونے پرگذشتہ روز31اکتوبرکوایم کیو ایم آزادکشمیرسمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے مقبوضہ جموں وکشمیر ”نام نہاد تنظیم نو ایکٹ نفاذ“ کیخلاف یوم سیاہ منایا۔اس موقع پرایم کیو ایم آزادکشمیرکے مرکزی صدر صاحبزادہ شاہ فیصل نے کہاہے کہ 4سال قبل اسی روزمودی حکومت نے اپنے 5اگست 2019کے اقدام کے تسلسل میں ”نام نہاد تنظیم نو ایکٹ نافذ“کرکے ریاست کی شناخت چھین لی۔اور تب سے لیکراب تک چارسالوں میں مقبوضہ کشمیرکی ڈیموگرافی میں تبدیلی پر سنجیدگی سے کام جاری ہے۔اور جموں وکشمیر براہ راست نئی دلی کے زیر انتظام دو انتظامی حصوں میں تقسیم ہے۔اوربھارتی آئین میں دفعہ370کے تحت کشمیرسے متعلق خصوصی حیثیت ختم کرنے کے علاوہ ذیلی دفعہ35اے ختم کرکے ”نام نہاد تنظیم نو ایکٹ نفاذ“کیاجسکے بعد کشمیریوں کی زمنیوں پربھارتی شہریوں کو بسانے کی اسرائیلی حکمت عملی پرکام جاری ہے۔ہم احتجاج کرکے دُنیا کو باورکرانا چاہتے ہیں کہ ریاست پربھارتی غاصبانہ قبضے کیخلاف 75سالہ جدوجہد آزادی میں قربانیوں کو رائیگان نہیں جانے دینگے۔ ان خیالات کا اظہارایم کیو ایم آزادکشمیرکے مرکزی صدرصاحبزادہ شاہ فیصل نے مرکزی سیکرٹری جنرل عزت علی بھائی کیساتھ،”نام نہاد تنظیم نو ایکٹ نفاذ“ کیخلاف یوم سیاہ کے حوالے سے نکات پربات چیت میں کیا ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر ”نام نہاد تنظیم نو ایکٹ نفاذ“ کیخلاف مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے بھارتی اقدام کو ریاست کی بدقسمتی قراردیا۔اور سوال اُٹھایا کہ کشمیرکاز کو درپیش تاریخی نشیب و فرازمیں چارنسلیں داؤ پرلگ چکیں۔یہ سلسلہ کب تک جاری رہیگا؟
90
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل