93

مظفرآباد میں نیشنل ایکشن پلان کو قانون شکنوں، بگڑے تگڑے رئیس زادوں اور بااثر افراد نے مذاق بنا لیا

مظفرآباد(نامہ نگار) شہر اقتدار مظفرآباد میں نیشنل ایکشن پلان کو قانون شکنوں، بگڑے تگڑے رئیس زادوں اور بااثر افراد نے مذاق بنا کر رکھ دیا، نماز مغرب سے لے کر نماز فجر تک آتشیں اسلحہ سے فائرنگ، شدید آتش بازی، ڈھول ڈھمکا، ناچ گانا کی محافل نے قرب و جوار کے رہنے والے معمر افراد، بچوں، باپردہ خواتین کا جینا محال کر دیا ہے جبکہ رہتی کسر دن بھر گاڑیوں، چوکوں چوراہوں پر بڑے بڑے لوڈ سپیکرز لگا کر فلسطین کے نام پر چندہ مانگنے والوں نے پوری کر رکھی ہے، متعلقہ اداروں نے آنکھیں کان بند کرتے ہوئے منہ پر قفل لگا لیے، شہری حلقوں سمیت سول سوسائٹی کا شدید احتجاج، تفصیلات کے مطابق شہر اقتدار مظفرآباد میں نیشنل ایکشن پلان کو بگڑے تگڑے رئیس زادوں، با اثر عناصر نے مذاق بنا کر رکھ دیا ہے، نماز مغرب کے فورا” بعد ہیوی ساؤنڈ سسٹم پر گانا بجانا، شدید فائرنگ اور آتش بازی کا ماحول بنا دیا جاتا ہے، دوسری جانب دن بھر پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں پر بڑے بڑے لاؤڈ سپیکر رکھ کر اور مشہور چوکوں چوراہوں میں کیمپ لگا کر بیٹھے عناصر نے ہیوی ساؤنڈ سسٹم پر فلسطین کے نام پر چندہ مانگنے کا کام شروع کر رکھا ہے جس کی وجہ سے نہ تو دن کو کانوں کو آرام اور نہ ہی رات کو معمر افراد،مریض، بچے اور خواتین گھروں میں سکون سے رہ سکتے ہیں،ہواٸی فاٸرنگ سے آۓ روز قیمتی انسانی جان جبکہ آتش بازی سے آگ لگنے سے بھاری نقصانات کے واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں، خاص کر گوجرہ، بائی پاس پر آئے روز ڈھول ڈھمکا،بیہودہ ناچ گانا اور شدید ہوائی فائرنگ کے علاوہ آتش بازی نے قرب و جوار کے رہنے والوں کو شدید اذیت کا شکار کر رکھا ہے جس کی بارہا متعلقہ تھانے کو اطلاع بھی دی جاتی ہے مگر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، شہری حلقوں اور سول سوسائٹی نے وزیراعظم آزاد کشمیر، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر، انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ خاص کا ڈپٹی کمشنر مظفرآباد کو متحرک کیا جائے یا پھر کوئی ایسا شخص تعینات کیا جائے جو شہری معاملات کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں