91

سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کی گولڈن جوبلی کی تین روزہ تقریبات کا اختتام

ڈیلی دومیل نیوز.سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیر کے پچاس سال مکمل ہونے پر تین روزہ گولڈن جوبلی تقریبات کے اختتام پر عظیم الشان جوڈیشل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جوڈیشل کانفرنس کے پہلے سیشن سے سینئر جج سپریم کورٹ پاکستان جسٹس محمد علی مظہر، جج سپریم کورٹ آزادجموںوکشمیر جسٹس رضا علی خان، سابق چیف جسٹس صاحبان آزادجموں وکشمیر جسٹس خواجہ شہاد احمد، جسٹس محمد اعظم خان، جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیا، جسٹس سید منظور الحسن گیلانی، وائس چئیرمین پاکستان بار کونسل طاہر نصراللہ وڑائچ، سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آزاد کشمیر عبدالرشید عباسی ایڈووکیٹ، معاون خصوصی آزادکشمیر حکومت نبیلہ ایوب ایڈووکیٹ، وائس چیئرمین آزادجموں وکشمیر بار کونسل عقاب احمد ہاشمی ایڈووکیٹ، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آزادجموں وکشمیر جاوید نجم الثاقب ایڈووکیٹ نے خطاب کیا ۔جبکہ نظامت کے فرائض سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیر راجہ سجاد احمد خان ایڈووکیٹ نے سرانجام دیے۔
سینئر جج سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس محمد علی مظہر نے سپریم کورٹ کی گولڈن جوبلی کے موقع پر منعقدہ جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ آج میں اس تاریخی تقریب میں شریک ہوں۔ گولڈن جوبلی کے موقع پر میں چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر، معزز جج صاحبان اور آزاد جموں و کشمیر کی پوری عدلیہ کو پچاس شاندار برس مکمل کرنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آج ہم اس اعلیٰ ادارے کی گولڈن جوبلی منا رہے ہیں جو انصاف، آزادی اور قانون کی بالادستی کی اقدار کو قائم رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں میں اس سپریم کورٹ نے اپنے مشن کو بخوبی پورا کیا ہے جس نے عوام کا اعتماد حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ اور آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ ایک Judicial heritage رکھتی ہیں۔ بنیادی حقوق، آئینی دائرۂ اختیار اور عدلیہ کی آزادی کے اصول جو آزاد جموں و کشمیر کے 1974ء کے عبوری آئینی ایکٹ میں دفعات 4 سے 19 تک درج ہیں، وہی اصول پاکستان کے 1973ء کے آئین میں دفعات 8 سے 28 تک موجود ہیں۔ اسی طرح عدالتی نظرثانی کے اختیارات بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ یہ دائرۂ اختیار محض نظریاتی نہیں رہا بلکہ عملاً شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ میں بروئے کار لایا گیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نےکہا کہ آزاد کشمیر کی عدالتی تاریخ آئینی نوعیت کے اہم فیصلوں سے بھرپور ہے۔ تمام معزز جج صاحبان کی کارکردگی قابل تعریف ہے، وہیں موجودہ چیف جسٹس جسٹس سعید اکرم خان نے 2011ء سے اب تک دس ہزار ایک سو پچیس سے زائد فیصلے کیے ہیں، جن سے آئینی، دیوانی اور فوجداری قوانین کی ترقی ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عدالتی نظام میں یہ فکری ہم آہنگی ان کے گہرے ربط اور الگ شناخت کو اجاگر کرتی ہے۔ جب ہم ماضی اور حال کا جشن منا رہے ہیں تو لازم ہے کہ مستقبل کی طرف بھی دیکھنا ہے ۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کی عدلیہ کو سب سے بڑا چیلنج مقدمات کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا ہے۔ ایسے وقت میں جب انفارمیشن ٹیکنالوجی زندگی کے ہر شعبے کو بدل رہی ہے. انہوں نے کہا کہ آج کے آج کے دور میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ قانونی تحقیق میں مددگار ہے مگر عدالتی بصیرت کا نعم البدل نہیں بلکہ ایک معاون ذریعہ ہے تاکہ جج صاحبان اور وکلاء اپنی توجہ اصل قانونی اور عدالتی سوالات پر مرکوز رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو عدالتوں میں مصنوعی ذہانت کے شفاف اور اخلاقی استعمال کے لیے قواعد مرتب کر رہی ہے۔ اس کے ذریعے کارکردگی میں اضافہ اور عام شہریوں کے لیے انصاف تک رسائی بہتر ہو سکتی ہے۔ ہم نے مقدمات کی ای-فائلنگ کا نظام شروع کیا ہے اور جو مقدمات آن لائ دائر ہوتے ہیں وہ ایک ہفتے کے اندر سماعت کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ریکارڈ کی ڈیجیٹل آرکائیونگ اور وکلاء کا آن لائن اندراج بھی جاری ہے۔ عوامی شکایات اور ان کے ازالے کے لیے پبلک فیڈ بیک پورٹل بھی قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ اسلام آباد میں فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی عدالتی افسران اور عملے کے لیے تربیتی کورسز اور خصوصی تربیت کا اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس حوالے سے ہم آزاد کشمیر کی عدلیہ کے ساتھ مشترکہ تربیتی پروگرام شروع کر سکتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے درست استعمال، تربیت اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔ سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کا آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ ہمارے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ سے تعاون حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نےکہا کہ چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ عدلیہ کی آزادی اور جدت کے لیے ان کی غیر متزلزل وابستگی نے اس خطے میں انصاف کی بنیادوں کو مزید مستحکم کیا ہے۔ گولڈن جوبلی کا تاریخی موقع ہمارے لیے فخر کا مقام ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ آج ثابت قدمی، آزادی اور انصاف کی علامت ہے۔
جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان نےجوڈیشل کانفرنس کے پہلے سیشن میں مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ہماری عدلیہ کی کی تاریخ کا ایک سنہری دن ہے۔ ملک بھر سے آئے ہوئے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ مقررین کی فہرست دیکھ کرمجھے بڑی شدت سے احساس ہوا کہ اتنےاعلیٰ پائے کے مقررین کو سننے کے لیے وقت کی شدید قلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں ۔ یہ ایک مشکل وقت ہے۔ آزادکشمیر کے راستے دشوار اور موسم غیر متوقع ہے۔ مگر معزز مہمانان جس عزم اور محبت کے ساتھ یہاں آئے اس پر آپکا مشکور ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ انصاف کا زندہ استعارہ ہے۔ ججز کی دانش، حوصلہ اور دیانتداری عوام کے اعتماد اور بھروسے کی بنیاد ہیں۔ میں عدالتی عملے کی انتھک محنت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جو اکثر عوام کی نظر سے اوجھل رہتی ہے لیکن نظامِ انصاف کو روزانہ کی بنیاد پر قائم رکھتی ہے۔ جسٹس رضا علی خان نےکہا کہ جو سفر عدالتی بورڈ سے سپریم کورٹ تک طے ہوا وہ آسان نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے بے شمار قربانیاں، محنت اور ثابت قدمی شامل ہے۔ آج یہ ادارہ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور انصاف کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے عدالتی نظام کو مزید جدید اور عوام دوست بنایا جارہا ہے تاکہ انصاف کی فراہمی مزید تیز اور مؤثر ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ جرائم اب صرف فزیکل دنیا تک محدود نہیں رہے بلکہ سائبر اسپیس میں داخل ہو چکے ہیں۔ جس کے نتیجے میں انٹرنیٹ فراڈ، ڈیجیٹل پرائیویسی کی خلاف ورزیاں اور آن لائن استحصال جیسے پیچیدہ مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی، خصوصاً مصنوعی ذہانت اب ہمارے نظامِ انصاف کی بنیادوں کو نئے انداز سے تشکیل دے رہی ہے۔ یہ ہمیں شواہد، ذمہ داری اور احتساب کے تصورات پر نئے سرے سے غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ بنیادی حقوق میں بھی وسعت پیدا ہو رہی ہےجو انصاف اور ٹیکنالوجی کے درمیان ایک نازک توازن کا تقاضا کرتی ہے۔ جسٹس رضا علی خان نے کہا کہ عدلیہ کے مخلص اور محنتی عملے کی خاموش کاوشیں جو اکثر عوام کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں، دراصل وہ غیر مرئی قوت ہیں جو ہر روز انصاف کے پہیے کو چلانے کا کام کرتی ہیں۔اس گولڈن جوبلی کے موقع پر ہم انکی کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کے غیر متزلزل عزم کو سراہتے ہیں جس نے اس ادارے کو آج وہ مقام عطا کیا ہے جہاں یہ ادارہ قومی احترام کا استعارہ بن چکا ہے۔
سابق چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس خواجہ شہاد احمد خان نے جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں نے جلوس نکالا اور گرفتار ہوئے۔ ہماری جوڈیشری کا پاکستان میں آئین اور جمہوریت کی بحالی اور اداروں کے قیام میں سب سےاہم کردار ہے، اس کے علاوہ میڈیا نے بنیای انسانی حقوق بحال کروانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سری نگر کا شہر، جسے مہا بھارت کی تاریخ میں شری نگر کہا گیا ہے، ہماری جدوجہد آزادی کا مرکز ہے۔ یہ شہر ہمارے لیے صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ہماری شناخت، قربانیوں اور خوابوں کی علامت ہے۔ ہماری چار نسلیں اس مقصد کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکی ہیں اور اب ہم پانچویں نسل ہیں جو اس مشن کو آگے بڑھا رہی ہے۔ چاہے یہ جدوجہد دو سال میں مکمل ہو یا سو سال میں، ہم اس خواب کو پورا کر کے رہیں گے۔ انہوں نے یہ عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم اپنا حق حاصل کر لیں گے تو ہم آپ کو سری نگر میں دوبارہ خوش آمدید کہیں گے، جہاں آزادی کا سورج طلوع ہوگا اور قربانیوں کا صلہ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ جہاں ایسے حالات ہوں کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج بھی گرفتار ہوں، وہاں جدوجہد کی عظمت کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ یہ قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اور کشمیر کے عوام نے ہمیشہ آئین، قانون اور آزادی کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہو کر جدوجہد کی ہے۔ ہمیں اسی اتحاد، حوصلے اور قربانی کے جذبے کو زندہ رکھتے ہوئے اپنی منز ل کی جانب بڑھنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلیں آزادی اور انصاف کا سورج دیکھ سکیں۔
سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیر جسٹس محمد اعظم خان نے جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیر اپنے قیام سے لیکر آج تک سستے اور فوری انصاف کی فراہمی اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے اپنا جاندار کردار ادا کرتی چلی آرہی ہے۔ سپریم کورٹ نے مشکل حالات میں بھی جاندار اور تاریخی فیصلے کیے ہیں۔ آزاد جموں وکشمیر کے عوام کے حقوق کے حوالےسے سپریم کورٹ ڈٹ کر کھڑی رہی اسی وجہ سے سپریم کورٹ کے پہلے چیف جسٹس کو ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نےکہا کہ آزاد جموں کشمیر کی سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی کا اختیار چیئرمین کشمیر کونسل یعنی وزیراعظم پاکستان کے پاس ہے اور کئی چیف جسٹس بطور ایکٹنگ چیف جسٹس ریٹائر ہو گئے لیکن انکی تعیناتی میں تاخیر ہوئی اس معاملے کو حل کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس اور اور ججز کو تاریخی اقدامات / فیصلوں پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نےکہا کہ گولڈن جوبلی کی شاندار تقریبات پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء نے کہا کہ عام آدمی تک انصاف کی رسائی کو آسان کرنا ہوگا۔ گولڈن جوبلی کی تقریبات کے انعقاد پر چیف جسٹس سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ہمیں متوازن معاشرے کے قیام کے لیے قومی اور انفرادی کردار کی درستگی کے لیے کام کرنا ہوگا، مساوات کو فوقیت دے کر عوام کے انصاف اور انتظام و انصرام کے حوالے سے شکوک و شبہات کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ معاشرتی انصاف بھی بہترین معاشرے کی تشکیل کے لیے اہم اکائی ہے۔ عدالتی فیصلہ جات کا اردو ترجمہ ناگزیر ہے ، کیونکہ اردو زبانوں میں فیصلہ جات سے عام آدمی تک فیصلوں کی ہئیت درست انداز میں پہنچ سکتی ہے ، انھوں نے کہا کہ 50 سال کی عدالتی تاریخ مکمل ہونے پر نئی نسل کو قابل فخر اثاثہ دے کر جارہے ہیں ، انھوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان اور سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر کے دائرہ کار کا تجزیہ کیا اور کہا کہ اگر ماضی میں دیکھا جائے تو سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر نے ایک ولولے کے ساتھ قانون اور انصاف کے سفر کا آغاز کیا تھا ، آزاد کشمیر اور پاکستان کے قوانین اور عدالتی نظام ماسوائے چند امتیازی خصوصیات کے تقریباً باقی سب ایک جیسے ہیں ، آزادجموں و کشمیر سپریم کورٹ نے ہمیشہ بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا، آزادجموں وکشمیر سپریم کورٹ کو برصغیر بھر میں امتیازی حیثیت تعبیر قانون کے حوالہ سے حاصل ہے ، انھوں نے کہا کہ آزاد کشمیر سپریم کورٹ سے اگر صدر ریاست کسی اہم امور میں یا مفاد عامہ کے حامل قانونی معاملہ میں رائے طلب کریں تو سپریم کورٹ رائے دیتی ہے ، سستے انصاف کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے ، ماضی میں عدالتی فیصلہ جات کی نظیریں جدوجہد کی عکاس ہیں ، ہمیں پیچیدگیوں کے خاتمہ کرنے کے لیے اور شہریوں کی آسانیوں کے لیے اصول واضح کرنے ہیں ، اس ضمن میں سپریم کورٹ کو اصول وضع کرنے چاہیں تاکہ سائلین کو مشکلات سے بچایا جاسکے ، انھوں نے کہا کہ مستقبل کے لیے اہداف کو سامنے رکھ کر چلنا ہوگا تاکہ انصاف کو عام کیا جاسکے ۔
سابق چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس سید منظور الحسن گیلانی نے جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر کی تاریخ جدوجہد سے مزین ہے۔ آج پاکستان اور آزادکشمیر کے ججز صاحبان کو یہاں اکھٹے بیٹھے دیکھ کر دلی خوشی ہوئی۔ قبل ازیں گولڈن جوبلی کی تقریبات کو بھارتی جارحیت کے باعث منسوخ کیا گیا تھا۔ اس وقت جب چیف جسٹس آزادجموں و کشمیر نے تقریبات کو منسوخ کیا تو استفسار کرنے پر چیف جسٹس آزادجموں و کشمیر نے کہا کہ ایک طرف لوگ مر رہے ہوں تو دوسری طرف گولڈن جوبلی کی خوشیاں نہیں ہوسکتیں۔ بھارتی جارحیت کے باعث پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص میں کامیابی حاصل کی جس سے پاکستان کے وقار اور عزت میں بین الاقوامی سطح پر اضافہ ہوا۔ اس آپریشن بنیان المرصوص کی وجہ سے کشمیر ایشوبین الاقومی سطح پر دوبارہ ہائی لائیٹ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے زندگی کا ایک بڑا حصہ جوڈیشل سسٹم کو دیا جس میں سے زندگی کے 7 اہم سال سرینگر میں پریکٹس کی اور باقی آزاد کشمیر میں کام کیا۔ تقریب سے خطاب میں انہوں نے تاریخ کشمیر پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آزاد کشمیر 1975 کی آئینی ترمیم سے قائم ہوئی جو انصاف کی علامت ہے۔ یہ عدالت قانون کی حکمرانی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ سپریم کورٹ آزاد کشمیر کی انصاف کے بول بالے کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ سپریم کورٹ کی بنیادی انسانی حقوق ، جمہوری آزادیوں اور انصاف کے لیے اقدمات قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ انصاف کی علامت ہے ، عدالتی نظام انصاف کی فراہمی کے لیے مکمل طور پر فعال ہے، آزاد کشمیر سپریم کورٹ درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پیشہ ورانہ انداز میں اقدمات تاریخ ساز ہیں۔ انصاف کے علم کو بلند کرنے کے لئے سپریم کورٹ کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی سیاسی و قانونی تاریخ کا ایک گواہ بن کر کھڑا ہوں کیونکہ میں نے اپنی ابتدائی زندگی کے ابتدائی سال مقبوضہ کشمیر میں گزارے اور سرینگرمیں وکالت کی۔ اس کے علاوہ اسکول، کالج اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طالب علمی کے دوران سیاست کا حصہ بھی رہا، سابق چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ کشمیر کے عوام بھارت اور پاکستان کے ساتھ کیسا محسوس کرتے ہیں، آج جب ہم جشن منا رہے ہیں، تو ہمیں اس ادارے کی بنیادوں اورآزاد جموں و کشمیر کی غیر واضح شناخت پر غور کرنا چاہیے ، ہمیں نہ صرف جذباتی طور پر بلکہ قانون، تاریخ اور عوام کی امنگوں کی روشنی میں دیکھنا ہے ، کشمیر کی کہانی جدید ریاستی نظریے (ویسٹ فیلیا) سے بہت پہلے کی ہے، یہ 500 قبل مسیح سے پہلے ہی ایک سیاسی و قانونی حیثیت کے ساتھ ایک منفرد شناخت رکھتا تھا اور اپنی علاقائی خود مختاری کا سختی سے دفاع کرتا تھا۔ اس کی تاریخ میں اتار چڑھاؤ آتا رہا۔ ہندو اور جب رِنچن شاہ، جو لداخی شہزادہ تھا اسلام قبول کر گیا جس سے مقامی مسلم حکمرانی کا آغاز ہوا، جو زیادہ تر نومسلموں پر مشتمل تھی اور یہ 1586 تک جاری رہی، انھوں نے کہا کہ پھر غیر ملکی قبضے شروع ہوئے۔مغلوں کا دور ،پھر افغانی دور کا آغاز ہوا اور یہ سلسلہ 1846 میں اختتام پذیر ہوا جب سکھوں نے کشمیر کو “برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی” کے حوالے کر دیا، سبراؤں کی جنگ میں شکست کے بعد، “لاہور معاہدہ” کے تحت، محض چھ دن بعد، برطانوی حکمرانوں نے کشمیر کو ایک ہندو جاگیردارگلاب سنگھ کے ہاتھ بیچ دیا۔آزاد جموں و کشمیر کا عبوری آئین جو پاکستان کی طرف سے دیا گیا ہے، پاکستان سے الحاق کے نظریے سے وفاداری کو لازم قرار دیتا ہے، اگرچہ آزاد کشمیر اسمبلی کے ایک تہائی ارکان، وزراء، پچیس فیصد سرکاری ملازمتیں اور مالی بجٹ کا ایک حصہ ان پاکستانی شہریوں کے لیے مخصوص ہے جو پاکستان میں کشمیری پناہ گزین ریاستی باشندوں کے طور پر آباد ہیں ، پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 257 میں ایک ایسا مستقبل وعدہ کیا گیا ہے جو عوام کی خواہشات پر مبنی ہو،انہوں نے کہا کہ عدالتی تاریخ اور طویل جدوجہد میں سپریم کورٹ کے انصاف اور جمہوری آزادیوں کے ساتھ ساتھ انتظامی اور معاشرتی انصاف کے لیے بھرپور اقدمات اٹھائے ہیں۔
وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل چوہدری طاہر نصر اللہ وڑائچ نے کہا کہ چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر کو 50 عدالتی سال مکمل ہونے پر اس پر وقار گولڈن جوبلی تقریب کےانعقاد پر اپنی اور پاکستان بھر کی وکلاء برادری کی طرف سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ میں بطور وائس چیئر مین اس تقریب سے بات کر رہا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کسی بھی ریاست میں قانون کی حکمرانی اورلوگوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضامن ہے اور کسی بھی ریاست کو کامیابی سے چلانے کے لئے یہ بہت ضروری ہے۔ سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کا کردار عدلیہ کی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے آئینی اور دوسرے معاملات میں تاریخی فیصلے دیے جو قانونی کتابوں میں شائع ہو چکے ہیں ۔ آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ تمام کیسوں کو بر وقت سن کر ان پر فوراًفیصلے صادر کرتی ہے اور یہاں کے ججز بہت محنتی اور قابل ہیں۔ اسکے علاوہ آزاد جموں و کشمیر کی ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتوں کا کردار بھی کیسز کی disposal کے حوالے سے بہت نمایاں ہے جس کی بدولت آزاد جموں وکشمیر کا جوڈیشل سسٹم کامیابی کے ساتھ ترقی کی جانب گامزن ہےاور لوگوں کو جلد اور سستافوراً انصاف فراہم کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بینچ اور بار کا مضبوط تعلق جوڈیشل سٹم کی بہتری میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان بار کونسل بحیثیت (apex body) اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ بار سائلین کے مسائل کو بخوبی بینچ کے سامنے پیش کر سکتی ہےاور اس کے حوالے سے عدالتی اصلاحات بھی تجویز کرتی ہےتاکہ لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔ سپریم کورٹ آف پاکستان اور آزاد جموں وکشمیر کی سپریم کورٹ دونوں اعلیٰ عدالتیں ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون کرتی ہیں اور سائل کی مشکلات کا بخوبی ادراک کر کے انہیں حل کیا جاتا ہے۔میں اپنی پاکستانی وکلاء برادری کا کشمیری وکلاء بھائیوں سے تعلق کا بھی ذکر کروں گا جو بھائی چارہ اور با ہمیہم آہنگی پر مشتمل ہے۔ ہمیشہ آزاد کشمیر اور پاکستان کے وکلاء اہم معاملات پر یک آواز ہوتے ہیں اور اس تعلق کو فروغ دینے کے لئے پاکستان بار کونسل اور آزاد جموں و کشمیر بار کونسل نے ایک مفاہمت کی یاداشت پر بھی دستخط کئے ہیںجو دونوں طرف کی وکلاء برداری کی پیشہ وار نہ معاملات میں سہولت و تعاون کا باعث بن رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی وکلاء برادری کشمیری عوام کی حق خود ارادیت اور آزادی کی مضبوط اور غیر متزلزل حمایت پر یقین رکھتی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بنیاد پر مسلسل سیاسی ،سفارتی اور اخلاقی حمایت ہمیشہ کی اور یوم یکجہتی کشمیر اور حق خود ارادیت سمیت کئی مواقعوں پر پاکستان بار کونسل نے اپنا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اس موقف کی عملی طور پر تائید بھی کی ہے اور مبینہ بھارتی مظالم کی مذمت اور عالمی برادری سے آزادانہ غیر جانبدار استصواب رائے کے اپنے عدوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان بار کونسل نے اپنے ایک اعلامیہ میںمقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کی 2019 میں منسوخی کو برقرار رکھنے کے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کی شدید مذمت کی۔ جس میں جموں وکشمیر کے خطے میں بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخ کرنے کے 5 اگست 2019 کے بھارتی کے شرمناک اقدام کو برقرار رکھنے کے فیصلے نے بھارتی سپریم کورٹ کی ساکھ کو مجروح کیا ہے ۔ کیونکہ یہ مسخ شدہ تاریخی اور قانونی انصاف کا ڈھونگ ہے۔ چونکہ پاکستان جموں و کشمیر کو بین الاقوامی طور پر متنازعہ علاقہ سمجھتا ہے اس لئے ہندوستانی آئین کی بالا دستی کو تسلیم نہیں کرتا ۔
عبدالرشید عباسی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کی گولڈن جوبلی کے موقع پر میں عدالتعظمیٰ کے پچاس سالہ عدالتی سفر کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ سپریم کورٹ کے قیام کے وقت درپیش مسائل اور ابتدائی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں کہا کہ 1975 میں عدالت کا قیام میونسپل کارپوریشن کی بلڈنگ میں عمل میں آیا اور بعد ازاں 2005 کے زلزلے میں موجودہ عمارت کو شدید نقصان پہنچا جس کی مرمت اور تزئینِ نو حال ہی میں مکمل ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ پچاس برسوں میں شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا ۔ صحت، ماحولیات، اور عوامی مفاد کے کئی اہم معاملات پر تاریخی فیصلے دیے، جن میں قیمتی سرکاری اراضی کے تحفظ، صاف دودھ کے لئے لیبارٹری کا قیام اور غیر معیاری ادویات کی روک تھام کے لیے اقدامات شامل ہیں۔سپریم کورٹ کی انتھک محنت اور ججز کی لگن کے نتیجے میں 1131 زیرالتواء مقدمات نمٹا دیے گئے اور اب صرف 2024 اور 2025 کے کیسز باقی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالتِ عظمیٰ مستقبل میں بھی شفاف اور تیز تر انصاف کی فراہمی کے لیے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرتی رہے گی۔
آزاد کشمیر حکومت کی معاون خصوصی برائے قانون انصاف وپارلیمانی امور محترمہ نبیلہ ایوب ایڈووکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ میرے لیےیہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ میں سپریم کورٹ کی گولڈن جوبلی تقریب سے خطاب کر رہی ہوں۔ اللہ نے انصاف قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور انصاف کے منصب پر فائز لوگ بہترین کام کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیر نے ہمیشہ غیر جانبداری کو مقدم رکھا ہے اور تاریخی فیصلہ جات دئیے ہیں۔ سپریم کورٹ نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ہمیشہ بہترین فیصلہ جات کیے۔ حال ہی میں بلدیاتی انتخابات کروانے میں سپریم کورٹ کا کردار ناقابل فراموش ہے جس میں موجودہ چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان کا کردار نہایت اہم رہا۔ انہوں نے کہا بار اور بینچ کا تعلق انصاف کے نظام میں اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ انصاف کی بروقت فراہمی میں بار اوربینچ نےمل کر کام کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ آن لائن مقدمات کی سماعت، آن لائن کاز لسٹ اور آئی ٹی کا استعمال شروع کیا گیا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ آزادکشمیر میں اسی طرح انصاف کا نظام قائم رہے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھی انصاف اور آزادی نصیب ہو۔
وائس چیئرمین آزاد جموں وکشمیر بار کونسل عقاب احمد ہاشمی نے کہا کہ آج ہم ریاست جموں و کشمیر کی اعلیٰ ترین عدالت کی پچاس سالہ تاریخ کا جشن منا رہے ہیں۔ یہ دن عدلیہ کی خودمختاری، قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔ آزاد جموں و کشمیر جیسے مشکل خطے میں، قدرتی آفات، وسائل کی کمی اور لائن آف کنٹرول کی کشیدگی کے باوجود گزشتہ پچاس سالوں میں سپریم کورٹ نے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جو نہ صرف قابلِ ستائش بلکہ قابلِ تقلید ہے۔ ہم سابقہ و موجودہ چیف جسٹس صاحبان، ججز، وکلاء اور عدالتی عملے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ وکلاء برادری اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ انصاف کے نظام کو مزید مستحکم بنایا جائے گا اور قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کو اس کامیاب عدالتی سفر پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ یہ ادارہ آئندہ بھی ریاست میں قانون اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔
جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےصدر آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن جاوید نجم الثاقب نے کہا کہ آئین کی سربلندی اور قانون کی حکمرانی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ آزادجموں وکشمیر ممتاز شناخت کا حامل خطہ ہے۔ ریاست جموں و کشمیر میں عدالت اعظمی کا قیام بلاشبہ ایک تاریخی عمل ہے۔ آج ہم ان روشن ضمیروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس خطہ میں آئین کی بالادستی، شہری آزادیوں کے تحفظ اور بنیادی حقوق کی پاسبانی کے علم کو بلند رکھا، مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان کے مشکور ہیں کہ جن کی کاوشوں سے پاکستان سپریم کورٹ بار کی سفارش پر فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں آن لائن کورسز کے لیے آزاد کشمیر کے وکلا کو شامل کیا۔ فیڈرل جوڈیشل سروسز میں آزادکشمیر کے وکلاء کے لیے دو فیصد کوٹہ کرنے سپریم کورٹ آف پاکستان کے زیر اہتمام کلرک شپ ٹریننگ پروگرام میں آزادکشمیر کے وکلا کو شامل کرنے کی راہ ہموار کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف آزادجموں و کشمیر عزت انصاف اور وقار کا مظہر بن چکی ہے۔ پچھلے پچاس سال میں سپریم کورٹ آف آزادجموں و کشمیر نے آئینی تنازعات میں انصاف اوراصول پسندی کو فوقیت دی۔ ریاستی اداروں کے درمیان توازن اور ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے۔ قانون کی حکمرانی عدالتی نظام کی اولین ترجیح ہے۔ انصاف کی موثر فراہمی کے لیے عصر حاضر کے تقاضوں کو یقینی بنانا ہوگا۔ عدالتی اصلاحات، ٹیکنالوجی کا موثر استعمال اور متبادل تنازعاتی حل کے طریقوں کا فروغ ضروری ہے۔ دیوانی مقدمات کو طوالت سے بچانے کے لیے لازم ہے کہ کہ طلبی کے نظام میں ترمیم کی جائے اور طلبی کا عمل جلد مکمل کیا جائے ، فوجداری مقدمات میں شواہد کی تصدیقُ کے لیے فورینزک سہولیات اور اور ماہرین کی دستیابی معاون ثابت ہوگی۔ ماہر تفتیشی آفیسران کی تعیناتی یقینی بنائی جائے ، یہاں پنجاب کی طرز پر پراسکیوشن کا الگ محکمہ بنایا جائے ، سزا کے بعد سزا معطلی کی درخواست کی بروقت مقرر نہ ہونا سائلین کی مشکلات میں اضافہ کرتا ہے ، اس کے لیے اقدام کے ساتھ حکم امتناعی عارضی کے معاملات کو ماتحت عدالتوں کی سطح پر یکسو کرنا بھی اس مجلس کے مقاصد کی تکمیل کی طرف ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو افیسران طویل عرصہ سے بیک وقت انتظامی اور عدالتی فرائض سرانجام دے رہے ہیں جبکہ عدلیہ اور انتظامیہ طویل عرصہ سے الگ ہو چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ سے ریونیو مقدمات کی سماعت کے اختیارات واپس لے کر ریونیو کورٹس کا قیام یقینی بنایا جائے ، لہٰذا عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ججز کو تقرر عمل میں لایا جائے، پانچ سال کے تجربے کے حامل وکلا کو ریونیو جج مقرر کیا جائے ،صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے صارفین کی عدالتیں قائم کی جائیں ، عدالتی کاروائی میں غیر ضروری تعطل کا باعث بننے والوں کو سزاء وار ٹھہرایا جائے ، عدم مساوات کے خاتمہ کے لیے عدالتوں کا کردار مسلمہ ہے ، شہریوں کی توقعات عدالتی نظام سے جڑی ہیں، موثر انصاف کی فراہمی کے لیے پیچیدگیوں کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں