گل پلازہ آتشزدگی 140

کراچی میں قیامت صغریٰ: گل پلازہ آتشزدگی میں فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق، اربوں کا نقصان

کراچی — 18 جنوری 2026 کراچی کے مصروف ترین تجارتی مرکز ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہفتے کی شب لگنے والی تیسرے درجے کی ہولناک آگ نے تباہی مچا دی۔ اس افسوسناک واقعے میں اب تک ای

ک فائر فائٹر سمیت 6 افراد کی جانیں جا چکی ہیں، جبکہ 100 سے زائد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

واقعہ کی تفصیلات اور جانی نقصان

ریسکیو حکام کے مطابق آگ ہفتے کی رات تقریباً 10:15 بجے گراؤنڈ فلور پر موجود مصنوعی پھولوں کی ایک دکان میں لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پھیل گئی۔

شہداء: جاں بحق ہونے والوں میں ایک بہادر فائر فائٹر فرقان بھی شامل ہے جو ملبے تلے دب کر شہید ہوا۔

زخمی: 20 سے زائد افراد جھلس کر زخمی ہوئے جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

خدشات: سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری کے مطابق، ملبے تلے ایک حاملہ خاتون سمیت 100 سے زائد افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔

ریسکیو آپریشن اور پاک بحریہ کی شرکت

آگ کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ شہر بھر کی فائر ٹینڈرز کے ساتھ ساتھ پاک بحریہ کو بھی طلب کرنا پڑا۔

امدادی ٹیمیں: 20 فائر ٹینڈرز، 4 اسنارکلز اور پاک بحریہ کے 70 اہلکار ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔

مشکلات: شدید تپش، زہریلے دھوئیں اور عمارت کے کمزور حصوں کے گرنے کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو اندر داخل ہونے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ آپریشن کے دوران فائر بریگیڈ کی سیڑھی ٹوٹنے سے بھی دو اہلکار زخمی ہوئے۔

تباہی کے اسباب اور مالی نقصان

ابتدائی تحقیقات کے مطابق، آگ مصنوعی پھولوں کی دکان سے شروع ہوئی جہاں آتش گیر مواد موجود تھا۔ آگ کے دوران گیس لیکیج کی وجہ سے ایک زوردار دھماکا بھی ہوا جس نے آگ کو مزید بھڑکا دیا۔

کاروباری نقصان: گل پلازہ میں لگ بھگ 1200 دکانیں موجود ہیں۔ گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں مکمل طور پر خاکستر ہو چکی ہیں۔ تاجروں کے مطابق، اربوں روپے کا مال جل کر راکھ ہو گیا ہے اور کئی دکانداروں کی زندگی بھر کی جمع پونجی ختم ہو گئی ہے۔

عمارت کی حالت: یہ عمارت قیامِ پاکستان سے قبل کی ہے اور آگ کی تپش نے اس کے ستونوں کو شدید کمزور کر دیا ہے، جس کی وجہ سے عمارت کا ایک حصہ پہلے ہی گر چکا ہے۔

حکومتی ردِعمل اور تعزیت

صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم کی ہدایت: وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو حکم دیا ہے کہ پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں اور متاثرہ تاجروں کی مدد یقینی بنائی جائے۔

صدر زرداری کا بیان: صدر نے سندھ حکومت کو زخمیوں کے بہترین علاج اور جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کی مکمل معاونت کی ہدایت کی ہے۔

میئر کراچی اور گورنر: میئر مرتضیٰ وہاب اور گورنر کامران ٹیسوری نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں