3

ایران اسرائیل براہِ راست جنگ 2026: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی انتہا پر؛ عالمی منڈیوں اور پروازوں پر اثرات

تہران/تل ابیب — 28 فروری 2026 ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست فوجی کارروائیوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے علاقائی تصادم کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں بھی متحرک ہو گئی ہیں۔

تازہ ترین صورتحال: حملے اور جوابی کارروائیاں

اسرائیل کا ایران پر حملہ: رائٹرز اور سی این این کی رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی فضائیہ نے تہران کے قریب کئی فوجی تنصیبات اور ڈرون پروڈکشن یونٹس پر درست نشانہ بننے والے میزائل داغے ہیں۔

ایران کا اسرائیل پر جوابی حملہ: اس کے فوراً بعد، ایران نے اسرائیل کے تجارتی مرکز تل ابیب اور دیگر حساس علاقوں کی جانب سینکڑوں ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے بڑا حملہ کیا۔

امریکہ کا کردار: صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے خطے میں اپنے بحری بیڑے روانہ کر دیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ “بھرپور دفاعی پالیسی” پر عمل پیرا ہے، تاہم امریکی عوام میں ایران کے ساتھ ایک نئی جنگ کے حوالے سے کافی خدشات پائے جاتے ہیں۔

فضائی حدود کی بندش اور فلائٹ ٹریکر (Radar 24) اپ ڈیٹس

Radar 24 اور Flight Tracker کے ڈیٹا کے مطابق، ایران، اسرائیل اور عراق کی فضائی حدود کو سویلین پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ عالمی ایئر لائنز اپنی پروازوں کے رخ تبدیل کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے بین الاقوامی سفر میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔


عالمی اثرات: تیل کی قیمتیں اور معیشت

ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے خطرے نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے:

خام تیل کی قیمتیں: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 15 فیصد سے زائد کا اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اسٹاک مارکیٹ: ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں میں غیر یقینی کی صورتحال کی وجہ سے عالمی اسٹاک مارکیٹس مندی کا شکار ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای کا بیان: ایران کے سپریم لیڈر نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ “تزویراتی صبر کا دور ختم ہو چکا ہے،” جس کا مطلب مزید جارحانہ کارروائیاں ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں