1

حکومت بنانے کا فیصلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے آسان نہیں تھا وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور

ڈیلی دومیل نیوز،آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ حکومت بنانے کا فیصلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے آسان نہیں تھا۔ اس وقت ریاست میں شدید سیاسی تلخیاں، بے یقینی اور عوام میں مایوسی موجود تھی۔ صدر آصف علی زرداری اور پارٹی قیادت نے یہ سوچ کر ذمہ داری قبول کی کہ اگر ایسے مشکل وقت میں پیپلز پارٹی آگے نہیں آئے گی تو پھر کون آئے گا، کیونکہ پیپلز پارٹی کا مزاج ہمیشہ مکالمہ اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے معروف اینکر پرسن خواجہ اے متین کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوے کیا ۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ حکومت بنتے ہی سب سے پہلے عوامی مسائل اور ایکشن کمیٹی کے معاہدے میں شامل نکات کی ذمہ داری لی گئی اور جو معاملات حکومت آزاد کشمیر کے دائرہ اختیار میں تھے ان پر فوری کام شروع کیا گیا۔ مسلسل اجلاس، اسمبلی سیشنز اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے لوگوں سے براہِ راست رابطہ بحال کیا گیا، وزیراعظم ہاؤس اور سیکرٹریٹ کے دروازے کھولے گئے اور ہر ممکن مسئلے کو سن کر حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگر عوام کو یہ امید ہو کہ ان کے منتخب نمائندے ان کی بات سن رہے ہیں اور مسائل حل کرنے کی نیت رکھتے ہیں تو لوگ حکومت کی کمزوریوں کو بھی برداشت کر لیتے ہیں، لیکن اگر اعتماد ختم ہو جائے تو لوگ اچھائیوں کے بجائے خامیاں تلاش کرنے لگتے ہیں۔حکومت کو مشکل حالات میں اقتدار ملا لیکن چھ سے سات ماہ کے اندر کوشش کی گئی کہ ایسے راستے بنائے جائیں جو آنے والی حکومتیں بھی جاری رکھ سکیں۔ اسی سلسلے میں 20 اپریل کو آزاد کشمیر میں زراعت کے حوالے سے ایک بڑی کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے تاکہ لوگوں کو خود کفالت کی طرف لایا جا سکے اور مقامی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بار بار تحریکیں چلانا، راستے بند کرنا اور ریاست میں بے چینی پیدا کرنا مناسب نہیں کیونکہ ماضی میں ایسی تحریکوں کے نتیجے میں تیرہ جانیں ضائع ہوئیں۔ اس لیے مسائل کا حل مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔معاہدے کے زیادہ تر نکات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، تاہم ایک اہم معاملہ مہاجرین کی نشستوں کا ہے جو معاہدے میں شامل تھا اور اس پر ابھی مزید پیش رفت ہونا باقی ہے کیونکہ اس کے کچھ پہلو وفاقی حکومت سے متعلق ہیں۔ باقی معاملات بتدریج حل کیے جا رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ دیکھیے، پچھلے عرصے میں انہیں ایک عوامی طاقت ملی، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کی طرف سے فیصلوں میں تاخیر کی وجہ سے ان کے بیانیے کو عوامی پذیرائی ملی۔ اب وہ اس پوزیشن کو چھوڑنا نہیں چاہتے اور بار بار سڑکوں پر فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔​ہم چاہتے ہیں کہ فیصلے سڑکوں کے بجائے بیٹھ کر کیے جائیں۔ ہم نے بڑی مشکل سے ریاست کے نظم و نسق کو بحال کیا ہے۔ میں نے اپنی ساڑھے چار ماہ کی حکومت کے دوران کسی بھی میڈیا ٹاک میں ایکشن کمیٹی کے کسی فرد کو نہ دھمکایا ہے اور نہ ہی کوئی غلط بات کی ہے۔ میں نے ہمیشہ یہی کہا کہ وہ ہمارے بھائی ہیں اور ہمارا مقصد ریاست کی بہتری ہے۔ میں خود ان کے گھر گیا اور انہیں حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی دعوت دی۔​میرا خیال ہے کہ ہم نے بہت کھلے دل سے اپنا رویہ رکھا ہے اور اب لوگ بھی یہ سمجھ گئے ہیں کہ نظام ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے چیزوں کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک سیاسی عمل ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہم اس قابل نہیں، تو الیکشن لڑیں اور ہمیں تبدیل کر کے نظام کو بہتر بنائیں۔​ریاست میں دو متوازی نظام نہیں چل سکتے۔ یہاں لوگ ایک دوسرے سے قبائلی، ذاتی اور جماعتی بنیادوں پر جڑے ہوئے ہیں۔ جو افراتفری پھیل رہی تھی اس سے بہت نقصان ہو سکتا تھا، لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں بچا لیا۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اس بات کی کوشش کی ہے کہ عوام کے جائز مطالبات کو سنا جائے اور انہیں پورا کیا جائے۔ جو لوگ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ حکومت عوام کے خلاف ہے، وہ غلطی پر ہیں۔ ہماری تمام تر پالیسیاں اور کوششیں ریاست کے استحکام اور شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہیں۔​میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ریاست کے اندر کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے، لیکن اس کی آڑ میں انتشار پھیلانا یا ریاستی اداروں کو مفلوج کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔​ہم نے بجلی کی قیمتوں اور دیگر بنیادی مسائل پر وفاق کے ساتھ مل کر تاریخی فیصلے کیے ہیں جن کا براہِ راست فائدہ کشمیر کے عوام کو پہنچ رہا ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ کشمیر کے وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہو، اور ہم اسی نظریے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر ایک پرامن اور ترقی یافتہ ریاست بنے، اور اس کے لیے ہمیں عوام کے تعاون کی ضرورت ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں