تحریر :سید برکت حسین شاہ
والدین کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے بہترین تعلیم حاصل کریں، ان کی تربیت اعلیٰ اصولوں پر ہو تاکہ وہ زندگی میں کامیاب اور سرخرو رہیں۔ آج کے جدید دور میں یہ خواہش اور بھی شدید ہو چکی ہے، کیونکہ دنیا میں ترقی کے لیے عصری علوم سے آگاہی ضروری سمجھی جاتی ہے۔ یہ خواہش بالکل فطری ہے اور کسی بھی لحاظ سے غیر مناسب نہیں۔بعض والدین کی یہ ترجیح ہوتی ہے کہ ان کے بچے دینی تعلیم حاصل کریں، قرآن کریم کی تلاوت و تجوید سیکھیں اور مذہبی علوم میں مہارت حاصل کریں۔ یہ بھی ایک مستحسن خواہش ہے، مگر زندگی میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ دینی اور دنیاوی علوم میں ایک متوازن راہ اختیار کی جائے۔ قرآن کریم کی صرف تلاوت ہی نہیں بلکہ اس کے مفہوم اور پیغام کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ ایسے افراد کی کمی نہیں جو دینی اور دنیاوی دونوں علوم میں مہارت رکھتے ہیں اور اپنے شعبہ جات میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔والدین اپنی زندگی کی تمام تر مشکلات اور قربانیوں کے باوجود یہ چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد کو وہ تمام سہولیات میسر ہوں جو انہیں خود حاصل نہ ہو سکیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ایک کامیاب، باوقار اور بامقصد زندگی گزاریں۔پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے، جس کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ اگرچہ کچھ نظامی کمزوریاں اور خرابیاں موجود ہیں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے بنیادی نظریات کو نظر انداز کر دیا جائے۔ پاکستان کی مسلح افواج ہمیشہ نظریاتی اور جغرافیائی اعتبار سے دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کے اصولوں پر کاربند رہنا ہے۔ ہر دور میں ان کی قیادت ایسے افراد کے ہاتھ میں رہی ہے جو اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک رہے ہیں۔موجودہ آرمی چیف، جنرل سید عاصم منیر، کو اس وقت فوج کی قیادت ملی جب ملکی سیاست میں بے یقینی کی فضا موجود تھی اور بعض فیصلوں کے اثرات فوجی ادارے پر بھی پڑ رہے تھے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ جو گزشتہ 15 سالوں سے جاری ہے، ایک نہایت پیچیدہ جنگ ہے، جس میں دشمن اپنی صفوں میں چھپ کر حملہ آور ہوتا ہے۔ جنرل عاصم منیر نے اس جنگ کے اصل عوامل کو قرآن و حدیث کی روشنی میں سمجھا اور خوارج کی اصطلاح کو استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں کے چہرے کو بے نقاب کیا۔ یہ پہلی بار ہوا کہ کسی آرمی چیف نے دینی اور نظریاتی بنیاد پر ملک دشمن عناصر کی حقیقت واضح کی۔
یہ بڑی اہم بات ہے کہ وطن عزیز کی نظریاتی فوج کی کمان ایسے جنرل کے ہاتھ میں ہے جو کہ اپنے سینے میں قرآن پاک کو محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ جنرل سید عاصم منیر کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ وہ حافظ قرآن ہیں اور دین کی گہری سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں قرآن و حدیث کا حوالہ اور حکمت جھلکتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی نظریاتی فوج کو ایک ایسا سربراہ ملا ہے جو نہ صرف عسکری قیادت کا ماہر ہے بلکہ اسلامی اصولوں سے بھی گہری واقفیت رکھتا ہے۔والدین ہمیشہ اپنی اولاد کے لیے قربانیاں دیتے ہیں، اور ان کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہوتی ہے کہ ان کے بڑھاپے میں ان کی اولاد ان کی خدمت کرے، ان کی صحت اور ضروریات کا خیال رکھے۔ اگر والدین میں سے کوئی دنیا سے رخصت ہو جائے اور اس کا نماز جنازہ اولاد خود پڑھائے، تو اس سے بڑی سعادت کی کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ والدین کے ساتھ محبت کرنے والے اور ان کی خدمت کرنے والے بچوں کو ہمیشہ اپنی رحمت میں رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جنرل سید عاصم منیر کی زندگی ایک قابل تقلید مثال بن چکی ہے۔ وہ نہ صرف پاکستان کے پہلے حافظِ قرآن سپہ سالار ہیں، بلکہ انہوں نے اپنی والدہ کا جنازہ خود پڑھایا، جو ایک عظیم سعادت ہے۔ یہ لمحہ اس بات کی علامت ہے کہ دین اور دنیا کے درمیان توازن قائم رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔میں اپنے اس مضمون کو دنیا کے تمام والدین اور خصوصاً ان والدین کے نام کرتا ہوں جو اپنی اولاد کے لیے قربانیاں دیتے ہیں، اور میں جنرل سید عاصم منیر کے اس مثالی کردار کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک منفرد اور نظریاتی مقام حاصل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دین اور دنیا کے توازن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!اور میں جنرل سید عاصم منیر کو یقین دلاتا ہوں کہ قوم کے وہ تمام اکثریتی حلقے جن کا ملکی سلامتی، ترقی اور استحکام کے عمل میں کردار موجود ہے، وہ سب کے سب آپ کے ساتھ ہیں اور پُرامن، مضبوط اور مستحکم پاکستان کی منزل حاصل کرنے کے لیے مسلح افواج کے تحت اپنے بھائیوں اور بیٹوں کی قربانیوں کے اثرات کو بچانے میں اپنا کردار ادا کریں گے
6