2

زاہدہ حنا: اردو ادب کی توانا آواز اور فکری شعور کی علامت

کراچی — 23 فروری 2026

اردو ادب میں جب بھی سماجی مسائل، خواتین کے حقوق اور سیاسی شعور کی بات ہوتی ہے، زاہدہ حنا کا نام صفِ اول میں آتا ہے۔ وہ ایک ایسی ادیبہ ہیں جنہوں نے اپنے قلم کو مصلحتوں سے آزاد رکھا اور ہمیشہ انسانیت اور سچائی کا ساتھ دیا۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی

زاہدہ حنا 5 اکتوبر 1946 کو سسرام (بہار، بھارت) میں پیدا ہوئیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی اور بعد ازاں کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی۔ انہوں نے محض 9 سال کی عمر میں اپنی پہلی کہانی لکھ کر اپنے ادبی سفر کا آغاز کر دیا تھا۔

ادبی کام اور صحافتی کیریئر

زاہدہ حنا کا کیریئر پانچ دہائیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے صحافت کا آغاز 1960 کی دہائی کے وسط میں کیا:

کالم نگاری: وہ روزنامہ جنگ اور روزنامہ ایکسپریس سے وابستہ رہی ہیں۔ ان کے کالم اپنی گہری سیاسی بصیرت اور غیر جانبدارانہ تجزیے کی وجہ سے بہت پسند کیے جاتے ہیں۔

بین الاقوامی پہچان: انہوں نے بی بی سی اردو، وائس آف امریکہ اور بھارتی اخبار ‘دینک بھاسکر’ کے لیے بھی کالم لکھے ہیں۔

مشہور تصانیف

ان کی تحریروں کا ترجمہ انگریزی، ہندی، بنگالی اور مرہٹی سمیت کئی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ ان کی چند نمایاں کتابیں درج ذیل ہیں:

کتاب کا نامصنفِ ادب
قیدی سانس لیتا ہےافسانوی مجموعہ
تتلیاں ڈھونڈنے والیافسانوی مجموعہ
رقصِ بسمل ہےافسانوی مجموعہ
درد کا شجرناول
عورت: زندگی کا زنداںسماجی موضوعات

خاندانی زندگی: جون ایلیا سے رشتہ

زاہدہ حنا کی نجی زندگی بھی ادب کے گرد ہی گھومتی رہی۔ 1970 میں ان کی شادی اردو کے شہرہ آفاق شاعر جون ایلیا سے ہوئی۔ یہ رشتہ 1984 تک چلا جس کے بعد دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔ ان کے تین بچے ہیں:

زریون (بیٹا)

فینانہ (بیٹی)

سوہینہ (بیٹی)انہوں نے اپنے بچوں کی پرورش ایک مضبوط اور خود مختار ماں کے طور پر کی۔

اصول پسندی اور اعزازات

زاہدہ حنا نے ہمیشہ اپنے اصولوں کو اعزازات پر فوقیت دی۔ 2006 میں جب حکومتِ پاکستان نے انہیں اعلیٰ ترین سول اعزاز ‘تمغہ حسنِ کارکردگی’ (Pride of Performance) کے لیے نامزد کیا، تو انہوں نے اس وقت کی فوجی حکومت کے خلاف بطور احتجاج اسے لینے سے انکار کر دیا۔ انہیں سارک (SAARC) لٹریری ایوارڈ سمیت کئی بین الاقوامی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔+1

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں