99

پاکستان میں تعصب و تنگ نظری کی فیکٹریاں اور فلسطین پراسرائیلی جارحیت اور جنگی جرائم

”پاکستان میں تعصب و تنگ نظری کی فیکٹریاں اور فلسطین پراسرائیلی جارحیت اور جنگی جرائم“
تحریر:آغا سفیرحسین کاظمی
قارئن!اس امرمیں کوئی دورائے نہیں کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے،جسے ”فلسطین کی سرزمین“پرقائم کیا گیا۔اور اسرائیل یعنی صہیونی ریاست کے قیام کے بعد دوسرے مرحلہ میں اسکی توسیع کا عمل شروع ہوا تو فلسینی اپنے زمین گھربارسے محروم ہونے لگے۔عرب اسرائیل جنگ ہوئی تو مسلمانوں کی اندرونی غداریاں،شکست کا موجب بنیں۔بعدازاں بھی ہروہ کوشش ناکامی سے دورچارہوئی،جس کا مقصد اسرائیل کی توسیع پسندی کوروکنا ہوا۔امام خمینی نے سالہاسال پہلے کہہ دیا تھا کہ اگرمسلمان ایک ایک چُلو پانی بھرکر اسرائیل پرڈالنے لگیں،تو یہ ڈوب جائے گا۔مگربااثرعربوں سمیت مسلمان حکمرانوں کی یہودونصاریٰ سے قربت نے اسرائیل کوحاوی ہونے کا راستہ دیا۔اب یہ ناجائزصہیونی ریاست فلسطینیوں کیخلاف جنگی جرائم کی انتہاؤں پرپہنچی ہوئی ہے۔دوسری جانب برائے نام مسلمان حکمرانوں کی نامعلوم ترجیحات کیاہیں؟ اور یہ سب کسی نہ کسی اعتبارسے یہودونصاریٰ اور ہنود کے تابعداری کررہے ہیں اور امریکا ایسی ہرتحریک کا سرخیل ہے جو مسلمانوں کا شیرازہ مذید بکھیرکراِنھیں توڑنے اور بکھیرنے میں معاون بن سکے۔اس بارجنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیدا شدہ نئی صورتحال میں کچھ چیزیں نمایاں ہوئیں تو اس طرح کا ردعمل فطری تھا جوکہ اسرائیل کیخلاف حماس نے دیا۔لیکن یہ باورکرنا کہ یہ سب صرف حماس ہی کررہی ہے۔اور اسلامی دُنیا میں سے کوئی بھی اُنکی مددنہیں کررہا۔نہایت بے خبری،لاعلمی یا پھربغض تعصب و تنگ نظری ہے۔کیونکہ حماس نے کوئی اچانک ردعمل نہیں دیا۔یقینی طورپراُس نے مناسب وقت کا انتظارکیا۔ اور حزب اللہ،انصاراللہ اور دوسری اسلامی تنظیمیں جوکہ شیعہ ہیں اُنھوں نے دُنیا میں اپنے روحانی پیشوا آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامناای کی ہدایات کیمطابق پوری حکمت اور قوت سے اسرائیل کیخلاف مزاحمت کو بام عروج تک پہنچنے میں حماس کی مددکی ہے۔ شیعہ سنی کا مسئلہ صرف وہیں پہ وجہ نزاع بنتا ہے۔ جہاں دین کے لبادے میں جہالت کاغلبہ ہو۔شایداسی لئے کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں ہی فرقہ وارایت کابیج کاشت ہوتا ہے اور فصلیں بھی کاٹی جاتی ہیں۔۔۔۔جہا ں مسلمانوں کا حقیقی کفارسے سامنا ہے وہاں دین اسلام کو خواہشات کے حصول کا ٹول نہیں بنایاجاتا۔اسکا ثبوت حنفی العقیدہ سنی تنظیم حماس اور شیعہ اثناء عشریہ حزب اللہ و دیگرہیں۔جنہیں یہودونصاریٰ ایک دوسرے کیخلاف استعمال نہیں کرپارہا۔ کیونکہ ان میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے کفراور اسلام کا فیصلہ نہیں کرتے۔اور دشمنوں کے مقابلے میں باہمی اتحادویگانگت کا مظاہرہ کرنے میں کوئی شئے آڑے نہیں آنے دیتے۔اور رہبرمعظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای اسرائیل کیخلاف واضع موقف رکھتے ہیں۔اور ایران بطورملک بھی اسرائیل کیخلاف اپنے بیانیہ پرسختی سے کاربندہے۔اور حماس کوتقویت دینے کے کسی بھی عمل بارے کوئی معمہ نہیں۔ سنجیدہ حلقے سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں بعض نادان دوستوں اورملک و قوم کے بدخواہوں نے فلسطین سے دوستانہ لبادہ میں سوشل میڈیا کو ریاست پاکستان کیخلاف منفی پروپگنڈؤں کا ذریعہ بنارکھا ہے۔اور پروپگنڈہ اس قدرمہارت سے کیا جارہا ہے کہ پاکستانی عوام ہی نہیں بلکہ خواص میں بھی ملکی قیادت اور اداروں سے متعلق شکوے شکایات ہونے لگی ہیں۔حالانکہ پاکستان سفارتی سطع پرآواز اُٹھاسکتا ہے۔اور جہاں تک ممکن ہو فلسطینیوں کے لئے میڈیکل سمیت اشیائے خوردونوش بھیجوا رہا ہے۔پاک فوج کی جانب سے اب تک امدادی سامان کی کھیپ دوباربھیجوائی گئی ہے تاہم اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کیلئے کسی بھی قسم کی امدادپہنچنے دینے میں رکاوٹیں موجود ہیں۔۔۔۔کچھ لوگوں کے دماغ شایدکنٹرول ہورہے ہیں۔شاید اسی لئے جہاں فلسطینی بچوں کے لاشے دکھائے جارہے ہیں،بلکہ پاک فوج کو فلسطین بھیجنے کا تقاضا بھی کیا جارہاہے۔حالانکہ جغرافیائی دُوری اور کئی درپیش چیلنجزکیساتھ ساتھ ریاست پاکستان کواپنے عرب بھائیوں سمیت کچھ دوسرے دوستوں کے حوالے سے بھی محتاط رہ کر چلنا پڑتاہے۔کیونکہ فلسطین کا معاملہ موجودہ سطع تک پہنچنے کا سبب عربوں کی باہمی بدنیتی اور ارسرائیل کے مقابلے میں رہتے ہوئے بارباراندرسے غداری ہے۔اس لئے اسرائیل کیخلاف لڑنے کیلئے جھتے بھیجنے کی حماقت نہیں کی جاسکتی۔چہ جائیکہ پاک فوج کو فلسطین بھیجا جائے۔ایسا مطالبہ یا خواہش، حماقت اور لاعلمی کے سوا کچھ نہیں۔اور جوکاریگرسوشل میڈیا پراس حوالے سے موضوع بنائے ہوئے ہیں۔وہ دراصل نادانستگی کا زیادہ ہوشیاری دکھانے کے چکر میں ”دشمن کاٹول“بنے ہوئے ہیں۔اوراپنے ملک کی افواج کی ساکھ کواپنے لوگوں میں خراب کرنا چاہتے ہیں۔۔۔
قارئن کرام! یا درکھنا چاہیے کہ پاکستان اقوام متحدہ کا رکن ملک ہے اورایٹم بم کا حامل بھی ہے۔چونکہ رکن ممالک پرکچھ قواعدوضوابط کی پابندی لازم ہے۔اور پھرپاکستان تو کب سے ہندوستان سمیت کچھ عالمی قوتوں کی نظربدمیں ہے۔اُنھیں کوئی ایسا موقع چاہیے کہ سبھی ہمارے ایٹمی اثاثوں کو ہتھیانے اور ہمیں حقیقی معنوں میں پتھرکے دورمیں بھیجنے کا انتظام کریں۔یہ تو اب تک ہمارے منصوبہ سازوں کیوجہ سے پاکستان کی بدخواہ قوتیں ہمیں کسی سازش کا شکاربنانے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔۔۔۔۔ اسرائیل کو لگام دینے کی بات کی جائے تواس حوالے سیسنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔تاکہ اسرائیل اور اُسکے سرپرستوں کے ہوش ٹھکانے لگائے جاسکیں۔ مثلاََ امریکی و یورپی بنکوں میں پڑی دولت نکال لی جائے۔ اور وہاں موجود اثاثوں کو اپنے اپنے ممالک میں واپس لایا جائے۔اور اسرائیل اور اُسکے پُشت بانوں کی مصنوعات پرپابندی لگا دی جائے اور لوگ بھی مارکیٹوں سے خریدنے کا عمل ترک کردیں تو معاشی جھٹکے سے بھی کچھ کچھ ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔اور پھراپنی صفوں میں وہیں طریقہ کاراختیارکرلیا جائے جو حنفی اور اثناء عشری مسلمانوں کی قیادت نے یہودونصاریٰ کیخلاف اپنا رکھا ہے۔اس طرح پاکستان سے بھی اسرائیلی و امریکی مفادات کو فارغ کیا جاسکتا ہے۔اور جب یہ بھی نہیں کرپارہے تو پھرکم ازکم سوشل میڈیا کو ہی کنٹرول کرلیا جائے تو عام آدمی اور خواص کی اچھی خاصی تعدادجوفلسطین پراسرائیلی بربریت کیخلاف سخت صدماتی کیفیت سے دوچارہے۔اُنکے ذہنوں میں نقب لگاکر پاکستانی قیادت اور اداروں کیخلاف نفرت بھرنے کی دانستہ و نادانستہ کوششوں کا راستہ کس حد تک روکا جاسکتاہے۔اس پہلو پرغورکرلینا چاہیے۔یہاں سوشل میڈیا کی نگرانی کے ذمہ داران سے کہنا چاہوں گا کہ فائلوں کے پیٹ بھرنے کے بجائے سوشل میڈیا پرمنفی رحجانات میں پوشیدہ جنگ کے مُہلک اثرات کا ادراک کیجئے۔کیونکہ آگ کسی کی دوست نہیں اور جب آگ لگ جائے تو پھراُسکی لپیٹ میں کوئی بھی آسکتا ہے۔اس لئے پاکستان میں سوشل میڈیا پر تعصب و تنگ نظری کی چلنے والی فیکٹریاں بندکریں ،کیونکہ یہ فیکٹریاں چلانے والے مسالک کی پروموشن چاہتے ہیں؟یاکسی دوسرے کیخلاف پروگنڈہ سے کوئی مفادمنسلک ہے۔یاایسے ہی پروپگنڈے سے متاثرہوکر اُسکا حصہ بننے کی بات ہو۔کچھ بھی ہو۔ مگریہ وطیرہ سراسرغلط ہے۔2023میں اس طرح کی روش کو ملک و اسلامی اقدارو تشخص سے دشمنی کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔۔۔۔۔۔ آخرمیں یہ کہناہے کہ سوشل میڈیا پرجہاں فلسطینیوں کی حمایت میں بات کی جائے وہیں یہ بھی بتایا جائے کہ فلسطین کے معاملے میں عربوں سمیت اسلامی ممالک کی ترجیحات کا اندازہ کرلینا چاہیے۔ اورپاکستان کیساتھ مسلم ممالک کا اخلاص کس قدرقابل اطمینان ہے؟یہ بھی دیکھنا چاہیے۔ جنہیں قبلہ اؤل نظرنہ آیا اور فلسطین پرناجائز اسرائیلی ریاست کو موجودہ سطع تک پہنچانے کے ذمہ دارہیں۔وہ پاکستان کے خیرخواہ کیسے ہوسکتے ہیں؟؟؟ اس لئے پاکستان کے بارے میں ایسے پروپگنڈے کو مستردکردیاجائے جس میں ملکی قیادت اور افواج کو فلسطین کی حمایت میں جانے کی بات ہو۔ ایسامطالبہ بدنیتی پرمبنی ہے۔اور پھرپاکستان میں تو ہماری اپنی فوج کوپتہ نہیں کس کس دوست اور خیرخواہ کیوجہ سے دہشت گردی کیخلاف مسلسل لڑائی لڑنا پڑ رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں