ڈیلی دومیل نیوز،دنیا کی تاریخ میں کرنسی محض لین دین کا ذریعہ ہی نہیں رہی ہے بلکہ طاقت اور عالمی سیاست کے مضبوط کردار کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے،کرنسی سے پہلے دنیا میں رائج بارٹر سسٹم سے لے کر دھاتی سکوں،کاغذی نوٹوں،گولڈ اسٹینڈرڈ اور پھر فیٹ کرنسی تک کا سفر معمولی نہیں ہے بلکہ یہ انسانی تہذیب کے ارتقا اور ریاستی قوت کے پھیلاؤ کی کہانی ہے۔بیسویں صدی کے وسط میں بریٹن ووڈز نظام کے تحت امریکی ڈالر نے جو عالمی حیثیت حاصل کی تھی وہ صرف اکیلی معیشت کی بنیاد پر نہیں تھی بلکہ وہ حیثیت عالمی سیاسی اثرورسوخ،عسکری طاقت اور عالمی مالیاتی ڈھانچے پر مضبوط گرفت کا نتیجہ تھی۔بعدازاں پیٹرو ڈالر نظام اس کی مزید مضبوطی کا بڑا سہارا بن گیا اس نظام کے تحت دنیا کی سب سے اہم شے یعنی تیل کی قیمت اور تجارت ڈالر میں طے پائی،یہی وہ اہم نکتہ تھا جہاں سے ڈالر ترقی کرتے ہوئے ایک ملک کی کرنسی سے بڑھ کر عالمی معیشت کی شہ رگ بن گیا تھا۔تاہم تاریخ کا ایک اصول ہے کہ کوئی بھی بالادستی ہمیشہ قائم نہیں رہتی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ طاقت کے مرکز بدلتے رہتے ہیں،آج کے دور میں ایران جنگ اور اس کے تناظر میں چینی کرنسی یوآن کا بڑھتا ہوا استعمال ہمارے سامنے تاریخ کی تبدیلی کے عمل کی ایک نمایاں مثال بن کر آیا ہے۔
ایران ایک طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کا شکار رہا ہے اس موقع پر ایران نے بہادری سے اپنی معاشی بقا کے لیے متبادل راستے تلاش کیے تھے چنانچہ اسی سلسلے میں چین کے ساتھ یوآن میں تجارت کا آغاز کیا گیا۔یوں تیل جیسی شے کی یوآن میں فروخت نے نہ صرف پابندیوں کے اثر کو کم کیا بلکہ عالمی مالیاتی نظام میں ایک نئی بحث کو بھی جنم دیا، اب دنیا کے اقتصادی ماہرین سوال کر رہے ہیں کہ کیا ڈالر کی اجارہ داری واقعی کمزور ہو رہی ہے؟یہ سوال اب محض قیاس آرائی ہی نہیں رہا بلکہ موجودہ زمینی حقائق سے جڑا ہوا ہے،اس وقت دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتیں ڈالر پر انحصار کم کرنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہیں۔ روس،چین،ایران اور دیگر ممالک کے درمیان مقامی کرنسیوں میں تجارت بڑھ رہی ہے۔چین نے CIPS جیسے متبادل ادائیگی نظام متعارف کروا کر SWIFT کی اجارہ داری کو چیلنج کر دیا ہے جبکہ دوسری طرف BRICS بلاک کی توسیع اور ڈیجیٹل کرنسیوں کے تجربات ایک نئے مالیاتی ڈھانچے کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔پچھلے چند سالوں میں ان تمام عوامل نے مل کر دنیا میں تیزی کے ساتھ ڈی ڈالرائزیشن کے رجحان کو تقویت دی ہے۔تاہم اس تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے،اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکی ڈالر اب بھی عالمی مالیاتی نظام کا سب سے طاقتور ستون ہے۔مرکزی بینکوں کے ذخائر،بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے رجحان میں ڈالر کا حصہ اب بھی باقی کرنسیوں کی نسبت سب سے زیادہ ہے۔دنیا میں کسی بھی مالی بحران کے وقت سرمایہ کار اب بھی ڈالر کو محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہیں۔ایرانی جنگ کے دوران بھی یہی رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ قلیل مدت میں ڈالر مضبوط ہوا ہے کیونکہ عالمی سرمایہ دار اس عدم یقینی کے ماحول میں ڈالر کی طرف ہی رجوع کرتا ہے،اس سے واضح ہوتا ہے کہ ڈالر کی اس وقت طاقت صرف سیاسی بنیاد پر ہی نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا اور مربوط مالیاتی نظام بھی کام کر رہا ہے۔دوسری جانب چین کی معیشت بلا شبہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور اس کا عالمی تجارت میں حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے،اس کی کرنسی یوآن کا استعمال بھی بین الاقوامی لین دین میں بڑھ رہا ہے خاص طور پر ایشیا،افریقہ اور لاطینی امریکہ میں،اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران جنگ میں یوآن کا استعمال اس عمل کو بڑھا سکتا ہے خاص طور پر اگر تیل کی تجارت میں یوآن کا حصہ بڑھتا ہے؟ لیکن اس کے باوجود یوآن کو درپیش بنیادی چیلنجز کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، جن میں سب سے اہم اس کا مکمل طور پر قابلِ تبادلہ نہ ہونا اور عالمی سرمایہ کاروں کا محدود اعتماد شامل ہے۔البتہ جنگ کے بعد عالمی کرنسیوں کی صورتحال کئی ممکنہ سمتوں میں جا سکتی ہے اگر تنازعہ محدود مدت میں ختم ہو جاتا ہے تو ڈالر اپنی برتری برقرار رکھے گا اور یوآن کی پیش رفت قدرے سست پڑ سکتی ہے لیکن اگر تنازعہ طویل ہو جاتا ہے اور یوآن میں تجارت کا دائرہ وسیع ہو جاتا ہے تو یہ عالمی مالیاتی نظام میں ایک مستقل تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے،اس صورت میں دنیا کرنسی کے ایسے نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے جہاں ڈالر،یورو اور یوآن تینوں اہم کردار ادا کریں گی،یہ بھی حقیقت ہے کہ اس تبدیلی کا فائدہ صرف یوآن کو نہیں ہوگا بلکہ دیگر کرنسیاں بھی اس سے مستفید ہوں گی۔مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی بڑھتی ہوئی خریداری اس بات کا اشارہ ہے کہ دنیا ایک غیر یقینی مالیاتی مستقبل کے لئے خود کو تیار کر رہی ہے اور سونا ایک بار پھر محفوظ اثاثے کے طور پر اہمیت حاصل کر رہا ہے جبکہ ڈیجیٹل کرنسیاں اور بلاک چین ٹیکنالوجی بھی اس نئے نظام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں جو روایتی مالیاتی ڈھانچوں کو مزید چیلنج کریں گی اگرچہ ڈالر اب بھی عالمی مالیاتی نظام میں غالب ہے لیکن اس کی مطلق بالادستی میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں۔یوآن ایک ابھرتی ہوئی طاقت ضرور ہے مگر ابھی تک مکمل متبادل کے طور پر سامنے نہیں آئی ہے،اس وقت یورو ایک مستحکم مگر محدود کردار ادا کر رہی ہے جو مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
فی الحال ایران جنگ میں چینی کرنسی کا استعمال ایک علامتی واقعہ ہے مگر ہمیں آنے والے دور کی جھلک ضرور دکھاتا ہے۔یہ وہ دور ہے جہاں طاقت کا مرکز ایک جگہ سے منتقل ہو کر مختلف مراکز میں تقسیم ہو رہا ہے۔غالب امکان ہے کہ مستقبل کی دنیا کسی ایک کرنسی کی نہیں بلکہ کئی کرنسیوں کے اشتراک کی دنیا ہوگی جہاں معاشی طاقت،سیاسی حکمت عملی اور تکنیکی جدت مل کر ایک نیا مالیاتی نظام تشکیل دیں گی۔پس یہی وہ حقیقت ہے جسے بروقت سمجھنا دراصل آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے کیونکہ کرنسی کی کہانی دراصل عالمی طاقت کی کہانی ہے اور یہ کہانی اس جنگ کے بعد ایک نئے باب میں داخل ہوتی نظر آ رہی ہے۔
2