3

عالمی بحری تجارت پر بڑا دھچکا: ایران پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز بند، 170 بحری جہاز محصور

دبئی/کابل (نیوز ڈیسک) – مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے عسکری تصادم اور ایران پر امریکہ و اسرائیل کے “پیشگی حملے” کے بعد عالمی بحری تجارت مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ دنیا کی اہم ترین گزرگاہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش کے باعث 170 کے قریب کنٹینر بردار جہاز سمندر کے درمیان پھنس گئے ہیں۔

1. آبنائے ہرمز میں بحران اور جہازوں کی واپسی

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، دنیا کی بڑی شپنگ کمپنیوں بشمول Hapag-Lloyd اور CMA CGM نے آبنائے ہرمز سے اپنے جہاز گزارنا بند کر دیے ہیں۔ تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار ٹن وزنی سامان لے جانے والے 170 بحری جہاز اس وقت آبنائے ہرمز کے اندر پھنسے ہوئے ہیں اور انہیں باہر نکلنے کے لیے سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔

2. بندرگاہوں کی بندش اور نقصانات

اس عسکری لہر نے خلیجی ممالک کی بندرگاہوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے:

جبل علی (دبئی): فضائی حملوں کے ملبے سے ایک برتھ پر آگ لگ گئی، تاہم بندرگاہ جزوی طور پر فعال ہے۔

کویت (شعیبہ پورٹ): تمام آپریشنز معطل کر کے جہازوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

بحرین اور قطر: سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بحری آمد و رفت عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔

3. بحیرہ احمر اور ‘راسِ امید’ (Cape of Good Hope) کا طویل راستہ

بحیرہ احمر میں حوثی ملیشیا کے حملوں کے دوبارہ خطرے اور نہر سویز کی غیر یقینی صورتحال کے باعث جہازوں نے ایک بار پھر افریقہ کے گرد طویل راستہ (Cape of Good Hope) اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے مال برداری کے اخراجات (Freight Rates) میں غیر معمولی اضافہ ہوگا اور عالمی سطح پر اشیاءِ ضرورت مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔

4. جیو پولیٹیکل صورتحال

رپورٹس کے مطابق، ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد تہران نے سخت جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں نے بھی بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملے دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے عالمی سپلائی چین مکمل طور پر درہم برہم ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں