واشنگٹن ڈی سی / یروشلم – صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حالیہ “ہمہ گیر حملوں” نے امریکہ کے اندر اور باہر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور مشرقِ وسطیٰ کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ جنگ صدر ٹرمپ کے اپنے دیرینہ سیاسی نظریات اور “امریکہ فرسٹ” کے وعدوں کے مکمل برعکس ہے، اور اس کا اصل فائدہ صرف اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو ہو رہا ہے۔
1. ٹرمپ کا تضاد: ‘امن کے صدر’ سے ‘مداخلت پسند’ تک
صرف ایک سال قبل، مئی 2025 میں صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کے دورے کے دوران اعلان کیا تھا کہ امریکی خارجہ پالیسی اب “حکومتوں کی تبدیلی” (Regime Change) کے ایجنڈے پر نہیں چلے گی۔ انہوں نے اپنے پیشروؤں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ “قومیں بنانے والوں نے (Nation Builders) بنانے سے زیادہ قومیں برباد کی ہیں۔”
تاہم، یکم مارچ 2026 تک صورتحال بدل چکی ہے۔ ٹرمپ نے ایران میں “آزادی” لانے کے نام پر جنگ کا آغاز کر دیا ہے، جو کہ بالکل وہی زبان ہے جو سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے عراق جنگ کے وقت استعمال کی تھی۔
2. نیتن یاہو کا ‘کامیاب’ ایجنڈا
واشنگٹن کے تھنک ٹینک ‘سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی’ کی سینیئر فیلو نگار مرتضوی کہتی ہیں:
“یہ ایک بار پھر امریکہ کی چنی ہوئی جنگ ہے جو اسرائیل کے دباؤ پر شروع کی گئی۔ اسرائیل دو دہائیوں سے امریکہ کو ایران پر حملے کے لیے اکسا رہا تھا، اور آخر کار وہ کامیاب ہو گئے۔”
نیتن یاہو، جنہوں نے 2003 میں عراق پر حملے کی بھی بھرپور حمایت کی تھی، اب ٹرمپ کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ ایرانی میزائل 11,000 کلومیٹر تک مار کر کے امریکہ کے مشرقی ساحل کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اگرچہ تہران ان دعوؤں کی تردید کرتا ہے اور اس کا کوئی عوامی ثبوت موجود نہیں، لیکن ٹرمپ نے اسی بنیاد پر جنگ کا جواز پیش کیا ہے۔
3. سفارت کاری پر شب خون
یہ فوجی کارروائی اس وقت ہوئی جب عمان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں “بڑی پیش رفت” کی خبریں آ رہی تھیں۔
کامیاب مذاکرات: تہران اپنے جوہری پروگرام کی سخت ترین انسپکشن پر راضی ہو چکا تھا۔
سبوتاژ: تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کسی بھی سفارتی حل کو روکنا چاہتے تھے، اس لیے مذاکرات کے عین درمیان جنگ چھیڑ دی گئی۔
4. امریکی عوام کی رائے اور اندرونی تقسیم
سروے بتاتے ہیں کہ امریکی عوام ایک نئی جنگ کے حق میں نہیں ہیں۔
عوامی رائے: میری لینڈ یونیورسٹی کے حالیہ سروے کے مطابق صرف 21 فیصد امریکی ایران کے خلاف جنگ کے حامی ہیں۔
ٹرمپ کے حامیوں میں تقسیم: ‘امریکہ فرسٹ’ تحریک کے کئی بڑے نام، بشمول ٹکر کارلسن، اس جنگ پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ کارلسن کا کہنا ہے کہ “ایران اور لبنان کی سرحد کا مسئلہ ایک عام امریکی کا مسئلہ نہیں ہے۔”
کانگریس کا ردِعمل: رکنِ کانگریس راشدہ طلیب نے اسے “سیاسی اشرافیہ اور اسرائیلی حکومت کی پرتشدد فنتاسی” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔