ڈاکٹر طلعت شبیر کی اپنے والد کے ساتھ گذری یادوں پر مبنی کتاب “ابو جی” کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا۔ 28 مارچ 2025 کو ٹکال ( کلر سیداں) میں منعقد ہونے والی اِس تقریب میں نامور ادبی شخصیات، اساتذہ، دوست احباب اور اہلِ خانہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور مصنف کی علمی و ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔تقریب میں متنوع پس منظر رکھنے والے افراد نے کتاب کے مندرجات پر مضامین پیش کیے اور کتاب اور مصنف کی زندگی پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے نہ صرف کتاب کے علمی و ادبی پہلوؤں کا جائزہ لیا بلکہ ایک جفاکش باپ کے لیے اُس کے بیٹے کے قلم سے جھلکنے والی محبت اور عقیدت کے رنگوں کو بھی سراہا۔ مقررین کے مطابق یہ کتاب نہ صرف مصنف کے فکری و تجرباتی سفر کی آئینہ دار دِکھائی دیتی ہےبلکہ اِس میں محبت، اپنائیت، خلوص اور ماضی کی یادوں کی چاشنی بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ کتاب کا مطالعہ کرتے وقت قاری اُن بھولی بسری وادیوں میں چلا جاتا ہے جہاں یادیں سانس لیتی ہیں اور گذرے دِنوں کی یادوں کی روشنی آج بھی دل کو منور کرتی ہے۔ بعد ازاں ڈاکٹر طلعت شبیر نے اپنی کتاب سے چنیدہ اقتباسات پیش کیے۔ مصنف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: ابو جی ایک ایسا سفر ہے جو مجھے ماضی کے اُن حسین لمحات کی یاد دِلاتا ہے جو زندگی میں میری جدوجہد کے اردگرد گھومتا ہے ۔یہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ایک جذباتی ربط ہے جو مجھے میرے بچپن، میرے خوابوں اور میری یادوں سے جوڑتا ہے۔ ابو جی میں ڈاکٹر طلعت شبیر نے اپنے اور اپنے والدکے درمیان مضبوط اور اٹوٹ رشتے کی ایک خوبصورت تصویر پیش کی ہے۔ کتاب یادوں کا ایک دِل کو موہ لینے والا بیانیہ ہے جس کے ذریعے مصنف نے اُونچ نیچ، غم خوشی اور کامیابی ناکامی سے عبارت زندگی کی جدوجہد میں باپ کے سائے کی موجودگی کو ایک نعمت گردانا ہے۔ باپ ایک سایہ دار درخت کی طرح نظر آتا ہے جو اپنی اولاد کو اپنی جڑوں سے جوڑے رکھتا ہے اور دُنیا کی کامرانیاں سمیٹنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ کتاب کے مرکزی موضوعات میں سے ایک موضوع موت ہے جو ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر طلعت شبیر کے بیانیے میں والد کی رحلت صرف غم نہیں ہے بلکہ یادوں کا حسین گلدستہ ہے جو آج بھی کسی نہ کسی صورت موجود ہے اور زندگی میں کسی نہ کسی طورخوشبو دے رہا ہے۔ کتاب کا عنوان” ابو جی” مصنف کے اپنائیت بھرے انداز کا عکاس ہے جس میں مصنف کا اپنے والد کے لیے گہرا احترام اور جذباتی لگاؤ دِکھائی دیتا ہے۔ کتاب نہ صرف قارئین کو مسحور کرتی ہے بلکہ محبت اور جدائی کے آفاقی موضوعات کو ایک نئے انداز سے اُجاگر کرتی ہے۔تقریب سے ثاقب امام رضوی، ضیاء اللہ شاہ، سرفراز افضل، چوہدری شبیر، طاہر محمود، عبدالرؤف کیانی، فوزیہ نورین، نصیر گیلانی اور بریگیڈیئر عظمت شبیر نے خطاب کیا۔ اُنھوں نے کتاب پر اور مصنف کی شخصیت پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ پروگرام کی نظامت منتظر امام رضوی نے کی۔آخر میں کتاب کی رونمائی کی گئی اور شرکاء نے مصنف کو مبارکباد پیش کی۔
5