3

پاکستان کا ڈیجیٹل انقلاب: شناختی کارڈ کے نظام میں بڑی تبدیلیاں، کیو آر کوڈ اور بائیومیٹرک سیکیورٹی کا آغاز

اسلام آباد – وفاقی حکومت نے پاکستان کے قومی شناختی کارڈ (NIC) اور پاکستان اوریجن کارڈ (POC) کے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے “قومی شناختی کارڈ رولز 2026” کے تحت بڑی ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔ ان تبدیلیوں کا مقصد ملک میں ایک محفوظ، مربوط اور جدید ڈیجیٹل شناختی نظام کا قیام ہے۔


اہم خصوصیات اور تفصیلات

1. کیو آر (QR) کوڈ کا لازمی استعمال

اب تمام شناختی کارڈز پر ایک مخصوص کیو آر کوڈ موجود ہوگا جو مشین کے ذریعے فوری طور پر پڑھا جا سکے گا۔

فائدہ: اس سے کارڈ کی تصدیق آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے فوری ہو سکے گی۔

یکساں نظام: چپ والے اور بغیر چپ والے کارڈز کا فرق ختم کر کے تمام شہریوں کے لیے ایک ہی معیار مقرر کر دیا گیا ہے۔

2. جدید بائیومیٹرک سیکیورٹی

صرف انگلیوں کے نشانات (Fingerprints) تک محدود رہنے کے بجائے، اب آنکھوں کی پتلیوں کا اسکین (Iris Scan) بھی بائیومیٹرک تصدیق کا حصہ ہوگا۔ اس سے جعل سازی اور شناختی چوری کا خطرہ تقریباً ختم ہو جائے گا۔

3. بزرگ شہریوں کے لیے خصوصی سہولت

60 سال یا اس سے زائد عمر کے شہریوں کے لیے خوشخبری:

تاحیات کارڈ: بزرگ شہریوں کو اب بار بار کارڈ کی تجدید (Renewal) نہیں کرانی پڑے گی۔

سینئر سٹیزن لوگو: ان کے کارڈز پر ایک واضح “بزرگ شہری” کا لوگو ہوگا تاکہ انہیں سرکاری و نجی اداروں میں ترجیحی سہولیات مل سکیں۔

4. جعل سازی کے خلاف سخت اقدامات

نئے قوانین کے تحت، اگر کوئی کارڈ معطل (Suspend) کیا جاتا ہے، تو وہ فوری طور پر تمام ڈیجیٹل اور بینکنگ چینلز پر غیر فعال ہو جائے گا۔ اس سے معطل شدہ کارڈ کے غلط استعمال کا راستہ مستقل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

5. دیگر اہم ترامیم

آزاد جموں و کشمیر: ریاست کے باشندوں کے لیے یکساں شناختی فارمیٹ متعارف کرایا گیا ہے۔

مخصوص کیٹیگریز: معذور افراد، اعضاء عطیہ کرنے والے، اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے کارڈز کے نمونے جدید اور واضح کر دیے گئے ہیں۔

پاسپورٹ مانیٹرنگ: اس نظام کو پاسپورٹ کے ریئل ٹائم مانیٹرنگ سسٹم کے ساتھ بھی جوڑا جا رہا ہے۔

خلاصہ: عوام کے لیے کیا بدلے گا؟

یہ ترامیم پاکستان کو ایک ایسے ڈیجیٹل دور میں لے جائیں گی جہاں شناخت کی تصدیق کے لیے طویل انتظار یا کاغذی کارروائی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ کیو آر کوڈ کے ذریعے بینکوں، ایئرپورٹس اور دیگر اداروں میں کام منٹوں میں ہو سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں