کراچی — 27 فروری 2026 پاکستانی شوبز انڈسٹری کی ماضی کی مقبول ترین جوڑی، فریال گوہر اور جمال شاہ نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی کے پروگرام ‘شانِ سحر’ (25 فروری 2026) میں شرکت کی اور اپنی طلاق کے 30 سال بعد ان حالات پر گفتگو کی جنہوں نے انہیں الگ ہونے پر مجبور کیا۔ ان کا انٹرویو مداحوں کے لیے اس لحاظ سے حیران کن تھا کہ دونوں کے درمیان آج بھی بے پناہ احترام کا رشتہ برقرار ہے۔
طلاق کی بنیادی وجہ: “آزادی بمقابلہ شادی”
66 سالہ فریال گوہر نے پروگرام کے دوران بتایا کہ ان کے سابق شوہر جمال شاہ اپنی آزادی (Freedom) کو بہت عزیز رکھتے تھے اور وہ خود کو شادی جیسی پابندی میں مقید محسوس نہیں کر سکتے تھے۔ جمال شاہ نے بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ “شادی کے لیے بنے ہی نہیں تھے” (Not Marriage Material)۔
وہ واقعہ جو علیحدگی کا باعث بنا
فریال اور جمال کے درمیان اختلافات کا آغاز 1987 میں ہوا، لیکن حتمی موڑ اس وقت آیا جب جمال شاہ نے اسلام آباد میں ایک آرٹ انسٹی ٹیوٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
فریال کی نصیحت: فریال نے جمال کو ایک دوسری خاتون کے ساتھ اس پروجیکٹ میں شامل ہونے سے منع کیا تھا۔
انتباہ کے باوجود قدم: یہاں تک کہ اس خاتون کی خالہ نے بھی جمال کو خبردار کیا تھا، لیکن انہوں نے کسی کی نہ سنی۔ یہ منصوبہ ناکام ہوا اور ان کے تعلقات میں دراڑیں اتنی گہری ہو گئیں کہ 1992 میں باضابطہ طلاق ہو گئی۔
علیحدگی کے بعد کا مثالی رشتہ
1995 میں بیرونِ ملک منتقل ہونے کے باوجود، فریال گوہر نے جمال شاہ اور ان کی والدہ سے اپنا رشتہ ختم نہیں کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ محبت اور رشتہ ختم ہو جانے کے باوجود انسان کی عزت اور اس کی فیملی سے تعلق برقرار رکھا جا سکتا ہے۔