اسلام آباد / کراچی (28 مارچ 2026) – اداکار حمزہ علی عباسی نے اپنی بہن، معروف ڈرماٹولوجسٹ ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات سامنے آنے کے بعد ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ حمزہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس کیس میں کسی بھی طرح فریق نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی تحقیقات ہو رہی ہیں۔
حمزہ علی عباسی کا موقف
سنیچر کو انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں حمزہ علی عباسی نے درج ذیل نکات واضح کیے:
اظہارِ لاتعلقی: حمزہ نے کہا کہ “میں کسی بھی حیثیت میں اس کیس کا حصہ نہیں ہوں اور نہ ہی کسی ایجنسی کی جانب سے میری تحقیقات کی جا رہی ہیں۔”
بہن کی حمایت: انہوں نے ڈاکٹر فضیلہ کو ایک کامیاب پروفیشنل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشکل وقت میں اپنی بہن کے ساتھ محبت اور تعاون کے لیے کھڑے ہیں، تاہم ان کے قانونی اور پیشہ ورانہ معاملات مجھ سے الگ ہیں۔
انصاف پر یقین: اداکار نے امید ظاہر کی کہ قومی ادارے انصاف کو یقینی بنائیں گے اور سچ سامنے آئے گا۔
قانونی کارروائی کی تنبیہ: حمزہ نے میڈیا اور عوام سے درخواست کی کہ ان سے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی توقع نہ رکھی جائے، اور خبردار کیا کہ اگر ان کا نام زبردستی اس کیس سے جوڑا گیا تو ان کی ٹیم قانونی کارروائی کرے گی۔
ڈاکٹر فضیلہ عباسی پر الزامات (کیس کی تفصیل)
یہ معاملہ اس وقت سنگین ہوا جب جمعرات کو اسلام آباد کے اسپیشل جج سینٹرل ہمایوں دلاور نے ڈاکٹر فضیلہ کی طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔ عدالت نے عدم پیشی اور قانونی ریلیف کے غلط استعمال کو بنیاد بنایا۔
ایف آئی آر (FIR) کے چیدہ نکات:
غیر قانونی لین دین: ڈاکٹر فضیلہ پر غیر قانونی غیر ملکی کرنسی کی ڈیلنگ، بغیر لائسنس منی سروسز، اور حوالہ ہنڈی کے ذریعے رقوم کی منتقلی کے الزامات ہیں۔
بینک اکاؤنٹس اور ٹرانزیکشنز: ایف آئی آر کے مطابق ملزمہ کے 22 بینک اکاؤنٹس پائے گئے ہیں جن میں 2.5 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں، جبکہ ان کی ظاہر کردہ (Declared) آمدنی صرف 4 لاکھ سے 60 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔
مشکوک ڈپازٹس: ان پر الزام ہے کہ انہوں نے رپورٹنگ کی حد سے بچنے کے لیے غیر ملکی کرنسی کے چھوٹے چھوٹے متعدد ڈپازٹس کیے اور بغیر کسی قانونی مقصد کے رقوم بیرونِ ملک بھیجیں۔
ایف آئی اے (FIA) کی رپورٹ اور حمزہ کا نام
ایف آئی اے کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحقیقات کے دائرے میں آنے والے ایک مشترکہ بینک اکاؤنٹ (Joint Account) میں حمزہ علی عباسی اور ان کی والدہ نسیم چوہدری کا نام بھی شامل ہے۔ تاہم، رپورٹ میں صرف ڈاکٹر فضیلہ کو ہی ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، حمزہ یا ان کی والدہ کو نہیں۔
قانونی دفعات
ڈاکٹر فضیلہ کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔