اسلام آباد — 27 فروری 2026 فلکیات کے شوقین افراد کے لیے ایک بڑا موقع قریب آ رہا ہے۔ اب سے محض چار دن بعد، یعنی 3 مارچ 2026 کو دنیا ایک مکمل چاند گرہن (Total Lunar Eclipse) کا مشاہدہ کرے گی۔ اس دوران چاند زمین کے مکمل سائے میں چھپ جائے گا اور گہرے سرخ رنگ میں تبدیل ہو جائے گا، جسے عرفِ عام میں “بلڈ مون” کہا جاتا ہے۔

حالیہ اپ ڈیٹ: 3 مارچ 2026 کا گرہن کہاں نظر آئے گا؟
ناسا (NASA) اور دیگر خلائی اداروں کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، اس گرہن کا دورانیہ کافی طویل ہوگا، تاہم اس کا مشاہدہ دنیا کے مخصوص حصوں میں ہی ممکن ہو سکے گا:
بہترین مشاہدہ: شمالی اور جنوبی امریکہ، بحر الکاہل، آسٹریلیا اور مشرقی ایشیا (بشمول جاپان اور فلپائن) میں یہ مکمل طور پر نظر آئے گا۔
پاکستان اور بھارت میں صورتحال: جنوبی ایشیا کے اکثر علاقوں میں یہ گرہن جزوی طور پر نظر آئے گا یا چاند طلوع ہونے سے پہلے ہی گرہن شروع ہو چکا ہوگا، اس لیے یہاں کے لوگ اس کا مکمل نظارہ نہیں کر سکیں گے۔
“بلڈ مون” کیوں بنتا ہے؟ سائنسی وجہ
چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین، سورج اور چاند کے درمیان آ جاتی ہے اور سورج کی روشنی کو چاند تک پہنچنے سے روک دیتی ہے۔
چاند کا رنگ سرخ ہونے کی وجہ ریلے اسکیٹرنگ (Rayleigh Scattering) نامی عمل ہے۔ جب سورج کی روشنی زمین کی فضا سے گزرتی ہے، تو نیلی روشنی بکھر جاتی ہے جبکہ سرخ روشنی مڑ کر چاند کی سطح پر پڑتی ہے۔ یہ وہی عمل ہے جو غروبِ آفتاب کے وقت آسمان کو سرخ کر دیتا ہے۔
2026 کے چاند گرہن کی اہم خصوصیات
اس بار کا گرہن کئی لحاظ سے اہم ہے:
طویل دورانیہ: یہ گرہن مجموعی طور پر تقریباً 5 گھنٹے جاری رہے گا، جبکہ “مکمل گرہن” (Totality) کا دورانیہ ایک گھنٹے سے زائد ہوگا۔
لائیو سٹریمنگ: پاکستان میں براہِ راست نظر نہ آنے کی وجہ سے کئی سائنسی ادارے اسے یوٹیوب پر لائیو ٹیلی کاسٹ کریں گے تاکہ دنیا بھر کے لوگ اس کا مشاہدہ کر سکیں۔
سائنسدانوں کے لیے موقع: اس دوران سائنسدان چاند کی سطح کے درجہ حرارت میں ہونے والی اچانک تبدیلیوں کا مطالعہ کریں گے۔