پی ٹی آئی لانگ مارچ کیخلاف درخواست کا تفصیلی فیصلہ جاری مزید جانیئے

13

اسلام آباد(ڈیلی دومیل نیوز)اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27 ستمبر کے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر 37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ ایسی سرگرمی جس سے بنیادی حقوق متاثر ہوں وہ آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی، اسلام آباد کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف وزری آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی، ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو شاہراہیں اور راستے بند کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں، صوبائی حکومتیں اسلام آباد مارچ کےلیے سرکاری وسائل اور فنڈز کا استعمال نہ کریں، سرکاری گاڑیوں اور مشینری کو لانگ مارچ کی سہولت کےلیےاستعمال کرنے پرمکمل پابندی ہے۔

پس منظر: پی ٹی آئی لانگ مارچ

عدالتیں انصاف کی فراہمی کا ادارہ ہیں۔

ہائیکورٹ اہم مقدمات کا فیصلہ کرتی ہے۔

تفصیلی فیصلے میں وجوہات درج ہوتی ہیں۔

بنیادی حقوق ہر شہری کا حق ہیں۔

آئین بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔

قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی ہوتی ہے۔

ذمہ دار افراد کو جواب دہ ہونا چاہیے۔

سیاسی جماعتیں قانون کی پابند ہیں۔

پرامن احتجاج جمہوری حق ہے۔

شاہراہیں بند کرنا عوام کو تکلیف دیتا ہے۔

سرکاری وسائل کا غلط استعمال منع ہے۔

فنڈز کا شفاف استعمال ضروری ہے۔

صوبائی حکومتیں آئین کی پابند ہیں۔

عدالتی فیصلوں کا احترام ضروری ہے۔

قانون سب کے لیے برابر ہے۔

عوام کو انصاف ملنا چاہیے۔

میڈیا عدالتی خبروں کی رپورٹنگ کرتا ہے۔

شہریوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔

امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

قانون کی حکمرانی جمہوریت کی بنیاد ہے۔

فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

عوام کو قانون سے آگاہ رہنا چاہیے۔

انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے۔

عدالتیں غیر جانبدار ہوتی ہیں۔

مستقبل میں قانون کا احترام بڑھے گا۔

جمہوریت میں ادارے مضبوط ہونے چاہئیں۔

پرامن معاشرہ سب کی خواہش ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں