ڈیلی دومیل نیوز،سوشل میڈیاپر پنجاب کی سیاسی قیادت کے دورہ جاپان کے حوالے سے کافی کچھ سننے اور دیکھنے کو مل رہا ہے۔ حکومتی حلقے اس دورے کو تاریخی اور یادگار قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب اس پر کافی سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔میڈیا پر آنے والی خبروں کے تناظر میں سوال تو ہر پاکستانی کا بنتا ہے کہ آخر ایک صوبے کے بنیادی سیاسی ذمہ داران اور عملے کے کثیر ارکان کا یہ دورہ کیونکر ضروری تھا، جس پر خزانے کی خطیر رقم بھی خرچ ہوئی۔اگر یہ دورہ وہاں کے نظام اور سسٹم سے سیکھنے کے لئے تھا تو یقینا دورے میں موجود بیوروکریسی کے افراد نے ضرور قیادت کی توجہ دلائی ہو گی جن کا مختصر ذکر ہی اس کالم میں ممکن ہے۔ جاپان ایک ایسا ملک ہے جس نے تباہی کے ملبے سے اُٹھ کر دنیا کی طاقتور ترین معیشتوں میں جگہ بنائی۔ہیروشیما اور ناگاساکی پر ہیبت ناک ایٹم بم گرائے جانے کے بعد دنیا نے سمجھا کہ یہ قوم اب کبھی سنبھل نہیں سکے گی، لیکن انہوں نے اپنی محنت، دیانت اور نظم و ضبط سے دنیا کو حیران کر دیا۔ صرف چند دہائیوں میں انہوں نے خود کو دنیا کی سب سے منظم اور ترقی یافتہ اقوام میں شامل کر لیا۔ اس کامیابی میں محض ٹیکنالوجی یا صنعت ہی نہیں بلکہ جاپانی قوم کے اخلاقی رویوں، معاشرتی عادات اورسماجی کردار کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔اس قوم کا طرہ امتیاز وہ نظم و ضبط ہے جس نے اسے ہتھیاروں کی جنگ میں ہارنے کے باوجود دنیا کی مثالی قوم بنا دیا۔ وہاں ٹرین چند سیکنڈ کی تاخیر سے آئے تو قوم اسے شرمندگی سمجھتی ہے۔ بچے سکول میں قطار بنانا اور انتظار کرنا سیکھتے ہیں۔راہ چلتے غلطی سے کسی کے ساتھ کندھا یا ہاتھ لگ جائے تو دونو ں ایک دوسرے سے معافی مانگے بغیر آگے نہیں بڑھتے۔جاپانیوں سے سیکھنے والی سب سے اہم چیز وہ ڈسپلن ہے، جس کے سبب ہر آنے والا دن ان کی ترقی کا سورج طلوع کر رہا ہے۔جاپان میں وقت ضائع کرنا ایک سنگین جرم کے مترادف ہے۔ ہر فرد اپنے کام کی اہمیت جانتا ہے اور اسی لئے شاید پاکستان ایمبیسی کے رابطوں کے باوجود آفیشلز سے ملاقات کی بابت یہی معلوم کیا جاتا رہا کہ یہ کس مقصد کے لئے ہے اور جب کوئی مضبوط وجہ سامنے نہ آ سکی تو نتیجہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ جاپانیوں سے سیکھنے کی چیز وقت کی اہمیت ہے جو ضائع کرنا ہمارا قومی شعار بن چکا ہے۔جاپانی لوگ اپنی دیانت اور محنت کے لئے مشہور ہیں اور حکومت انھیں تمام تر مراعات فراہم کرنا اپنا اولین فریضہ سمجھتی ہے۔نہ تو لٹھ بردار فورسز محنت سے رزق کمانے والوں کا مال ضبط کرتی ہے اور نہ ان سے سرکاری اہلکار آئے دن نذرانے وصول کرتے ہیں۔ لوگ کام کو عبادت سمجھ کر کرتے ہیں اور حکومت ان کو تحفظ دینا اپنا فرض عین تصور کرتی ہے۔جاپان میں فرد سے زیادہ قوم کی بھلائی اہم ہے۔ہر شخص ذاتی فائدے کے بجائے اجتماعی فائدے کو ترجیح دیتا ہے۔وہ لوگ قوم بن کر کام کرتے ہیں اور اپنے کسی بھی انفرادی عمل سے قوم اور ملک و نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ جاپان کی گلیاں، ریلوے اسٹیشن اور عوامی مقامات صفائی کی مثال ہیں۔بچے بھی اپنا کچرا خود صاف کرتے ہیں جن کو یہ تربیت سکول کے زمانے سے ہی دینی شروع کر دی جاتی ہے اور عملی زندگی میں آنے تک وہ ماحول دوست ہو چکے ہوتے ہیں۔صفائی نصف ایمان کا درس ہمیں دیا گیا تھا، لیکن اس کا عملی اظہار جاپان میں دکھائی دے گا۔ جاپان نے اپنی تباہی کے بعد سب سے زیادہ توجہ تعلیم پر دی اور ہمارے پچاس ہزار سکولوں کی حالت ِ زار پر حال ہی میں رپورٹس چشم کشا ہیں۔جاپان نے سائنس، تحقیق اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ لگایا اور ہمارا سرمایا کہاں کہاں لگ رہا ہے اس سے پوری قوم آگاہ ہے۔جاپانی قوم کی ایک اور خوبی کہ اس نے دوسروں کے سہارے پر زندہ رہنے کے بجائے اپنی محنت پر بھروسہ کیا اور اپنے وسائل کے مطابق اپنی ترجیحات کا تعین کیا۔انہوں نے باہر سے قرضہ ضرور لیا، مگر اسے ترقی میں لگا کر جلد ادا کر دیا جبکہ ہمیں قرض کی قسط اداکرنے کے لئے بھی قرض ہی لینا پڑتا ہے جو مضحکہ خیز ہے۔ جاپانیوں سے سیکھنے کی چیز خود انحصاری اور خود اعتمادی ہے جو وقار اور عزت کا سبب ہے۔ جاپان کی پراڈکٹ معیار کی علامت سمجھی جاتی ہے اور لوگ آنکھیں بند کرکے اسے خریدتے ہیں، جبکہ ہم دوسروں کو کھلی آنکھوں سے دھوکہ دینے میں کمال رکھتے ہیں۔ ایک اور اہم پہلو جاپان کی قیادت اور نظام بھی ہے جو ہمارے سیاسی قائدین کو سب سے زیادہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔عوام کے ٹیکس کے پیسے کو صرف ان پر ہی خرچ کیا جاتا ہے۔ کسی کی آمد پر ہٹو بچو کی صدائیں، راستوں کی بندش ، پروٹوکول کی طویل قطاریں اور سیکورٹی کے طویل حصارکا تصور ہی نہیں کیا سکتا۔ سیاسی نظام مالی سپرویژن کی حد تک محدود اور خزانے پر براہ راست رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔کرپشن، جرائم، جھوٹ اقرباپروری اور موروثیت کی سسٹم میں کہیں جگہ ہی نہیں ہے جو ہمارے امتیازات میں سے ہیں۔ سیاسی قیادت کو جاپان سے سیکھنے کی چیز وہ کفایت شعاری ہے، جس کا ہم نے صرف نام سنا ہے۔جاپان میں جرائم کی شرح بھی نہ ہونے کے برابر ہے جس پر یقینا پنجاب کی قیادت نے خصوصی توجہ کی ہو گی جہاں اس کا حجم ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اُمید ہے کہ پنجاب کی سیاسی قیادت اور ان کے عملے نے اس کے علاوہ بھی بہت کچھ جاپان کے دورے سے سیکھا ہو گا اور اب ہم ذمہ داران میں نظم و ضبط، وقت کی پابندی، کفایت شعاری ، امانت و دیانت ، اور عوام کے حقوق اور ان کے تحفظ کے حوالے سے نئے دور میں داخل ہوںگے۔
77
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل