77

انسان نما درندے اور تماشائی معاشرہ نسیم شاہد

ڈیلی دومیل نیوز.ہر روز ایک ایسا واقعہ ہو جاتا ہے، جس سے اس معاشرے کے انسانی معاشرہ بننے کی رہی سہی امید بھی ختم ہو جاتی ہے۔ رائے ونڈ روڈ پرپیش آنے والا واقعہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں، بیسیوں لوگ دوبھائیوں کو اذیت ناک تشدد سے موت کا شکار ہوتے دیکھتے رہے اور کسی نے آگے بڑھ کر دست قاتل کی اس وحشت و بربریت کو نہیں روکا جو عرش تک ہلا دیتی ہے۔ کیا ہم واقعی اذیت پسند تماشائی معاشرہ بن گئے ہیں ۔ کیا ہمیں ایسے مناظر میں لذت محسوس ہونے لگی ہے جن میں نہتے انسانوں کو ایک وحشی ہجوم بے دردی سے مار رہا ہوتا ہے۔ کسی ویرانے میں یہ سب کچھ ہوتا تو شاید اذیت اور دکھ کی شدت وہ نہ ہوتی جو مانگا منڈی کے اس واقعہ میں دیکھنے کو ملی۔ وہ لمحہ تو جگرچیرگیا جب ایک زخمی بھائی دوسرے زخمی بھائی کے سرکو گود میں لئے بیٹھا ہے اور پیچھے سے ہجوم کو چیرتے ہوئے آکر درندہ صفت آدمی کرکٹ بیٹ سے اس کے سر پر ضرب لگا کر اسے بھی ڈھیر کر دیتا ہے۔ شکر ہے اس موقع پر تماشائی عوام نے تالیاں نہیں بجائیں، وگرنہ ہمارے درندہ ہونے پر مہر تصدیق ثبت ہو جاتی ، یہ تو ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ لوگ اپنا انصاف آپ کرتے ہیں، کسی چور کو پکڑلیں یا ڈاکو کو اسے مار مار کے جان نکال لیتے ہیں اس کی ایک وجہ سمجھ میں بھی آتی ہے کہ عوام نظام انصاف سے مایوس ہو چکے ہیں اس لئے قانون کو ہاتھ میں لے کر خود ہی فیصلے کرتے ہیں،مگر صاحب، یہ رائے ونڈ کے واقعہ میں تو ایسا کچھ نہیں تھا۔ ایک معمولی سی بات تھی کہ کھلے پیسے نہ ہونے سے کیلے واپس لینے کا معاملہ تھا، عدم برداشت اور بدمعاش ذہنیت کا عالم ملاحظہ فرمائیں اس کے نتیجے میں دو باتیں چلی گئیں۔ اس ملک میں جو جتنا غریب ہے وہ اندر سے اتنا ہی بڑا بدمعاش، بلکہ ظالم درندہ بھی ہے۔ گھر میں کھانے کو روٹی نہیں ہوتی مگر باہر ان کے اندر کا مولا جٹ قابو میں نہیں رہتا۔ یہ ریڑھی والے بھی نجانے کس تربیت گاہ سے نکلتے ہیں، رعونت، تکبر اور لہجے کی سختی ان کے اندر سے ایسے نکلتی ہے جیسے پریشر ککر سے بھاپ نکلتی ہے۔ میری طرح آپ کو بھی تجربہ ہوا ہوگا کہ ذرا سی یہ بات کہہ دی کہ مہنگے بیچ رہے ہو، یا گلے ہوئے سیب نہ ڈالو، تو وہ آپ کے گلے پڑ جائے گا۔ آپ نے آگے سے بولنے کی گستاخی کر دی تو پھر وہی ہوگا جو مانگا منڈی میں رائے ونڈ روڈ پر ہوا۔
تماشائی معاشرے کی بدترین شکل یہ ہے کہ لوگ مر رہے ہوں اور آپ نیرو کی طرح بانسری تو نہ بجائیں البتہ ویڈیو بنا رہے ہوں۔ ویڈیو بننی چاہیے کہ اس سے بڑا ثبوت مل جاتا ہے مگر درجنوں افراد اگر صرف ویڈیو بنا رہے ہوں اور ظالم درندوں کا ہاتھ نہ روکیں تو یہ سفاکانہ بے حسی اور ظلم میں شامل ہونے کے مترادف ہے۔ اس واقعہ میں تو اسلحہ بھی استعمال نہیں ہوا کہ جس کے ڈر سے لوگ مدد کو نہ آئے، اس میں لاٹھیاں اور بیٹ استعمال ہوتے رہے۔پھر بھی کسی کو آگے بڑھ کر ان وحشی ظالموں کو روکنے کا خیال نہیں آیا۔ روزانہ ایسی ویڈیوز دیکھنے میں آتی ہیں کہ نہتے لوگوں، حتیٰ کہ بچوں کو وحشی اور ظالم درندے بُری طرح تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ساتھ درجنوں افراد کھڑے تماشا دیکھ رہے ہیں، آگے بڑھ کر ظالم کا ہاتھ روکنے کی باتیں تو اب خواب و خیال ہوگئیں، بندہ ایسے مارتے ہیں جیسے چڑیا مار دی ہو۔ یہ بے خوفی اور درندگی آخر کیسے اس معاشرے میں آ گئی۔ ایک طرف معاشرہ بے جان ہو گیا ہے اور دوسری طرف لوگوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے جو چاہے کرو قانون تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ آج کل یمن کی ایک ویڈیو بہت دیکھی جا رہی ہے جس میں ریپ کے ایک مجرم کو سرعام گولی مارنے کے مناظر ہیں۔ بہت سے لوگ تنقید بھی کررہے ہیں کہ اس طرح سزا دے کر معاشرے میں خوف پھیلایا گیا ہے اور انسانی زندگی کی بے توقیری بھی کی گئی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے امیر کا یہ بیان پوری دنیا تک پہنچ چکا ہے کہ دنیا میں اگر کہیں عورتیں سونا پہن کر رات گئے بازاروں میں پھر سکتی ہیں تو وہ ملک متحدہ عرب امارات ہے۔ کیا آپ کو علم ہے متحدہ عرب امارات، قطر یا سعودی عرب میں ایسا واقعہ رونما ہونا ناممکن ہے کہ بھرے ہجوم میں چند افراد کسی کی جان لے رہے ہوں اور لوگ تماشائی بنے کھڑے ہوں۔ یہ سب کچھ توہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہوتا ہے۔ درندوں کے جنگل میں بھی جو نہیں ہوتا وہ ہمارے بازاروں، محلوں اور گلی کوچوں میں ہوجاتا ہے۔ اب لوگ اگر کہہ رہے ہیں کہ مانگا منڈی کے واقعہ میں جو افراد تماشائی بنے کھڑے تھے، وہ بھی برابر کے شریک ہیں۔ ایک ہوتا ہے اعانت جرم اور ایک ہوتی ہے جرم کی حمایت،ہم لوگ خاموش تماشائی بن کر جرم کی حمایت کررہے ہیں۔
اب دو بھائی توچند منٹوں میں دنیا سے چلے گئے، لیکن مارنے والوں کے خلاف مقدمے چلیں گے اور چلتے رہیں گے جس غریب باپ کے دو بیٹے دنیا سے رخصت ہوئے اسے شاید انصاف لینے کے لئے اپنا گھربار بیچنا پڑے۔ یہ لولالنگڑا عدالتی نظام مجرموں کی افزائش اور حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے، اسی سے مجرموں کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔ صرف عوام ہی تماشائی نہیں ہمارا قانون بھی اب تماشائی بن کر رہ گیا ہے۔ جہاں قانون نہ رہے وہاں درندگی پروان چڑھتی ہے۔ انسانی جان اپنی وقعت کھو دیتی ہے۔ ہر بندہ اپنے فیصلے آپ کرنے لگتا ہے۔ دیکھا جائے تو ہم نے معاشرے کو ایک درندہ صفت سماج بننے کے لئے پوری پوری سہولت فراہم کی ہے، کروچ نے کہا تھا انسان اگر بہت بڑا تخلیق کار ہے تو بہت بڑا درندہ بھی اس کے اندر موجود ہے۔ اگر اس کی درندگی کے آگے قانون کا بند نہ باندھا جائے تو اس سے زیادہ خطرناک کوئی درندہ نہیں ہوتا۔ تو ہم نے تمام بند ہٹا دیئے ہیں درندوں کو کھلا چھوڑ دیا ہے اور خود بے حس، ظالم تماشائی بن کر رہ گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں