ڈیلی دومیل نیوز.اس بار تو بڑی شدید بارشیں ہوئیں۔ ساون بھادوں کا اتنا بھرپور موسم میں نے پہلی بار دیکھا۔ معاملات ٹھیک رہتے، اگر بھارت کی جانب سے دریاؤں میں بڑی مقدار میں پانی نہ چھوڑ دیا جاتا۔ برسات کی بارشوں کو تو سنبھالا جا سکتا تھا، لیکن ناگہانی سیلابی ریلوں نے ساری تیاریوں کو ملیامیٹ کر کے رکھ دیا۔ پتا نہیں بھارت نے اتنا پانی کہاں چھپا کر رکھا ہوا تھا جو یکدم چھوڑ دیا۔ سیلاب نے پورے سیٹ اپ، زندگی کے پورے تال میل کو تباہ کر دیا ہے۔ درجنوں انسانی ہلاکتیں ہوئیں، ہزاروں جانور دریا برد ہو گئے، سیلابی ریلوں نے گاؤں کے گاؤں نیست و نابود کر دیے۔ فصلوں کو جو بھاری نقصان پہنچا وہ اس پر مستزاد۔ سماج کے اس تانے بانے کو پھر سے منظم کرنے میں پتا نہیں کتنا وقت لگ جائے۔
سیلاب کے دوران حکومت کی کارکردگی کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ جس منظم انداز میں سیلاب کے خطرے کی زد میں آئے علاقوں سے انسانی انخلا کیا گیا، ان لوگوں کو ریلیف کیمپوں میں رکھا گیا، انہیں اور ان کے بچ جانے والے مویشیوں کو کھانا اور چارہ فراہم کیا گیا، وہ سراہے جانے کے قابل ہے۔ لیکن یہ ایک زمینی حقیقت ہے کہ فصلوں کا نقصان بہت زیادہ ہوا ہے۔ گندم کی فصل تو ابھی بوئی جانی ہے لیکن کاشتہ دھان کو سیلاب اپنے ساتھ بہا لے گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں اب شاید ہم چاول برآمد کرنے کے قابل نہ رہیں بلکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چاول ہماری اپنی ضرورت سے بھی کم ہوں۔ غذائی قلت کے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ڈبلیو ایچ او کی جون میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث غذائیت کی شدید کمی کا مسئلہ بگڑ رہا ہے اور 2030ء تک پائیدار ترقی کے متعلقہ اہداف کے حصول میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔ رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ ان حالات میں ملک کو سالانہ 17 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے جو مجموعی قومی پیداوار کے 6.4 فیصد کے برابر ہے۔ یہ رپورٹ سیلاب آنے سے پہلے کی ہے۔ سیلابوں سے جو تباہی ہوئی ہے اس کو پیش نظر رکھیں تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خوراک کی فراہمی کے حوالے سے ہمارا ملک اس وقت کہاں کھڑا ہے۔ پہلے بھی کہا تھا، بارِ دگر عرض ہے کہ سیلاب زدگان کو ریلیف فراہم کرنے کے بعد جب پانی اتر جائے گا اور متاثرین کو دوبارہ ان کے علاقوں اور گھروں میں بسانے کے عمل کا آغاز کیا جائے تو غذائی قلت کے خطرے کو سامنے رکھ کر پیشگی اقدامات کو ہرگز نہ بھولا جائے، کیونکہ اگر غذائی قلت پیدا ہو گئی تو کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ مہنگائی پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ خوراک کی قیمتیں بڑھیں تو مسائل بڑھ جائیں گے۔
بارش اور سیلاب تو ناگہانی اور قدرتی آفات تھیں جن پر کسی کا کنٹرول نہیں تھا چنانچہ ان کے راستے میں جو کچھ بھی آیا وہ انہیں اپنے ساتھ بہا لے گئے لیکن کچھ معاملات ایسے بھی تھے اور ہیں، جن کو درست نہج پر رکھ کر صورت حال کو گمبھیر ہونے سے بچایا جا سکتا تھا۔ ممکن ہے دوسرے شہروں میں بھی ایسا ہی کچھ ہو، لیکن لاہور کی بات کی جائے تو اس کے کئی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے نام پر بہت سی سڑکیں کُھدی پڑی ہیں۔ نہ ان کو بھرا گیا ہے، نہ ان کی دوبارہ سے تعمیر کی گئی ہے اور نہ ہی مرمت کے لیے کوئی اقدام کیا گیا ہے، چنانچہ مشاہدے میں آتا رہا کہ لوگوں کو اپنے محلوں اور گھروں تک پہنچنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور یہ جو بار بار کہا جاتا ہے کہ تھوڑی سی بارش ہونے سے سڑکیں اور گلیاں ندی کی شکل اختیار کر گئیں تو اس کی ایک وجہ ترقیاتی کاموں کے نام پر شروع کی گئی کھدائی کو ادھورا چھوڑ دینا بھی ہے۔ میں لاہور کے علاقے اچھرہ کی مثال دیتا ہوں جہاں زیر زمین پائپ لائن ڈالنے کے لیے کھدائی کی گئی۔ مین فیروز پور روڈ پر تو اس کی جلد مرمت کر لی گئی اور وہاں ٹریفک معمول کے مطابق چلتی رہی، لیکن فیروز پور روڈ سے ملحقہ اندرونی علاقوں میں جائیں تو وہاں پر ساری سڑکیں اور سارے راستے اسی طرح کھلے اور کُھدے پڑے ہیں اور ان کی کوئی مرمت نہیں کی گئی۔ میرے خیال میں اگر ترقیاتی کام بروقت شروع کیے جاتے تو انہیں برسات کا موسم شروع ہونے سے پہلے مکمل کیا جا سکتا تھا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ہمارے ملک میں ہر کام اس وقت شروع کیا جاتا ہے جب پانی سر سے اونچا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
اب جبکہ برسات کا موسم تقریباً گزر چکا ہے اور آج ہی ڈائریکٹر جنرل پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے کہا ہے کہ مون سون کا دسواں سپیل ختم ہو گیا ہے اور اس کے بعد پنجاب میں کسی بڑی بارش کا امکان نہیں ہے تو مناسب ہو گا کہ متاثرہ لوگوں کی بحالی کی منصوبہ بندی کی جائے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے یہ بھی بتایا ہے کہ دریائے ستلج میں پانی کی سطح ایک دو روز میں نارمل ہو جائے گی اور اب تینوں دریاؤں میں کسی ریلے کی آمد متوقع نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بارشوں کا سلسلہ تھم چکا ہے اور چار سے پانچ دنوں میں بالائی علاقوں میں دیہات کی صورت حال معمول کی طرف آنا شروع ہو جائے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف لاہور بلکہ دوسرے شہروں میں بھی ترقیاتی کاموں کے نام پر کھودی کی سڑکیں دوبارہ سے تعمیر اور مرمت کی جائیں بلکہ برسات کی وجہ سے جو سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں ان پر بیچ ورک بھی کرایا جائے تاکہ ان کو مکمل خراب اور تباہ ہونے سے بچایا جا سکے کیونکہ اگر یہ سڑکیں مکمل خراب ہو گئیں تو یقینی بات ہے کہ ان کی دوبارہ تعمیر اور مرمت پر کئی گنا زیادہ پیسے خرچ ہوں گے جبکہ سیلاب کی صورت حال کا تقاضا یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیسے بچائے جائیں تاکہ سیلاب زدگان کے ریلیف کا کام تیز کیا جا سکے اور پھر ان کی ان کے گھروں میں بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔
کچھ منصوبہ بندی اس حوالے سے بھی ہونی چاہیے کہ آئندہ اگر ہمیں اس طرح کی بارشوں یا سیلابی ریلوں کا سامنا کرنا پڑے تو اس کا زیادہ بہتر انداز میں کس طرح مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ٹھیک ہے ملک میں این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم ایے جیسے ادارے موجود ہیں اور انہوں نے حالیہ بحران میں بہترین کارکردگی بھی دکھائی ہے لیکن چونکہ ہمیں شدید موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سامنا ہے اس سے اب اس سے آگے کے بارے میں پیشگی سوچ لینا خود ہمارے ہی حق میں بہتر ثابت ہو گا۔