اسلام آباد — 23 دسمبر 2025 حکومتِ پاکستان نے قومی ایئر لائن (PIA) کی نجکاری کے عمل کو تیز کر دیا ہے تاکہ آئی ایم ایف (IMF) کی شرائط کے مطابق سال کے اختتام تک اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ نجکاری کمیشن کے حالیہ اجلاس کے بعد، اب میدان میں چند بڑے مقامی اور بین الاقوامی کنسورشیم (Consortiums) رہ گئے ہیں جو پی آئی اے کے اکثریتی شیئرز خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
تازہ ترین پیش رفت (Update Dec 2025)
پچھلی بولیوں میں کم قیمت موصول ہونے کے بعد، حکومت نے قواعد میں کچھ نرمی کی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے۔ اب وفاقی حکومت نے پی آئی اے کے بھاری قرضوں کو “ہولڈنگ کمپنی” میں منتقل کر دیا ہے، جس کے بعد ایئر لائن اب ایک “کلین بیلنس شیٹ” کے ساتھ فروخت کے لیے تیار ہے۔

ممکنہ خریدار (Interested Bidders)
دسمبر 2025 تک، درج ذیل گروپس حتمی فہرست میں شامل بتائے جا رہے ہیں:
- فلائی جناح اور ایئر سیال کا کنسورشیم: مقامی ایئر لائنز کی جانب سے پی آئی اے کو سنبھالنے کی مضبوط خواہش ظاہر کی گئی ہے۔
- بلیو ورلڈ سٹی (Blue World City): جنہوں نے گزشتہ بولی میں بھی حصہ لیا تھا، وہ اپنی پیشکش پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔
- غیر ملکی سرمایہ کار: متحدہ عرب امارات (UAE) اور قطر کے کچھ بڑے گروپ بھی اس عمل کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔
بولی کی شرائط اور حکومت کا ہدف
- حداقل قیمت (Reserve Price): حکومت نے پی آئی اے کی کم از کم قیمت 85 سے 90 ارب روپے کے درمیان رکھی ہے۔
- ملازمین کا تحفظ: خریدار کے لیے یہ شرط لازمی ہے کہ وہ کم از کم 2 سے 3 سال تک ملازمین کو فارغ نہیں کرے گا۔
- بیڑے کی بہتری: نئے مالک کو معاہدے کے تحت پی آئی اے کے بیڑے (Fleet) میں نئے طیارے شامل کرنے ہوں گے۔
معاشی اثرات (Economic Context)
بطور SEO ایکسپرٹ، آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ پی آئی اے کی نجکاری پاکستان کی سٹاک مارکیٹ (PSX) پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔ پی آئی اے کے شیئرز کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ اسی بولی کی خبروں کے گرد گھوم رہا ہے۔