تہران / اسلام آباد (16 اپریل 2026) – الجزیرہ اور عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنے اور ایٹمی پروگرام پر تعطل توڑنے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششیں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ پاکستانی حکام نے تہران میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ایک ‘بڑے بریک تھرو’ کی توقع ظاہر کی ہے۔
🎖️ جنرل عاصم منیر کا دورہ تہران اور اہم پیغام
بدھ کے روز پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت کو امریکی انتظامیہ کا اہم پیغام پہنچایا۔
استقبال: ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں پاکستانی وفد کا استقبال کیا اور مذاکرات کی میزبانی پر پاکستان کے کردار کو سراہا۔
مقصد: اس دورے کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے زمین ہموار کرنا اور ایٹمی تنازع کا حل نکالنا ہے۔
⚛️ ایٹمی پروگرام: تنازع کی بنیاد اور ممکنہ حل
مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کے ایٹمی پروگرام اور یورینیم کی افزودگی (Enrichment) پر پابندی کی مدت ہے۔
یورینیم کا ذخیرہ: ایران کے پاس اس وقت 440 کلوگرام اعلیٰ افزودہ یورینیم موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ذخیرے کو کسی تیسرے ملک بھیجنے یا اسے قدرتی شکل میں واپس لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
مدت کا تعین: امریکہ 20 سال جبکہ ایران 5 سال کی پابندی چاہتا ہے، تاہم پاکستان کی ثالثی میں اب ‘درمیانی راستہ’ نکالنے پر اتفاق ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
📉 پاکستانی سفارت کاری: دو رخی حکمتِ عملی
پاکستان اس وقت “شٹل ڈپلومیسی” کے ذریعے خطے میں امن کے لیے کوشاں ہے:
عسکری قیادت: آرمی چیف تہران میں ایرانی قیادت اور عسکری حکام سے براہِ راست رابطے میں ہیں۔
سیاسی قیادت: وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے دورے پر ہیں تاکہ اس ممکنہ ڈیل کے خلاف اٹھنے والی آوازوں (خصوصاً اسرائیل اورسخت گیر عناصر) کو غیر مؤثر کیا جا سکے۔
🎙️ صدر ٹرمپ کا ردِعمل: “جنگ ختم ہونے کے قریب ہے”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی رات اپنے ایک بیان میں دنیا کو “حیرت انگیز دو دن” کے لیے تیار رہنے کا کہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران کے خلاف جنگ اب ختم ہونے کے قریب ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے بھی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت “مثبت اور جاری” ہے اور اگلے دور کے مذاکرات اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں۔
🌊 تجارتی بحران اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz)
سفارتی کوششوں کے باوجود کشیدگی کے بادل مکمل طور پر نہیں چھٹے۔
امریکی ناکہ بندی: امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
ایرانی دھمکی: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو وہ بحیرہ احمر (Red Sea) اور بحیرہ عمان میں تجارت روک دے گا۔
📊 مذاکرات کے تین اہم نکات (خلاصہ)
| نکتہ | تفصیل |
| ایٹمی پروگرام | یورینیم افزودگی پر 10 سے 15 سال کی پابندی پر اتفاق کی کوشش۔ |
| آبنائے ہرمز | بحری راستوں کو تجارت کے لیے دوبارہ کھولنا اور تیل کی قیمتیں مستحکم کرنا۔ |
| جنگی ہرجانہ | 28 فروری سے جاری جنگ میں ہونے والے نقصانات کی تلافی۔ |