اونلی فینز مالک انتقال 40

اونلی فینز کے ارب پتی مالک لیونارڈ ریڈونسکی کینسر کے باعث 43 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

لندن / فلوریڈا (24 مارچ 2026) – عالمی سطح پر متنازع مگر انتہائی منافع بخش پلیٹ فارم ‘اونلی فینز’ کے مالک لیونارڈ ریڈونسکی (Leonid Radvinsky) کینسر کے خلاف طویل جنگ کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ان کا انتقال پرامن طریقے سے ہوا، اور ان کے اہل خانہ نے اس مشکل وقت میں رازداری (Privacy) کی اپیل کی ہے۔

کامیابی کا سفر اور اونلی فینز کی خریداری

یوکرین میں پیدا ہونے والے اور شکاگو میں پرورش پانے والے ریڈونسکی نے 2018 میں اونلی فینز کو اس کے برطانوی بانیوں (ٹِم اور گائے اسٹوکلی) سے خریدا تھا۔ ان کی ملکیت میں اس ویب سائٹ نے خاص طور پر کووڈ-19 کی عالمی وبا کے دوران بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔

ارب پتیوں کی فہرست: کمپنی کی غیر معمولی ترقی کی بدولت ریڈونسکی صرف تین سال کے اندر ‘فوربس’ کی ارب پتیوں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ ان کی دولت کا تخمینہ 4.7 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

آمدنی کے اعداد و شمار: 2024 کی فائلنگ کے مطابق، کمپنی نے 1.4 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی اور اس کے سبسکرائبرز کی تعداد 37 کروڑ 70 لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔

اونلی فینز: ایک متنازع ماڈل

2016 میں قائم ہونے والا یہ پلیٹ فارم تخلیق کاروں (Creators) کو اپنی ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کرنے اور مداحوں سے ماہانہ فیس یا ٹپس وصول کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اگرچہ یہاں کھانا پکانے اور فٹنس سے متعلق مواد بھی موجود ہے، لیکن یہ ویب سائٹ اپنی “پورن گرافی” اور مداحوں کے ساتھ براہِ راست رابطے (لائیو اسٹریمز اور ذاتی پیغامات) کی وجہ سے مشہور ہے۔

کمیشن ماڈل: کمپنی ہر ادائیگی کا 20 فیصد حصہ اپنے پاس رکھتی ہے، جس نے اسے ڈیجیٹل اکانومی کا ایک بڑا نام بنا دیا ہے۔

سیکیورٹی اور قانونی مسائل

ریڈونسکی کی قیادت میں جہاں کمپنی نے مالی کامیابیاں سمیٹیں، وہیں اسے سخت قانونی جانچ پڑتال کا بھی سامنا کرنا پڑا:

بچوں تک رسائی کا معاملہ: 2024 میں برطانوی ریگولیٹرز نے اس بات کی تحقیقات کیں کہ آیا کم عمر بچے اس مواد تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ اگرچہ تحقیقات ختم کر دی گئیں، لیکن کمپنی پر معلومات کی فراہمی میں ناکامی پر 10 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا گیا۔

غیر قانونی مواد: پلیٹ فارم پر ماضی میں غیر قانونی اور نازیبا مواد سے متعلق بھی الزامات لگتے رہے ہیں۔

مواد پر پابندی کا یوٹرن: اگست 2021 میں دباؤ کے باعث کمپنی نے جنسی مواد پر پابندی کا اعلان کیا تھا، لیکن صارفین اور پرفارمرز کے شدید ردِعمل کے بعد چند ہی دنوں میں یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

ذاتی زندگی اور فلاحی کام

ریڈونسکی نے نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سے معاشیات (Economics) میں ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ ایک “خاموش طبع” شخصیت کے مالک تھے اور اپنی نجی زندگی کو میڈیا سے دور رکھتے تھے۔ اپنی ویب سائٹ کے مطابق، وہ فلاحی کاموں میں بھی پیش پیش تھے اور انہوں نے کینسر کی تحقیق کے لیے مشہور ادارے ‘میموریل سلوان کیٹرنگ کینسر سینٹر’ کو بڑے عطیات دیے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں