واشنگٹن (نیوز ڈیسک | 2 مئی 2026): امریکی فضائیہ نے نارتھروپ گرومین سسٹمز کارپوریشن (Northrop Grumman) کو 488 ملین ڈالر کا ایک بڑا کنٹریکٹ جاری کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت F-16 فائٹنگ فالکن طیاروں میں نصب APG-66 اور APG-68 ریڈار سسٹمز کے لیے طویل مدتی انجینئرنگ اور تکنیکی مدد فراہم کی جائے گی، جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔
عالمی شراکت داری اور فارن ملٹری سیلز (FMS)
یہ معاہدہ امریکی فارن ملٹری سیلز پروگرام کا حصہ ہے اور اس کے تحت فراہم کی جانے والی خدمات 31 مارچ 2036 تک جاری رہیں گی۔ اس پروگرام میں پاکستان کے علاوہ درج ذیل ممالک بھی شامل ہیں:
مشرقِ وسطیٰ و ایشیا: بحرین، مصر، عراق، اسرائیل، اردن، عمان، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا۔
یورپ: ترکیہ، بیلجیم، ڈنمارک، یونان، ہالینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال اور رومانیہ۔
دیگر: چلی اور مراکش۔
686 ملین ڈالر کا اضافی اپ گریڈ پیکیج
یہ نیا ریڈار کنٹریکٹ دسمبر 2025 میں امریکی ڈیفنس سیکورٹی کوآپریشن ایجنسی (DSCA) کی جانب سے کانگریس کو بھیجے گئے اس نوٹیفکیشن کے تسلسل میں ہے جس میں پاکستان کے F-16 بیڑے کے لیے 686 ملین ڈالر کے علیحدہ اپ گریڈیشن پیکیج کی تجویز دی گئی تھی۔ اس پیکیج میں درج ذیل جدید ترین آلات شامل ہیں:
Link-16 ٹیکٹیکل ڈیٹا سسٹمز اور کرپٹوگرافک آلات۔
ایویونکس اپ گریڈ اور محفوظ مواصلاتی آلات۔
درست نیویگیشن سسٹم اور دوست یا دشمن کی شناخت (IFF) کے آلات۔
مقصد اور اثرات
اس پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان کے F-16 طیاروں کی سروس لائف کو 2040 تک بڑھانا اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں امریکی اور دیگر اتحادی افواج کے ساتھ تکنیکی ہم آہنگی (Interoperability) کو بہتر بنانا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، پاکستان نے اس تعاون کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ اس سے طیاروں کی آپریشنل صلاحیتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں مدد ملے گی۔