واشنگٹن / تہران (بین الاقوامی ڈیسک | 21 مئی 2026): امریکی اخبار ‘دی نیویارک ٹائمز’ نے سینیئر امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز پر امریکہ اور اسرائیل کا ایک انتہائی خفیہ اور غیر معمولی منصوبہ تھا جس کے تحت ایران کے سخت گیر سابق صدر محمود احمدی نژاد کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران کا نیا سربراہ بنانا تھا۔ تاہم، یہ جرات مندانہ منصوبہ ‘ناکام’ ہو گیا اور اس وقت احمدی نژاد کہاں اور کس حال میں ہیں، کچھ معلوم نہیں۔
ٹرمپ کا ‘وینزویلا ماڈل’ اور احمدی نژاد کا انتخاب
رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خواہش ظاہر کی تھی کہ ایران کی کمان کسی ایسے شخص کے ہاتھ میں ہونی چاہیے جو “ایران کے اندر سے” ہی ہو۔
وینزویلا ماڈل کی نقل: صدر ٹرمپ وینزویلا کے صدر نکولس مدورو کو اغوا کرنے کے لیے امریکی اسپیشل فورسز کے کامیاب آپریشن اور ان کی جگہ عبوری سربراہ ڈیلسی روڈریگز کے وائٹ ہاؤس کے ساتھ تعاون سے انتہائی پرجوش تھے، اور وہ اسی ماڈل کو ایران میں دہرانا چاہتے تھے۔
ایک متنازع انتخاب: نیویارک ٹائمز کے مطابق، احمدی نژاد کا انتخاب انتہائی حیران کن تھا کیونکہ اپنے صدارتی دور (2005 سے 2013) کے دوران وہ اسرائیل کو “دنیا کے نقشے سے مٹانے” کے بیانات اور امریکہ پر شدید تنقید کے لیے مشہور تھے۔ لیکن حالیہ برسوں میں ان کے ایرانی حکومت کے ساتھ شدید اختلافات پیدا ہو چکے تھے اور وہ نظربند تھے۔ انہوں نے 2019 کے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ کو “عملی انسان” قرار دیتے ہوئے پاکٹ بینیفٹ کی بنیاد پر پاک-امریکہ تعلقات کی وکالت بھی کی تھی۔
‘جیل بریک آپریشن’ جو ناکام ہو گیا
امریکی حکام نے اخبار کو بتایا کہ اس منصوبے کے لیے محمود احمدی نژاد سے مشاورت بھی کی گئی تھی، لیکن جنگ کے پہلے ہی دن سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا:
گھر پر فضائی حملہ: جنگ کے پہلے دن اسرائیل نے تہران میں احمدی نژاد کے گھر پر فضائی حملہ کیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ حملہ دراصل احمدی نژاد کو ایرانی حکام کی نظر بندی سے آزاد کرانے کے لیے ایک “جیل بریک آپریشن” تھا۔
احمدی نژاد کا انکار: احمدی نژاد اس حملے میں زخمی تو ہوئے لیکن بالانشیں بچ گئے۔ اس ہلاکت خیز حملے کے بعد انہوں نے حکومت کی تبدیلی (Regime Change) کے اس امریکی منصوبے سے علیحدگی اختیار کر لی اور تعاون بند کر دیا۔
موجودہ صورتحال: اگرچہ وہ زخمی حالت میں نظر بندی سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے، لیکن اس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں اور ان کے موجودہ مقام یا حالت کے بارے میں امریکی و اسرائیلی انٹیلیجنس کو کچھ علم نہیں۔
مارچ میں “دی اٹلانٹک” جریدے نے بھی احمدی نژاد کے قریبی ساتھیوں کے حوالے سے اس حملے کو ایک خفیہ رہائی آپریشن قرار دیا تھا، جس کی تصدیق اب نیویارک ٹائمز کو بھی مل گئی ہے۔ یاد رہے کہ احمدی نژاد پر حالیہ برسوں میں ایرانی حکومت کی جانب سے کرپشن کے الزامات اور مغرب یا اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔