اسلام آباد (اقتصادی رپورٹ | 20 مئی 2026): پاکستان نے توانائی کے شعبے میں خود کفالت اور ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ وفاقی حکومت نے تقریباً دو دہائیوں کے بعد گہرے سمندر سے ہائیڈرو کاربن (تیل اور گیس) کے ذخائر تلاش کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر ‘پروڈکشن شیئرنگ ایگریمنٹس’ (PSAs) اور ‘ایکسپلوریشن لائسنسز’ (ELs) پر دستخط کر دیے ہیں۔
وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک کی موجودگی میں ‘آف شور بڈ راؤنڈ 2025’ کے تحت کامیاب کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کی توثیق کی گئی، جس سے ملک میں 1 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
معاہدوں کی تفصیلات اور کلیدی حقائق
اس تاریخی بڈ راؤنڈ کے ذریعے پاکستان کے سمندری حدود میں واقع دو بڑے طاس (Basins) کو نشانہ بنایا گیا ہے:
انڈس آف شور بیسن (سندھ کی ساحلی حدود)
مکران آف شور بیسن (بلوچستان کی ساحلی حدود)
شراکت دار کمپنیاں اور بلاکس کی تقسیم
آف شور بڈ راؤنڈ 2025 کے تحت مجموعی طور پر 54,600 مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط 23 آف شور بلاکس ایوارڈ کیے گئے ہیں:
ماری انرجیز لمیٹڈ (Mari Energies): اس پورے عمل میں سب سے متحرک کمپنی بن کر ابھری ہے، جسے 18 بلاکس بطور آپریٹر اور 5 بلاکس بطور جوائنٹ وینچر پارٹنر دیے گئے ہیں۔ (یاد رہے کہ اس راؤنڈ کے دو بلاکس ‘آف شور ڈیپ-سی’ اور ‘آف شور ڈیپ-ایف’ کا معاہدہ 2 دسمبر 2025 کو ماری انرجیز، ٹرکش پٹرولیم اور فاطمہ پٹرولیم کے ساتھ پہلے ہی وزیرِ اعظم آفس میں ہو چکا تھا)۔
او جی ڈی سی ایل (OGDCL) اور پی پی ایل (PPL): دونوں قومی کمپنیوں کو 8، 8 ایکسپلوریشن بلاکس دیے گئے ہیں، جن میں 2، 2 بلاکس بطور آپریٹر شامل ہیں۔
پرائم گلوبل انرجیز: اسے 1 بلاک بطور آپریٹر دیا گیا ہے۔
دیگر کمپنیاں: یونائیٹڈ انرجی پاکستان لمیٹڈ (UEP) اور اورینٹ پٹرولیم کارپوریشن (OPI) بھی جوائنٹ وینچر پارٹنر کے طور پر ان معاہدوں کا حصہ ہیں۔
سرمایہ کاری اور مراحل (Investment & Phases)
ان معاہدوں کے تحت سرمایہ کاری کو دو مختلف مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے:
مرحلہ اول (Phase-I): ابتدائی 3 سالہ لائسنس کی مدت کے دوران کمپنیاں مجموعی طور پر 82 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی۔ اس مرحلے میں وسیع پیمانے پر جیولوجیکل اور جیوفیزیکل سروے، سیسمک ڈیٹا کی اکٹھا کاری (Seismic Data Acquisition) اور ان کا تجزیہ کیا جائے گا تاکہ زیرِ زمین ذخائر کی درست نشاندہی ہو سکے۔
مرحلہ دوم (Phase-II): سروے کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہونے کی صورت میں دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگا، جس میں سمندر کے اندر گہرے کنوؤں کی کھدائی (Drilling) کی جائے گی۔ اس مرحلے تک پہنچنے پر مجموعی سرمایہ کاری 1 ارب ڈالر تک بڑھ جائے گی۔
ملکی معیشت اور ساحلی علاقوں پر اثرات
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ یہ معاہدے پاکستان کے پٹرولیم سیکٹر پر سرمایہ کاروں کے گہرے اعتماد کا مظہر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ:
“آزادی کے بعد سے اب تک پاکستان کے 282,623 مربع کلومیٹر پر محیط وسیع سمندری رقبے میں صرف 18 تلاشی کنویں (Exploratory Wells) کھدائے گئے تھے، جو کہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اب نئے آف شور پٹرولیم رولز اور انویسٹر فرینڈلی ماڈل کے ذریعے اس شعبے کو مسابقتی بنایا گیا ہے۔”
اہم فوائد:
امپورٹ بل میں کمی: اگر تجارتی پیمانے پر تیل یا گیس دریافت ہوتی ہے، تو پاکستان کے اربوں ڈالر کے توانائی امپورٹ بل میں واضح کمی آئے گی۔
روزگار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی: ان منصوبوں سے مقامی سطح پر روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے اور بین الاقوامی ٹیکنالوجی پاکستان منتقل ہوگی۔
سوشل ویلفیئر: تمام کامیاب کمپنیوں نے سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں سماجی بہبود (Social Welfare) اور مقامی آبادی کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے فنڈز فراہم کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کے مطابق، اگلے مرحلے میں دنیا کی بڑی عالمی انرجی کمپنیوں کو شامل کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے، جو پہلے ہی پاکستان کے آف شور ڈیٹا کا جائزہ لے رہی ہیں۔