کیپ ورڈے (نیوز ڈیسک | 10 مئی 2026): ہانٹا وائرس (Hantavirus) کے جان لیوا پھیلاؤ کا شکار ہونے والا لگژری کروز شپ ‘ایم وی ہونڈیئس’ تین مزید مریضوں کے ہنگامی انخلاء کے بعد اب اسپین کے جزائر کینری (Canary Islands) کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔
ہنگامی انخلاء اور عالمی ادارہ صحت کا موقف
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، بدھ 6 مئی کو کیپ ورڈے کے ساحل پر لنگر انداز اس جہاز سے تین افراد کو نکالا گیا، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا بیان: ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر تصدیق کی کہ ان مشتبہ مریضوں کو طبی امداد کے لیے نیدرلینڈز منتقل کیا جا رہا ہے۔
مریضوں کی قومیت: ڈچ وزارت خارجہ کے مطابق، نکالے گئے افراد میں ایک ڈچ، ایک جرمن اور ایک برطانوی شہری شامل ہے، جنہیں یورپ کے مخصوص اسپتالوں میں علاج فراہم کیا جائے گا۔
ہلاکتیں اور وائرس کی قسم
اس وباء کے نتیجے میں اب تک جہاز پر سوار 3 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ متاثرین میں وائرس کی ‘اینڈین اسٹرین’ (Andean strain) پائی گئی ہے۔ یہ اسٹرین اس لحاظ سے خطرناک ہے کہ یہ شاذ و نادر صورتوں میں انسانوں سے انسانوں میں بھی منتقل ہو سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال اور عالمی خطرہ
جہاز کے آپریٹر ‘اوپن وائیڈ ایکسپیڈیشنز’ کے مطابق، ایم وی ہونڈیئس پر اس وقت تقریباً 150 افراد سوار ہیں۔ دوسری جانب، سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے بھی ایک ایسے شخص میں ہانٹا وائرس کی تصدیق کی ہے جو اس جہاز پر مسافر رہ چکا تھا اور اس وقت زیورخ میں زیرِ علاج ہے۔
تاہم، عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ عام عوام کے لیے اس وائرس کا خطرہ تاحال انتہائی کم ہے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔