3

ناسا نے 45 کروڑ نوری سال دور کہکشاں کی شاندار تصویر جاری کر دی، ‘روشنی کا مینار’ قرار

واشنگٹن (سائنس ڈیسک | 9 مئی 2026): خلائی سائنسدانوں نے ایک مرغولہ نما کہکشاں (Spiral Galaxy) کی ایک نئی اور حیرت انگیز تصویر جاری کی ہے، جسے “دھول کے بھنور میں روشنی کا مینار” (a beacon of light in swirls of dust) قرار دیا گیا ہے۔

جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کا نیا شاہکار

یہ تصویر ناسا کی جدید ترین جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اپنے مڈ انفراریڈ انسٹرومنٹ (MIRI) کی مدد سے حاصل کی ہے۔ ناسا کی ٹیم نے جمعرات (7 مئی) کو اس شاندار خلائی منظر کو شیئر کرتے ہوئے ایک متاثر کن پیغام بھی دیا: “کسی کو اپنی چمک ماند نہ کرنے دیں۔ کہکشاں M77 کا مرکز اس درمیانی انفراریڈ تصویر میں پوری کہکشاں کو تقریباً مات دے رہا ہے۔”

کہکشاں M77 (Messier 77) کی تفصیلات

اس تصویر کو ماہ کی بہترین تصویر (Picture of the Month) کا اعزاز دیا گیا ہے۔ کہکشاں M77 کے بارے میں چند اہم حقائق یہ ہیں:

فاصلہ: یہ کہکشاں زمین سے تقریباً 45 کروڑ نوری سال (45 million light-years) کے فاصلے پر واقع ہے۔

مقام: یہ برجِ حوت (Cetus constellation) میں واقع ہے، جسے ‘وہیل’ (the Whale) بھی کہا جاتا ہے۔

خصوصیات: یہ ایک بارڈ اسپائرل کہکشاں (Barred spiral galaxy) ہے جو فلکیات دانوں میں اپنی قربت اور مطالعہ کے لیے شاندار خصوصیات کی وجہ سے مشہور ہے۔

تصویر میں کیا نیا ہے؟

ناسا کے مطابق، جیمز ویب کی اس نئی تصویر میں کہکشاں کے گھومتے ہوئے بازوؤں، اس کی ڈسک میں موجود دھول اور اس کے انتہائی روشن اور چمکدار مرکز کو اس طرح دکھایا گیا ہے جیسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ گیس تیزی سے اس کے مرکزی بلیک ہول کے گرد چکر لگا رہی ہے، جس سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور روشنی خارج ہو رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں