کیلیفورنیا (ٹیکنالوجی ڈیسک | 9 مئی 2026): گوگل نے فٹنس ٹریکنگ کی دنیا میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اپنی نئی ڈیوائس “فِٹ بٹ ایئر” (Fitbit Air) متعارف کروا دی ہے۔ 7 مئی 2026 کو لانچ ہونے والی یہ ڈیوائس گوگل کی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں اب توجہ اسمارٹ واچ کے فیچرز کے بجائے خالصتاً صحت اور فٹنس کی نگرانی پر مرکوز کی گئی ہے۔
ڈیزائن اور خصوصیات: “کم ہی زیادہ ہے”
فِٹ بٹ ایئر کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا اسکرین لیس (Screenless) ڈیزائن ہے۔ اسے خاص طور پر ان صارفین کے لیے بنایا گیا ہے جو اسمارٹ واچ کے نوٹیفیکیشنز سے دور رہ کر خاموشی سے اپنی صحت کا ڈیٹا ٹریک کرنا چاہتے ہیں۔
ڈیزائن: یہ ایک ہلکا پھلکا سینسر ماڈیول ہے جو نرم بُنے ہوئے کپڑے (Woven Fabric) کے پٹے کے نیچے چھپا ہوتا ہے۔
فوائد: اسکرین نہ ہونے کی وجہ سے اس کی بیٹری لائف انتہائی طویل ہے اور وزن نہ ہونے کے برابر ہے، جو اسے سوتے وقت یا سخت ورزش کے دوران پہننے کے لیے بہترین بناتا ہے۔
ڈیٹا سنکرونائزیشن: تمام بائیومیٹرک ڈیٹا (دل کی دھڑکن، نیند، اور سرگرمی) براہ راست فِٹ بٹ موبائل ایپ سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔
قیمت اور مقابلہ: Whoop کے لیے بڑا چیلنج
گوگل نے فِٹ بٹ ایئر کی قیمت صرف 100 ڈالر (تقریباً 28,000 پاکستانی روپے) رکھی ہے، جو کہ اس کے قریبی حریف ‘Whoop’ کے سالانہ اخراجات سے آدھی ہے۔
کوئی لازمی سبسکرپشن نہیں: Whoop کے برعکس، فِٹ بٹ ایئر کو ایک بار خرید کر بغیر کسی ماہانہ فیس کے بنیادی فیچرز کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
گوگل ہیلتھ سبسکرپشن: اگر صارف AI پر مبنی کوچنگ اور جدید تجزیہ چاہتا ہے تو وہ 10 ڈالر ماہانہ کا اختیاری پلان لے سکتا ہے۔
صنعت میں تبدیلی کی لہر
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ لانچ پہننے کے قابل ٹیکنالوجی (Wearable Tech) کی صنعت میں ایک اہم موڑ ہے۔ لوگ اب نوٹیفیکیشنز کے بوجھ سے بچنے کے لیے ایسی سادہ ڈیوائسز کو ترجیح دے رہے ہیں جو پسِ منظر میں رہ کر ان کی صحت کا درست ڈیٹا فراہم کریں۔