مظفر آباد (نیوز ڈیسک | 9 مئی 2026): آزاد کشمیر کی وادی نیلم کے آخری گاؤں تاؤبٹ میں ایک فیملی ٹرپ کے دوران Jaecoo J7 PHEV کے ناکارہ ہونے کا واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے۔ اس واقعے نے پاکستان میں جدید پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں (PHEVs) کی پائیداری اور ان کی مرمت کے اخراجات کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
واقعہ کی تفصیلات اور تکنیکی خرابی
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹس اور گاڑی کے مالک کے عوامی بیان کے مطابق، ہلکی آف روڈنگ کے دوران ایک چھوٹا پتھر گاڑی کے نچلے حصے (underbody) میں موجود بیٹری ہارنس کنیکٹر (Battery Harness Connector) سے ٹکرایا۔ اس معمولی ٹکراؤ کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر ساکت ہو گئی اور اسے پہاڑی علاقے سے نکالنے کے لیے شدید لاجسٹک مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مرمت کی بھاری لاگت اور مالک کی شکایت
گاڑی کے مالک نے دعویٰ کیا ہے کہ سروس سینٹر کی ابتدائی تشخیص کے مطابق متاثرہ حصے کی علیحدہ مرمت ممکن نہیں ہے، بلکہ پورا بیٹری پیک تبدیل کرنا پڑے گا۔
تخمینہ لاگت: بیٹری کی تبدیلی کا تخمینہ تقریباً 13,000 ڈالر (پاکستانی روپوں میں لاکھوں روپے) بتایا گیا ہے۔
مالی و ذہنی دباؤ: مالک کے مطابق وہ ٹوئنگ چارجز اور پہاڑی علاقے سے گاڑی کی واپسی کے عمل میں شدید مالی اور آپریشنل تناؤ کا شکار ہیں۔
مارکیٹنگ بمقابلہ حقیقت: انہوں نے سوشل میڈیا پر چلنے والے مثبت سروس بیانیے اور اپنے ذاتی تجربے کے درمیان واضح فرق پر بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بحث
اس واقعے نے آٹوموبائل کمیونٹیز میں درج ذیل نکات پر ایک وسیع بحث کو جنم دیا ہے:
پروٹیکشن: دشوار گزار راستوں پر ای وی (EV) اور پی ایچ ای وی (PHEV) کے نچلے حصے کی حفاظت (Underbody Protection) کی پائیداری۔
مرمت کے اخراجات: ہائی وولٹیج بیٹریوں کی مرمت کی فزیبلٹی اور اس پر آنے والے بھاری اخراجات۔
آف روڈ صلاحیت: کیا جدید ہائبرڈ ایس یو ویز (SUVs) پاکستان کے کچے اور پہاڑی راستوں کے لیے موزوں ہیں؟
شفافیت: کمپنیوں کی جانب سے آفٹر سیلز سروسز کی ہینڈلنگ میں شفافیت کا فقدان۔
مالک نے تسلیم کیا کہ وہ پہلے ٹویوٹا ایکوا اور کرولا الٹس ایکس جیسی قابل بھروسہ گاڑیوں کے استعمال کے بعد ایک نئے پلیٹ فارم پر منتقل ہوئے، جس میں ان سے انتخاب کی غلطی ہوئی۔ تاحال مینوفیکچرر کی جانب سے اس مخصوص واقعے پر کوئی باضابطہ تکنیکی وضاحت یا عوامی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔