ہانگ زو (نیوز ڈیسک | 3 مئی 2026): چین کی ایک عدالت نے مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے دور میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے اس ٹیک ورکر کے حق میں فیصلہ دیا ہے جسے AI ٹیکنالوجی کے ذریعے متبادل ملنے پر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا تھا۔
کیس کے اہم حقائق
عدالتی کارروائی کے دوران معلوم ہوا کہ ‘ژو’ نامی ایک ٹیک ورکر کو اس وقت برطرفی کا سامنا کرنا پڑا جب کمپنی نے اس کے کام کے لیے مصنوعی ذہانت کا انتخاب کیا۔
کم تنخواہ کی پیشکش: کمپنی نے برطرفی سے قبل ملازم کو ایک کم تنخواہ والی پوزیشن پر منتقل ہونے کی پیشکش کی تھی جسے ژو نے مسترد کر دیا تھا۔
عدالتی موقف: ہانگ زو کی عدالت نے کمپنی کے اس جواز کو باطل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ برطرفی قانونی شرائط جیسے کہ آپریشنل مشکلات یا ڈاؤن سائزنگ کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔
اپیل کی توثیق: ثالثی (Arbitration) اور نچلی عدالتوں میں کامیابی کے بعد، اپیلٹ کورٹ نے بھی ژو کے دعوے کو برقرار رکھا اور کمپنی کی اپیل مسترد کر دی۔
قانونی نظیر اور اہمیت
قانونی ماہرین اس فیصلے کو ایک سنگِ میل قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کیس واضح کرتا ہے کہ:
کمپنیاں AI کو ملازمین کی غیر منصفانہ برطرفی کے لیے بطور ہتھیار استعمال نہیں کر سکتیں۔
ٹیکنالوجی کی آمد کے باوجود لیبر قوانین اور ملازمین کے بنیادی حقوق مقدم رہیں گے۔