1

پاکستان کا ٹیلی کام سیکٹر بڑے موڑ پر: کیا اتصلات (Etisalat) پی ٹی سی ایل کو خیرباد کہہ دے گی؟

اسلام آباد / دبئی (نیوز ڈیسک): پاکستان کے مواصلاتی شعبے میں ایک ایسی ممکنہ تبدیلی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے جو پورے منظر نامے کو بدل کر رکھ سکتی ہے۔ متحدہ عرب امارات کا معروف ٹیلی کام گروپ ‘اتصلات’ (جسے اب e& کہا جاتا ہے)، پی ٹی سی ایل میں اپنی 26 فیصد حصہ داری اور انتظامی کنٹرول کا جائزہ لے رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کا ٹیلی کام سیکٹر اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ساختی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔

اگرچہ پی ٹی سی ایل حکام نے فی الحال کسی حتمی فیصلے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے، لیکن سفارتی اور مالیاتی حلقوں میں اس موضوع پر ہونے والی گفتگو نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔

800 ملین ڈالر کا دیرینہ تنازعہ اور نجکاری کا ادھورا باب

اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے ہمیں 2005 کے اس دور میں جانا ہوگا جب پی ٹی سی ایل کی نجکاری کی گئی تھی۔ اس وقت اتصلات نے 2.6 بلین ڈالر کے عوض کمپنی کا انتظامی کنٹرول سنبھالا تھا، لیکن یہ ڈیل آج بھی مکمل طور پر بند نہیں ہو سکی:

روکی گئی رقم: اتصلات نے معاہدے کے 800 ملین ڈالر اب تک ادا نہیں کیے ہیں۔

وجہِ تنازعہ: اتصلات کا موقف ہے کہ حکومتِ پاکستان اب تک 100 سے زائد جائیدادیں پی ٹی سی ایل کے نام منتقل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

تعطل: دو دہائیاں گزرنے کے باوجود جائیدادوں کی قدر اور ادائیگیوں کے معاملے پر کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا، جو اب اس ممکنہ رخصتی کے پس منظر میں ایک اہم رکاوٹ بن سکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی نئی حکمت عملی اور علاقائی بدلتے حالات

اتصلات کا یہ فیصلہ محض پاکستان تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ متحدہ عرب امارات کی اس نئی عالمی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ اپنی بیرونی سرمایہ کاری کا ازسرِ نو جائزہ لے رہا ہے۔ یو اے ای نے حال ہی میں ‘اوپیک’ (OPEC) سے علیحدگی کا اعلان کیا، جو اس کی “سٹریٹیجک خود مختاری” کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان کے مالیاتی منظر نامے میں بھی تبدیلی آ رہی ہے:

قرضوں کی واپسی: پاکستان نے حال ہی میں یو اے ای کو 3.5 بلین ڈالر کے ڈپازٹس واپس کیے ہیں۔

سعودی عرب کا بڑھتا کردار: متحدہ عرب امارات کی جگہ اب سعودی عرب پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری اور ڈیپازٹس (8 بلین ڈالر تک) بڑھا رہا ہے۔

پی ٹی سی ایل کی ملکیت کا ڈھانچہ

شیئر ہولڈرحصہ داری (Stake)انتظامی حیثیت
حکومتِ پاکستان و دیگر ادارےتقریباً 62 فیصداکثریتی مالکانہ حقوق، لیکن انتظامیہ میں اقلیت
اتصلات (e&)26 فیصداقلیتی حصہ داری، لیکن مکمل انتظامی کنٹرول
نجی سرمایہ کار (PSX)12 فیصدصرف مالیاتی سرمایہ کاری، کوئی انتظامی کردار نہیں

کامیابی کے عروج پر رخصتی کا تضاد

کارپوریٹ نقطہ نظر سے اس فیصلے کی ٹائمنگ انتہائی حیران کن ہے۔ پی ٹی سی ایل اس وقت اپنے بہترین دور میں داخل ہو رہی ہے:

منافع میں واپسی: چار سال کے خسارے کے بعد، پی ٹی سی ایل نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 3.1 ارب روپے کا خالص منافع کمایا ہے۔

آمدنی میں اضافہ: کمپنی کی آمدنی میں 58 فیصد اور آپریٹنگ منافع میں 564 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

5G کا آغاز: مئی 2026 میں پاکستان میں 5G کی کمرشل لانچنگ کی تصدیق ہو چکی ہے۔

بڑا انضمام: یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کا انضمام آخری مراحل میں ہے، جس سے ملک کا دوسرا بڑا موبائل آپریٹر وجود میں آئے گا۔

متبادل کون ہوگا؟

اگر اتصلات رخصت ہوتی ہے، تو حکومتِ پاکستان کو ایک ایسے تجربہ کار اسٹریٹجک پارٹنر کی ضرورت ہوگی جو اس پیچیدہ نیٹ ورک کو چلا سکے۔ وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق سعودی ٹیلی کام کمپنی (STC) اور قطر کی Ooredoo ممکنہ طور پر اتصلات کی جگہ لے سکتے ہیں۔ یہ دونوں ادارے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں سرمایہ کاری کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

نتیجہ: اتصلات کی رخصتی کی خبریں محض ایک کمپنی کے فیصلے تک محدود نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل، 5G کے خواب اور ٹیلی نار-یوفون انضمام کی کامیابی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا ٹیلی کام سیکٹر اس غیر یقینی صورتحال کے باوجود اپنی ترقی کی رفتار برقرار رکھ پائے گا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں