اسلام آباد (نیوز ڈیسک | 3 مئی 2026): وفاقی حکومت نے عام پاسپورٹ کی ڈیلیوری کے وقت میں نمایاں کمی کرتے ہوئے اسے 21 دن سے گھٹا کر 14 دن کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے تمام پاسپورٹ دفاتر کو اگلے 15 دنوں کے اندر مکمل طور پر کیش لیس (Cashless) نظام پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
اعلیٰ سطح کا اجلاس اور اہم فیصلے
یہ فیصلے اسلام آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کی۔ اجلاس کے دوران وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ:
نارمل پاسپورٹ کی ڈیلیوری کا وقت اب 21 دن کے بجائے 14 دن ہوگا۔
یہ 14 روزہ ٹائم لائن فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے۔
تمام پاسپورٹ دفاتر کو 15 دن کا وقت دیا گیا ہے کہ وہ نقد رقم کے لین دین کو مکمل طور پر ختم کریں۔
نارمل پاسپورٹ 21 دن سے کم کرکے اب 14 کر دیا گیا
— Ministry of Interior GoP (@MOIofficialGoP) April 30, 2026
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری کی زیر صدارت اجلاس میں شہریوں کی سہولت کیلئے بڑے فیصلے
نارمل پاسپورٹ 21 دن سے کم کرکے اب 14 کر دیا ہے ۔ محسن نقوی
پاسپورٹ دفاتر میں مکمل کیش لیس سسٹم رائج ہوگا۔ pic.twitter.com/dIfhRcwuWL
ایجنٹ مافیا کا خاتمہ اور نئی کیٹیگریز
وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ادائیگیوں کے لیے نقد نظام ختم کرنے سے ایجنٹ مافیا کا راستہ رکے گا اور عام شہریوں کو براہِ راست سہولت میسر آئے گی۔ مزید برآں، اجلاس میں درج ذیل ہدایات بھی جاری کی گئیں:
ایک مخصوص ‘بزنس پاسپورٹ’ کیٹیگری کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔
پاسپورٹ کی ہوم ڈیلیوری کے نظام کو مزید موثر اور فعال بنایا جائے۔
نظام میں بہتری لانے کے لیے ایک مختص ‘پاسپورٹ اتھارٹی’ کا قیام عمل میں لایا جائے۔
پسِ منظر اور بڑھتی ہوئی طلب
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاسپورٹ دفاتر میں طویل قطاروں اور تاخیر کی شکایات عام تھیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، 2022 کے بعد سے پاسپورٹ کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور صرف سال 2023 میں 6.5 ملین سے زائد پاسپورٹ جاری کیے گئے۔