4

اسپیس ایکس کا آئی پی او کائنات کی سب سے بڑی ‘پونزی اسکیم’ ہے؛ معروف ماہرِ معاشیات رابرٹ ریش کا ایلون مسک پر شدید وار

واشنگٹن (اقتصادی ڈیسک): امریکہ کے مشہور ماہرِ معاشیات اور سابق مشیر رابرٹ ریش نے ایلون مسک کی خلائی کمپنی ‘اسپیس ایکس’ (SpaceX) کے حالیہ اسٹاک مارکیٹ ڈیبیو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “کائنات کی سب سے بڑی پونزی اسکیم” (Ponzi Scheme) قرار دے دیا ہے۔ رابرٹ ریش کا کہنا ہے کہ اس آئی پی او (IPO) کی وجہ سے عام امریکی شہری اور سرمایہ کار نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی جمع پونجی کا بڑا حصہ داؤ پر لگانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

آمدن سے 100 گنا زائد ویلیویشن پر سوالات

رابرٹ ریش نے اپنے حالیہ آرٹیکل میں اسپیس ایکس کے مالیاتی ماڈل پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں:

غیر حقیقی قیمت: انہوں نے انکشاف کیا کہ ایلون مسک اسپیس ایکس کے شیئرز کو کمپنی کی سال 2025ء کی مجموعی آمدن (جو کہ 18.7 ارب ڈالر تھی) سے تقریباً 100 گنا زائد مالیت پر اوپن مارکیٹ میں پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مسک کے اس اقدام کو انتہائی پراعتماد لیکن خطرناک (Ballsy) قرار دیا۔

صرف مسک کے نام پر بھروسہ: ماہرِ معاشیات کے مطابق، اسپیس ایکس کے عزائم (جیسے مریخ پر انسانی بستیاں بسانا اور ستاروں کا سفر) خالصتاً مفروضوں اور تخمینوں پر مبنی ہیں، اور یہ آئی پی او کاروباری بنیادوں کے بجائے محض ایلون مسک کی شخصیت پر اندھے اعتماد کا ایک مظاہرہ ہے۔

عام شہریوں کی ریٹائرمنٹ سیونگز داؤ پر لگنے کا خدشہ

آرٹیکل میں سب سے بڑا خدشہ انڈیکس فنڈز (Index Funds) میں سرمایہ کاری کرنے والے عام شہریوں کے حوالے سے ظاہر کیا گیا ہے:

سرمایہ کاروں کی مجبوری: رابرٹ ریش کے مطابق، عام امریکیوں کے پاس اب یہ انتخاب ہی نہیں رہے گا کہ وہ اسپیس ایکس میں پیسہ لگانا چاہتے ہیں یا نہیں۔

پینشن فنڈز کا خطرہ: چونکہ پینشن فنڈز، ریٹائرمنٹ سیونگز اور یونیورسٹیوں کے فنڈز خود بخود مارکیٹ کے بڑے انڈیکس فنڈز میں انویسٹ ہوتے ہیں، اس لیے کروڑوں امریکیوں کی زندگی بھر کی کمائی اب براہِ راست اسپیس ایکس کی مارکیٹ ویلیو کے اتار چڑھاؤ سے جڑ گئی ہے۔

انتظامی ڈھانچے پر تنقید اور سینیٹر الزبتھ وارن کا مطالبہ

رابرٹ ریش نے کمپنی کے اندر ایلون مسک کے یکطرفہ کنٹرول پر بھی کڑی تنقید کی:

ووٹنگ پاور کا فرق: مسک کے پاس موجود ‘کلاس-بی’ (Class-B) شیئرز کی ووٹنگ پاور عام عوام کو دیے جانے والے شیئرز کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ عام شیئر ہولڈرز کے پاس کمپنی کے فیصلوں میں کوئی آواز نہیں ہوگی۔

سیاسی تشبیہ: انہوں نے اس معاملے کو ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی حکومت پر کنٹرول اور ایلون مسک کے حالیہ ‘ڈوج’ (DOGE) ڈیپارٹمنٹ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ ایک ایسے شخص کی مرضی پر چل رہا ہے جس کی انا اور طاقت کی ہوس کی کوئی حد نہیں ہے۔

دوسری جانب، ڈیموکریٹک امریکی سینیٹر الزبتھ وارن (Elizabeth Warren) نے بھی اس آئی پی او کو فوری طور پر مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور سیکیورٹیز حکام کو اسپیس ایکس کی ویلیویشن اور اکاؤنٹنگ میں ممکنہ طور پر “گمراہ کن” یا “غلط” اعداد و شمار کے استعمال کے خلاف خبردار کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں