3

اسٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ: پاکستان میں مالیاتی شمولیت ریکارڈ 69 فیصد تک پہنچ گئی، ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تناسب 70 فیصد تک بڑھ گیا

کراچی (اقتصادی رپورٹ | 3 جون 2026): اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے منگل کے روز ‘نیشنل فنانشل انکلوژن اسٹریٹیجی’ (NFIS 2024-2028) کی پہلی سالانہ پیش رفت رپورٹ برائے سال 2025 جاری کر دی ہے، جس کے مطابق پاکستان نے مالیاتی شمولیت کے تمام بنیادی اہداف کامیابی سے حاصل کر لیے ہیں۔ ملک میں مالیاتی شمولیت کی شرح 2023 کے 64 فیصد سے بڑھ کر 69 فیصد کی سطح پر پہنچ چکی ہے۔

خواتین کی بینکنگ میں شمولیت اور جینڈر گیپ میں کمی

رپورٹ کی سب سے بڑی کامیابی بینکنگ سسٹم میں خواتین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی ہے:

نئے بینک اکاؤنٹس: گزشتہ سال کے دوران بینکنگ سسٹم میں 68 لاکھ نئے یونیک اکاؤنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔

خواتین کا بڑا حصہ: ان نئے کھلے ہوئے اکاؤنٹس میں سے 55 فیصد سے زائد اکاؤنٹس خواتین نے کھلوائے ہیں۔

جینڈر گیپ میں کمی: خواتین کی اس بڑی شمولیت کے باعث فنانشل انکلوژن میں مرد اور خواتین کا صنفی فرق (Gender Gap) 2023 کے 34 فیصد سے کم ہو کر 29 فیصد پر آ گیا ہے۔ اس اسٹریٹیجی کا حتمی ہدف 2028 تک مالیاتی شمولیت کو 75 فیصد تک بڑھانا اور جینڈر گیپ کو 25 فیصد تک لانا ہے۔

زرعی شعبے اور ڈیجیٹل قرضوں میں انقلاب: ‘زرخیز آسان ڈیجیٹل قرضہ’

مرکزی بینک نے دیہی اور کم آمدنی والے طبقے کو معاشی طور پر مستحکم کرنے اور کریڈٹ تک رسائی کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا ہے:

زرعی فنانسنگ کا حصہ: نجی شعبے کے کل قرضوں میں زرعی فنانس کا حصہ 2023 کے 9 فیصد سے بڑھ کر 11 فیصد ہو گیا ہے، جو جون 2028 کے 12 فیصد کے ہدف کے انتہائی قریب ہے۔

پہلا اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹل پلیٹ فارم: ملک کا پہلا بغیر ضمانت (Collateral-free) اور فوری ڈیجیٹل زرعی قرضہ پلیٹ فارم “زرخیز آسان ڈیجیٹل قرضہ” لانچ کیا گیا ہے۔ اس پلیٹ فارم سے ملک بھر کے تمام فصلی کسان فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اب تک کی پیش رفت: اس پلیٹ فارم پر اب تک 21 بینک اور تقریباً 10,000 وینڈرز شامل ہو چکے ہیں، جبکہ 22,339 کسانوں نے رجسٹریشن کروائی ہے اور اب تک 1.9 ارب روپے کے قرضوں کی درخواستیں منظور کی جا چکی ہیں۔

SMEs اور مائیکرو فنانس کی صورتحال

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs): نجی شعبے کے قرضوں میں ایس ایم ای فنانسنگ کا شیئر دسمبر 2023 کے 6 فیصد سے بڑھ کر 8 فیصد ہو گیا ہے (2028 کا ہدف 10 فیصد ہے)۔

مائیکرو فنانس: پرائیویٹ سیکٹر کریڈٹ میں مائیکرو فنانس کا حصہ بغیر کسی تبدیلی کے 5 فیصد پر برقرار رہا۔

کیش کلچر کا خاتمہ: ڈیجیٹل ادائیگیاں 70 فیصد پر پہنچ گئیں

ملک میں نقد رقم (Cash) پر انحصار کم کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے انتہائی مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں:

ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کا راج: پاکستان میں ہونے والی مجموعی لین دین میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا حصہ تیزی سے بڑھ کر 70 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

‘راست پورٹل’ (Raast P2M) کی کامیابی: اسٹیٹ بینک کے انٹرآپریبل پیمنٹ سسٹم ‘راست پرسن ٹو مرچنٹ’ (P2M) کے تحت اب تک 20 لاکھ سے زائد تاجروں (Merchants) کو آن بورڈ کیا جا چکا ہے، جو اب کیو آر کوڈز (QR Codes) کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کر رہے ہیں۔

انوویشن: نئے ڈیجیٹل مالیاتی پروڈکٹس کی حوصلہ افزائی کے لیے مئی 2025 میں ایک ‘ریگولیٹری سینڈ باکس’ بھی قائم کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ، پاکستان اب دنیا کے ان چند ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جو ضلعی سطح پر فنانشل انکلوژن انڈیکیٹرز (جیسے ڈپازٹس، لونز، اور ایکسیس پوائنٹس) کا تفصیلی ڈیٹا اور ڈیش بورڈ جمع کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں