3

پاکستانی روپے کی اڑان: انٹر بینک میں ڈالر اور یو اے ای درہم کے مقابلے میں 20 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

کراچی (اقتصادی رپورٹ | 26 مئی 2026): پاکستان میں سیاسی استحکام اور بڑھتے ہوئے غیر ملکی ذخائر کے مثبت اثرات معیشت پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں پاکستانی روپے نے امریکی ڈالر اور یو اے ای (UAE) درہم کے مقابلے میں گزشتہ 20 ماہ کی بلند ترین سطح حاصل کر لی ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران شدید اتار چڑھاؤ اور ڈالر کی قلت کا سامنا کرنے کے بعد، اب گزشتہ ایک سال سے پاکستانی روپیہ مسلسل استحکام کی جانب گامزن ہے۔

کرنسی مارکیٹ کے تازہ ترین اعداد و شمار

عالمی مالیاتی ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے (xe.com) کے مطابق، پیر کے روز انٹر بینک مارکیٹ میں روپے کی قدر میں درج ذیل نمایاں بہتری دیکھی گئی:

امریکی ڈالر (US Dollar): پاکستانی روپیہ انٹر بینک میں 278 کی سطح سے نیچے آ گیا ہے اور پیر کے روز یہ 277.4 روپے پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔ گزشتہ 10 ماہ کے دوران روپے نے ڈالر کے مقابلے میں 3 فیصد سے زائد کا فائدہ حاصل کیا ہے۔

یو اے ای درہم (UAE Dirham): درہم کے مقابلے میں بھی روپیہ مضبوط ہو کر 75.5 روپے کی سطح پر آ گیا ہے، جو کہ اوورسیز پاکستانیوں اور امپورٹرز کے لیے ایک اہم ترین تبدیلی ہے۔

یاد رہے کہ یہ صورتحال 2023 کے اس دور کے مقابلے میں ایک بہت بڑا متبادل ہے جب روپیہ ملکی تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار ہو کر 300 سے تجاوز کر گیا تھا۔ گزشتہ ایک سال سے روپیہ 270 کے آخری عشرے اور 280 کے اوائل کے درمیان ایک محدود دائرے میں مستحکم ہے۔

روپے کی مضبوطی اور استحکام کی 4 بڑی وجوہات

معاشی تجزیہ کاروں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے مطابق، روپے کی اس تاریخی بحالی کے پیچھے درج ذیل اہم عوامل کارفرما ہیں:

1۔ غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ اضافہ

پاکستان کے کل مائع ذخائر (Total Liquid Reserves) میں گزشتہ ایک سال کے دوران زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اپریل 2025 میں ملک کے کل ذخائر جو کہ 14.75 ارب ڈالر تھے، وہ اس رواں ماہ (مئی 2026) میں بڑھ کر 22.59 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

2۔ آئی سی ایم ایف (IMF) اور سعودی عرب کی مالی معاونت

کرنسی مارکیٹ میں استحکام کی سب سے بڑی وجہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 7 ارب ڈالر کے توسیعی قرضہ پروگرام کے تحت جاری اصلاحات ہیں۔ اسی مہینے آئی ایم ایف کے بورڈ نے تیسرے جائزے کی کامیابی کے بعد پاکستان کے لیے 1.32 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی مالی معاونت نے بھی مرکزی بینک کو مضبوط سہارا دیا۔

3۔ ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (REER) میں بہتری

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق، پاکستان کا ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (REER) مارچ 2026 میں 104.3 تھا، جو اپریل 2026 میں مزید بہتر ہو کر 105.8 پر پہنچ گیا ہے، جو روپے کی حقیقی قوت کو ظاہر کرتا ہے۔

4۔ اسٹیٹ بینک کی سخت مانیٹری پالیسی

مرکزی بینک نے مہنگائی پر قابو پانے اور روپے کو گرنے سے بچانے کے لیے شرحِ سود (Interest Rates) کو بلند ترین سطح پر برقرار رکھا۔ اس اقدام کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے ڈالرز جمع کرنے کے بجائے مقامی کرنسی کے اثاثوں کو ترجیح دی، جس سے مارکیٹ میں ڈالر کی طلب کم ہوئی۔

کرنٹ اکاؤنٹ اور مستقبل کے خدشات

مرکزی بینک کے مطابق، جہاں دیگر معاشی اشاریے مثبت ہیں، وہیں کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس (Current Account Balance) میں مارچ 2026 کے دوران 1.134 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا، جو اپریل 2026 میں تبدیل ہو کر 324 ملین ڈالر کے خسارے (Deficit) میں بدل گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کی وارننگ: ماہرینِ معیشت نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ روپیہ اس وقت مضبوط پوزیشن میں ہے، لیکن آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پر عمل درآمد میں کوئی بھی تاخیر، عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ، یا ملک کی سیاسی و سیکیورٹی صورتحال میں خرابی روپے کو دوبارہ دباؤ میں لا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں