3

ایران کے لیے اب کیا راستہ ہے؟ دانشمندانہ سفارت کاری ہی واحد حل

تحریر: سردار شعیب حیدری (تجزیہ)

مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے فیصلے کن موڑ پر ہے جہاں ایک غلط قدم عالمی امن کو داؤ پر لگا سکتا ہے۔ اس حساس صورتحال میں پاکستان ایک ذمہ دار اور متوازن ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے، جو مذاکرات اور باہمی احترام کے ذریعے تنازعات کے حل کا حامی ہے۔

سفارتی تعطل اور پاکستان کی ثالثی

حالیہ سفارتی کوششوں میں کچھ اہم نکات پر پیش رفت تو ہوئی ہے، لیکن مکمل اتفاقِ رائے تاحال مفقود ہے۔

امریکی موقف: امریکی صدر نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت، خصوصاً آرمی چیف جنرل عاصم منیر (جنہیں مضمون میں فیلڈ مارشل کے خطاب سے نوازا گیا ہے) اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر سیز فائر میں توسیع کا عندیہ دیا ہے۔

سفارتی رکاوٹیں: امریکی نائب صدر کے دورہ پاکستان کی منسوخی اور بیانات میں تضاد نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اعتماد کا فقدان: پیچیدہ سفارتی چالیں اور دونوں ممالک کی اندرونی سیاسی مجبوریاں مذاکراتی عمل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

ایران کے لیے چار نکاتی حکمتِ عملی

مضمون نگار کے مطابق، ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جس جرات کا مظاہرہ کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے، لیکن اب وقت “جرات” کے ساتھ “حکمت” کے استعمال کا ہے۔ ایران کو درج ذیل چار اقدامات کرنے کی ضرورت ہے:

مفاہمت کو ترجیح: محاذ آرائی کے بجائے سفارتی حکمتِ عملی کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہوگا۔ وقتی پسپائی کو کمزوری کے بجائے ایک طویل المدتی “اسٹریٹجک پلان” کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

داخلی ہم آہنگی: ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل اتحاد ناگزیر ہے۔ اندرونی اختلافات بیرونی دباؤ کو مزید تقویت دیتے ہیں۔

علاقائی تعلقات کی بہتری: سعودی عرب اور قطر جیسے اہم علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا ہوں گے تاکہ ایران کو سفارتی تنہائی سے بچایا جا سکے اور خطے میں پاکستان جیسی ریاستوں کے لیے غیر جانبداری برقرار رکھنا ممکن رہے۔

آبنائے ہرمز پر لچک: عالمی معیشت کے لیے اہم اس گزرگاہ پر سخت موقف ایران کو مزید تنہائی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ یہاں لچک دکھانا عالمی دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

پاکستان کا متوازن کردار

پاکستان اس پورے بحران میں ایک مؤثر ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔

ایک طرف ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

دوسری طرف عالمی برادری کے ساتھ توازن برقرار رکھتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

حتمی نتیجہ: جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ نئے بحرانوں کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ ایران اگر اس مرحلے پر تدبر اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرے تو وہ نہ صرف ایک بڑے حادثے سے بچ سکتا ہے بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے بھی استحکام کا باعث بنے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں