ملک عبدالحکیم
یار لوگ ویسے ہی خوبصورت وزیراعظم کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں …
وہ ہر تین حلقوں میں مقبول ہیں ….
چہرے کے بھی نمبر ہوتے ہیں
مل گے
خفیہ نمبر جو اصل اہلیت ہوتی ہے ….کوالیفائی کیا …
عوامی مقبولیت وراثت میں بھی تھی اور خود بھی اس معاملے میں نبض شناس ہیں ..
سو سارے سینیئر دھرے کے دھرے رہ گے …
سیاسی انوسٹر چوہدری یاسین ..
سردار یعقوب لطیف اکبر …
راٹھوراں زا جاتک وزیر اعظم بنڑی گیا…
چیف ایگزیگٹو بننے کے بعد تمام سینیئر کے ہاں بغیر پروٹوکول سکواڈ کے حاضری دی..
اختیارات پریکٹس کرنے کا اختیار زبانی کلامی تفویض کیا..
ممتازحسین راٹھور صاحب کی 1990 والی حکومت میں جوحالات پیدا ہوئے تھے اس طرح کے حالات سے بچنے کے لیے یہ اچھی ابتدا تھی…
مگر…
محدود وقت …مرکزی اور مقامی سینیئر قیادت کو خوش رکھنا … وزراء کی ڈیمانڈز.. ایکشن کمیٹی کےمطالبات … اور سب سے بڑھ کر ایسی اپوزیشن جوقائد ایوان کا ووٹ دینے کے بعد مرکز کے سہارے پورے دم کے ساتھ آمدہ الیکشن میں حکومت بنانے کے لیے موسٹ فیورٹ ہو…ایسے حالات میں بیک وقت سب کومطمئن رکھنا آبنائے ہرمز سے گزرنے کے مترادف تھا ..
…. ان تمام معاملات کو ہینڈل کیسے اور کس طرح کیا جائے ..
وافر بجٹ اس کا حل تھا …
فیصل کو امید تھی مرکز بجٹ دے گا …
بجٹ کے حصول کے لیے ہر روز بادشاہوں کی طرح اعلان ہونا شروع ہوگے..
ن لیگ میدان میں آ گئی…
مرکزی قیادت کو طےشدہ بجٹ کے اندر رہنے کا مشورہ دیا..
ایسے میں انقلابی خیال سمٹ شمٹ کر حلقہ انتخاب تک محدود ہوگے..
بڑے سیاسی اتحادی طارق سعید سے بھی دوریاں ہوگئیں..
اب ہدف ہے
اگلا الیکشن…
جیتنا ہے تو کچھ کرنا پڑے گا ..
فیصلہ کیا چھوٹے موٹے دھڑوں کو ساتھ ملایا جائے..
ہالن اور گردونواح میں جموں کشمیر بینک کے متوقع صدارتی امیدوار ایوب خان کی قبیلے کا دو تین ہزار ووٹ ہے ..
توآئین وقانون بھینس کی آنکھ….
کشمیر بینک شیڈول نہ ہوا نہ سہی ..
شیڈولنگ کی درخواست کے ساتھ جو ایک دوملین دیا ہے فیصل کے سر سے گھمایا ..
یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں …
“تحریک آزادی کشمیر” کے وسیع تر مفاد میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ..
یہ ٹھیک ہے ایوب خان صاحب بطور ایس وی پی ریٹائر ہوئے ہیں 2025 میں کشمیر بینک کے صدر کے لیے ناموزوں قرار دیے گے. سٹیٹ بنک کے کارپوریٹ گورننس فریم ورک کے مطابق صدر کے لئے امیدوار کم از کم ای وی پی بمعہ پانچ سال تجربہ ہونا چاہئے۔
کسی بھی نوکری کے لئے کم از کم کوالیفیکیشن کو پورا کیا جانا لازم ہے .. مگر یہاں بندے کی اہلیت کے مطابق بینک کو لایاجا رہا ہے …
سب مل کے بولو جیے بھٹو ..
ایوب خان صدر لگا دیے گے …
درخواست برائے شیڈیولنگ مسترد ہوجائے گی.
تو پھر کیا فرق پڑےگا ..
اگر ایک ایوب خان پاکستان کا صدر بن سکتا ہے تو دوسرا کشمیر بینک کا کیوں نہیں …
ویسے ہی چائےکی پیالی میں طوفان برپا ہے…
آرڈینینس آرڈینینس ہوتا ہے..
یار یار ہوتا ہے
الیکشن الیکشن ہوتا ہے….