ڈیلی دومیل نیوز، ایران۔امریکہ مذاکرات کسی بھی حتمی معاہدے کے بغیر انجام پذیر ہو گئے کسی نے بھی اپنی فتح کا اعلان نہیں کیا، 21گھنٹے براہِ راست مذاکرات ہوئے،47سال بعد امریکہ و ایران کے درمیان یہ پہلا موقع تھا کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ ملے، اکٹھے بیٹھے،بات چیت کی۔ 1979ء میں امام خمینی کی قیادت میں آنے والے انقلاب نے ایران کی سیاسی، سفارتی اور تمدنی حیثیت بدل ڈالی تھی۔ ایران پہلے امریکی حلیف تھا۔ جدید سیکولر تہذیب کا دلدادہ اور پرچارک،انقلاب کے بعد یہ امریکہ دشمن اور ایرانی اسلامی تہذیب کا مرکز قرار پایا تھا۔ انقلاب کے بعد عربی و عجمی اختلافات نے بھی سر اٹھایا، شیعہ سنی معاملات بھی سامنے آئے۔بحرحال ایران ایک انقلابی ملک کے طور پر سامنے آیا، انقلابی لوگ جو کچھ کرتے ہیں ایران میں کیا گیا تباہی دورِ حکمران کے نشانات مٹانے اور اس نظام سے وابستہ لوگوں کو نشانِ عبرت بنانے کا عمل شروع ہوا۔ایران پر عالمی پابندیاں عائد کر دی گئیں اس کے اثاثے ضبط کر لئے گئے،اس کی تعمیر و ترقی کی راہیں مسدود کر دی گئیں آٹھ سال تک اس پر عراقی جنگ مسلط رہی، ہزاروں نہیں لاکھوں انسانی ہلاک و مجروح ہوئے،لیکن ایرانیوں نے ہمت نہیں ہاری،اپنے انقلاب کی حفاظت کی۔ امریکہ و اقوام مغرب نے ایران کو ہمیشہ زیر دباؤ رکھنے اور ایک طاقتور قوم بننے سے روکنے کی عملی کاوشیں کیں۔ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کیں تاکہ ایران ایک طاقتور قوم نہ بن سکے۔ایران پر جنگ بھی مسلط کی گئی۔ ایران اسرائیل کے حربی و ضربی نشانے پر رہا،ایران نے بھی مشرق وسطیٰ میں مسلکی بنیادوں پر کئی جنگجو گروہ قائم کئے ان کی سرپرستی کی اور انہیں اپنے طے شدہ اہداف کے حصول کے لئے استعمال کیا۔ حالیہ جنگ بنیادی طور پر ایران۔اسرائیل جنگ تھی لیکن اسرائیلی کاوشوں کے نتیجے میں یہ ایران۔ امریکہ جنگ بن گئی۔ ابتداً یہ جنگ اسرائیل نے ایران پر مسلط کی امریکہ،اسرائیل کے معاون کے طور پر اِس میں شریک تھا، بالکل ایسے ہی جیسے حماس، اسرائیل جنگ تھی جس میں امریکہ اور دیگر اقوام مغرب اسرائیلی ظلم و ستم میں اس کی ممدو مددگار تھیں۔ اسرائیل نے امریکی تعاون سے حماس کی حربی و ضربی طاقت کا ہی کچومر نہیں نکالا بلکہ غزہ کو ایک قبرستان میں تبدیل کر دیا۔اب غزہ رہنے کے قابل نہیں ہے۔اسرائیل،ایران کو بھی کچھ ایسا ہی کرنے کے لئے نکلا تھا،ایران کی حربی و ضربی صلاحیت ختم کرنے کے لئے اس پر حملہ آور ہوا اس دفعہ حتمی وار کرنا تھا اس لئے حکمت عملی کے تحت امریکہ کو آگے کر دیا گیا خود اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کو ختم کرنے کے مشن کی تکمیل پر لگ گیا۔رجیم چینج،ایٹمی صلاحیت کے خاتمے،میزائل و ڈرون پروڈکشن کو محدود کرنے اور ایسے ہی دیگر اعلان کردہ عزائم کی تکمیل کے لئے اسرائیل و امریکہ ایران پر حملہ آور ہوئے۔ 40روزہ جنگ میں امریکہ نے ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ صف ِ اول کی قیادت کو نشانے باندھ کر مارا۔ عسکری تنصیبات پر تاک تاک کر نشانے لگائے۔ شہری املاک کو برباد کیا، تاریخی تباہی کی لیکن ایران نے بھی جنگ کو آخری جنگ سمجھ کر لڑا۔ایران کے پاس نہ فضائیہ تھی اور نہ ہی فضائی حملوں سے بچنے کا کوئی دفاعی نظام۔ ایران نے اپنے میزائلوں اور ڈرونز کے حکیمانہ استعمال کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکی اڈوں پر حملے کئے،29 جنگی اڈے ایرانی میزائلوں کے حملوں سے خالی ہو گئے۔عرب ممالک میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ سرمایہ کار ہی نہیں شرفاء و امراء عرب نے اپنے اپنے ممالک کو چھوڑنے میں ہی عافیت سمجھی۔ عرب دنیا میں بے چینی و بے یقینی بڑھتی چلی گئی۔ اس دوران ایک بات واضح ہونے لگی کہ امریکی فوجی اڈے عربوں کے لئے باعث زحمت ہیں وہ ان کی حفاظت نہیں کر سکتے،بلکہ امریکہ صرف اور صرف اسرائیل کی حفاظت کا ذمہ دار ہے عربوں کا نہیں۔ ایرانی میزائلوں نے اسرائیل میں گھس کر تباہی مچائی۔اسرائیل نے پہلی دفعہ اتنی مہیب تباہی کا سامنا کیا۔ اسرائیل کے تمام دفاعی نظام دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اسرائیل کی عسکری اور حربی و ضربی برتری کا بھانڈہ پھوٹ گیا۔دنیا کو پتہ چلا کہ اسرائیل کو عسکری طور پر نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ مسلمانوں کو پتہ چلا کہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹایا جا سکتا ہے۔اسرائیل اتنا بڑا بدمعاش نہیں ہے جتنا اس کے بارے میں تصور قائم کیا گیا تھا۔ امریکی حمایت کے بغیر اس کی سلامتی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی،بہرحال پاکستان کی سفارتی کاوشوں کے باعث فریقین مذاکرات کی میز پر بیٹھے، 21گھنٹے مذاکرات ہوئے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا، کوئی بھی فاتح نہیں بن سکا، کوئی مفتوح نہیں بن سکا۔ مذاکرات ختم نہیں ہوئے کسی فریق نے خاتمے کا اعلان نہیں کیا،پاکستان ایک فاتح کے طور پر میدان میں موجود ہے، مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لئے کاوشیں جاری ہیں پاکستان کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے، فریقین پاکستان کے صدقے اور واری جا رہے ہیں۔ خطہ حالت ِ جنگ میں ضرور ہے امریکہ من مانی کر رہا ہے امریکہ کی عالمی سفارتی حیثیت کمزور ہوتی نظر آ رہی ہے جبکہ ایران تباہی و بربادی کے باوجود باوقار انداز میں کھڑا ہے۔ آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر کے ایران نے اپنی فاتحانہ پوزیشن مستحکم کر لی ہے پوری دنیا میں زلزلہ برپا ہے،تیل کی منڈی میں ہلچل ہے عالمی معیشت میں پریشانی کا عالم ہے امریکی اتحادی اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں، نیٹو نے اس جنگ میں امریکی اتحادی بننا قبول نہیں کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں بھی کوئی ملک امریکہ کے ساتھ نہیں ہے۔امریکی عوام اِس جنگ کو اسرائیلی جنگ قرار دے رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اِس جنگ سے امریکہ کا کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی اخلاقی حیثیت بھی مشکوک ہو چکی ہے۔
5
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل