2

عطا آباد جھیل کا جغرافیائی منظرنامہ تبدیل: فیروزی پانی پیچھے ہٹنے سے ہنزہ میں نئی خشک زمین نمودار، ماہرینِ ماحولیات متفکر

ہنزہ (رپورٹ: ماحولیاتی امور ڈیسک | 1 جون 2026): پاکستان کے شمالی علاقے کا سب سے دلکش اور مشہورِ زمانہ سیاحتی مقام، عطا آباد جھیل، اس وقت ایک گہرے ماحولیاتی اور جغرافیائی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ جھیل کا وہ آئیکونک فیروزی (Turquoise) پانی جو کبھی کناروں تک ٹھاٹھیں مارتا تھا، اب تیزی سے پیچھے ہٹ رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے اطراف خشک زمین کے بڑے حصے اور نئے زمینی ڈھانچے (Land Formations) واضح طور پر نمایاں ہو گئے ہیں۔

عطا آباد جھیل کا پسِ منظر اور حالیہ تبدیلیاں

جھیل کا وجود: یہ خوبصورت جھیل قدرتی طور پر موجود نہیں تھی، بلکہ جنوری 2010 میں ہنزہ کے مقام پر آنے والے ایک خوفناک اور بڑے لینڈ سلائیڈ (صحرائی تودے) کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی، جس نے دریا کا راستہ روک دیا تھا۔

سیاحتی مرکز: اپنے قیام کے بعد سے یہ جھیل اپنے گہرے نیلے پانی اور اردگرد کے فلک بوس پہاڑوں کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے توجہ کا مرکز بن گئی، جس نے گلگت بلتستان کی معیشت اور سیاحت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا۔

موجودہ صورتحال: حالیہ مہینوں کے دوران جھیل میں پانی کی سطح میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ جہاں کبھی گہرا پانی لہراتا تھا، اب وہاں ریتلی اور پتھریلی خشک زمین پھیلتی جا رہی ہے، جس نے وادی کے روایتی خط و خال کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

مقامی آبادی کے خدشات اور ماحولیاتی اثرات

جھیل کے کناروں پر پانی کے بجائے مٹی اور چٹانوں کے ابھرنے سے مقامی آبادی اور وہاں آنے والے سیاحوں میں تجسس کے ساتھ ساتھ گہری تشویش بھی پیدا ہو گئی ہے:

طویل مدتی ماحولیاتی اثرات: ماہرین کا ماننا ہے کہ گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں تبدیلی، پانی کی آمد و رفت کے قدرتی راستوں کا بدلنا اور جھیل کے نیچے سلٹ (مٹی اور گاد) کا جمع ہونا اس پانی کے کم ہونے کی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

مقامی سیاحت کو خطرہ: اگر پانی اسی رفتار سے پیچھے ہٹتا رہا تو بوٹنگ، واٹر اسپورٹس اور جھیل کی قدرتی خوبصورتی متاثر ہو سکتی ہے، جو کہ براہِ راست مقامی ہوٹل انڈسٹری اور روزگار پر اثر انداز ہوگی۔

مستقبل کا جمود: یہ تبدیلیاں اس قدرتی لینڈ مارک کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہیں کہ آیا یہ جھیل بتدریج اپنے اصل دریا کے بہاؤ میں واپس بدل جائے گی یا کوئی نیا جغرافیائی رخ اختیار کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں