ڈیلی دومیل نیوز،اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ روکنے کے لیے قائدانہ سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
سردار مسعود خان نے ایک ٹی ی انٹرویو کے دوران تیزی سے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ثالثی کی جاری کوششوں کی ناکامی مشرق وسطیٰ کو طویل عدم استحکام اور معاشی بدحالی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔انہوں نے موجودہ صورتحال کو “انتہائی نازک”قراردیا۔سردارمسعود خان نے کہا کہ مصر، ترکیے، سعودی عرب اور پاکستان سمیت ممالک ثالثی کی کوششوں میں سرگرم عمل ہیں۔ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں کو آسان بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی رسائی اور ڈپلومیسی تیز ی سے جاری ہے، سینئر پاکستانی قیادت کشیدگی کو کم کرنے اور بات چیت کوجاری رکھنے کیلئے کوشاں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سب سے مشکل رکاوٹوں میں سے ایک آبنائے ہرمز کی مستقبل کی حیثیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اسٹریٹجک طور پر اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول اور حفاظتی انتظامات کے حوالے سے ایک مضبوط موقف اپنایا ہے، جس سے تنازعے کے تصفیہ کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے جارحانہ بیانات سے اعتماد مجروح ہو رہا ہے اور کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ سردار مسعود نے کہاکہ ایران اپنے موقف پر قائم ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن شہری مقاصد کے لیے ہے جو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلا کے معاہدے کے تحت اس کا جائز حق ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ 2015 کے جوہری معاہدے نے سفارت کاری کے لیے ایک اہم فریم ورک فراہم کیا تھا اور تجویز پیش کی تھی کہ مستقبل میں مذاکرات دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول اضافی ضمانتوں اور تحفظات کے ساتھ اس انتظام پر استوار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بامعنی پیشرفت کے لیے اقتصادی پابندیوں سے نجات اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی سمیت باہمی سہولتوں کی ضرورت ہوگی۔ مسعود خان نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں مسلسل تباہی اورہمسایہ علاقوں میں فوجی کارروائیوں نے علاقائی امن و استحکام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
1