ڈیلی دومیل نیوز،سرینگر: بین الاقوامی انسانی قانون کی ایک اور وحشیانہ خلاف ورزی کرتے ہوئے، بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کولگام میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران کشمیری شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا، جس کے نتیجے میں ایک مقامی دیہاتی ریچھ کے حملے میں شدید زخمی ہوگیا۔
دمہال حانجی پورہ کے علاقے کھل کے رہائشی محمد جہانگیر ملک 13 مئی کو بھارتی فوج کی 9راشٹریہ رائفلزاور بھارتی فورسزکے اہلکاروںنے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک پہاڑی غار میں داخل ہونے پر مجبورکیا،جہاں موجود ریچھ نے اس پرحملہ کر دیا۔جہانگیر زخمی حالت میں سرینگر کے صورہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں زیر علاج ہے۔جہانگیر ملک نے بھارتی نیوز پورٹل دی وائر کو بتایا کہ بھارتی فوج نے ، مبینہ طور پر “عسکریت پسندوں” کی تلاش کیلئے ان کے گائوں کا محاصرہ کیااور اسے، تقریبا دس دیگر مقامی نوجوانوں کے ساتھ، حراست میں لیکرایک فوجی گاڑی میں ایک پہاڑی علاقے میں لے جایا گیا، جہاں انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ فوجی چھوٹے چھوٹے یونٹوں میں بٹ گئے، ہر ایک شہری کو ساتھ لے گئے اور اسے ویڈیو کال کے ذریعے ایک ٹارچ اور ایک سپاہی سے منسلک اسمارٹ فون دے کر ایک تاریک غار میں جانے پر مجبور کیا۔ غار کے اندر جنگلی جانوروں کی موجودگی کے بارے میں فوجیوں کو خبردار کرنے کے باوجود،جہانگیر ملک نے کہا کہ انہیں اندر جانے کا حکم دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فوجیوں نے انہیں گالیاں دیں اور اندر جانے کا حکم دیا جبکہ فوجی خود غار سے محفوظ فاصلہ پر تھے ۔غار میں داخل ہونے کے چند لمحوں بعد، ملک پر ایک جنگلی ریچھ نے حملہ کیا، جس نے اس کے چہرے، سر اور ایک ٹانگ کو شدید نقصان پہنچایا۔ اسے متعدد چوٹیں آئیں۔اسے ابتدائی طور پر کولگام کے ایک ہسپتال لے جایا گیا اور بعد ازاں صورہ ہسپتال، سرینگر ریفر کیا گیا، جہاں اس کی سرجری کی گئی۔اس واقعے نے ایک بار پھر بھارتی فوجیوں کی طرف سے کارروائیوں کے دوران کشمیری شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پرمسلسل استعمال کو بے نقاب کر دیا ہے، یہ عمل بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ممنوع ہے اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے آئین کے تحت اسے جنگی جرم قراردیاگیا ہے ۔انسانی حقوق کے ماہرین ے کہا کہ یہ واقعہ مقبوضہ کشمی رمیں بھارتی فورسز کے اہلکاروں کو حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزیوں پرحاصل استثنیٰ کی عکاسی کرتا ہے، جہاں شہریوں کو نام نہاد سیکورٹی آپریشنز کی آڑ میں سنگین خطرات، ہراساں کیے جانے اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
1